جنگ کا زور کم ہوتا گیا اور پھر  ایک دن مکمل جنگ بندی ہو گئی، گلی گلی ترانے گاتے بچے خاموش ہو گئے اور دوبارہ ہندوستانی فلمی گانوں کی طرف لوٹ آئے

جنگ کا زور کم ہوتا گیا اور پھر  ایک دن مکمل جنگ بندی ہو گئی، گلی گلی ترانے ...
جنگ کا زور کم ہوتا گیا اور پھر  ایک دن مکمل جنگ بندی ہو گئی، گلی گلی ترانے گاتے بچے خاموش ہو گئے اور دوبارہ ہندوستانی فلمی گانوں کی طرف لوٹ آئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:117
 وقت کیساتھ ساتھ جنگ کا زور کم ہوتا گیا اور پھر ایک دن مکمل جنگ بندی ہو گئی۔ گلی گلی قومی ترانے گاتے ہوئے بچے خاموش ہو گئے اور دوبارہ ہندوستانی فلمی گانوں کی طرف لوٹ آئے۔ عام لوگ بھی روزمرہ کی زندگی میں مشغول ہو گئے۔ جنگ آہستہ آہستہ ذہنوں سے محو ہوتی گئی۔ اب صر ف انھی لوگوں کے ہاں اس کا تذ کرہ ہوتا تھا جن کے پیارے اپنے گھروں کو واپس نہ آ سکے تھے اور دور کہیں محاذوں پر اپنا جسم اور جان نچھاورکر گئے تھے۔
میرا ارادہ تھا کہ میں یہاں سے فارغ ہو کر جرمنی سے انجینئرنگ کرلوں، یہ فیصلہ کیوں کیا،مجھے خود بھی علم نہیں کیونکہ ان دنوں برطانیہ جانا اتنا ہی آسان تھا جیسے آپ کراچی سے لاہور جاتے ہوں۔ شاید اس لیے کہ میں ہٹلر کی بہادری کا بڑا مداح تھا کہ کس طرح وہ اکیلا ہی ساری دنیا سے ٹکرا گیا تھا۔ ان دنوں جنگ کی وجہ سے بھی خیالات تھوڑے اس کی حمائت میں ہی جاتے تھے۔جرمنی کی یونیورسٹیوں سے خط و کتابت ہوئی تو کہا گیا کہ داخلے کے لیے یہاں کی زبان آنا چاہیے۔ میں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جرمن زبان کی کلاسوں میں بھی جانا شروع کر دیا تھا جس کا انتظام گوئٹے انسٹیٹیوٹ بلا معاوضہ کرتا تھا۔ وہاں پہلی دفعہ جرمن لوگوں سے میل ملاپ ہوا۔ بعد میں ان سے بڑا کچھ پڑھا اور سیکھا۔ وہ بہت ہی اچھے، ہمدرد اور محنتی لوگ تھے۔ یہ کلاس روزانہ شام کو 2 گھنٹے کے لیے ہوا کرتی تھی۔
ابا جان سے ہفتے میں ایک آدھ بار بات ہو جاتی تھی وہ کچھ دن پہلے فون پر بات کرنے کا پیغام دے دیتے تھے۔ اور پھر میں مقررہ وقت پر ADCصاحب کے دفتر پہنچ کر ان سے مختصر سی بات کر لیتا۔اس دوران ماں کی طرف سے بھی خط آجاتا تھا وہ بھی قدرتی طور پر میرے تنہا ہونے کی وجہ سے اب پہلے سی بھی زیادہ پریشان اور خائف رہتی تھیں کیونکہ ان کا خاندان اب 3 حصوں میں بٹ گیا تھا۔اور میں تو اب یہاں بالکل ہی تنہا تھا۔
عظمتوں کا امین
قصرِ صدارت میں قیام کے دوران ہی میری ملاقات ایک بہت ہی خوبصورت اور نوجوان پولیس آفیسرسب انسپکٹر اقبال سے ہوئی جو مشکل سے چوبیس پچیس سال کا ہو گا۔ پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ کوئی تھانیدار اتنا سمارٹ اور جوان بھی ہو سکتا ہے، لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ اس کی تعلیم بی اے ہے اور وہ براہ راست سب انسپکٹر بھرتی ہو کر اس عہدے پر آیا ہے۔ 
اس سے پہلے بڑی بڑی توندوں والے بڈھے اور خوفناک قسم کے پولیس آفیسر ہوتے تھے جو ہر بات میں ایک صحت مند پنجابی گالی دیتے تھے لیکن یہ بندہ تو نہ صرف فر فر صاف ستھری اردو بلکہ اچھی خاصی انگریزی بھی بول لیتا تھا۔ اس کی ڈیوٹی قصرِ صدارت کی سٹاف کالونی والے مین گیٹ پر ہوتی تھی۔ 
میں جب گھر میں تنہائی محسوس کرتا تو اس کے پاس جا بیٹھتا،وہ عمر میں مجھ سے کچھ بڑا لیکن ہم خیال تھا اس لیے ہماری شناسائی اچھی دوستی میں بدل گئی۔ ہم وہاں بیٹھے دنیا جہان کی باتیں کرتے تھے۔ وہ مجھے اپنی مختلف تفتیشوں کے قصے سناتا تھا۔ اکثر شام کو اس کی ڈیوٹی ختم ہوتی تو میں اسے گھر لے آتا اور ہم اکٹھے کھانا کھاتے۔گھر کا ہی فرد بن گیا تھا وہ! حتیٰ کہ میرے کراچی سے آجانے کے بعد بھی اس سے مسلسل رابطہ رہا اور میں اسے ملنے کراچی بھی چلا جاتا تھا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -