ہر انسان میں ذہن کی طاقت کا لامحدود اور بے انتہا ذخیرہ اور خزانہ موجود ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتا ہے

 ہر انسان میں ذہن کی طاقت کا لامحدود اور بے انتہا ذخیرہ اور خزانہ موجود ہے جس ...
 ہر انسان میں ذہن کی طاقت کا لامحدود اور بے انتہا ذخیرہ اور خزانہ موجود ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:122
آپ کا تحت الشعور اور حقیقی مسرت و شادمانی
امریکی نفسیات کے بانی ولیم جیمز کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی کی عظیم دریافت، مادی اور طبیعاتی سائنس نہیں تھی بلکہ انیسویں صدی کی عظیم دریافت تحت الشعوری ذہن کی وہ طاقت اورصلاحیت ہے جس کی بنیاد بھروسہ اور یقین ہے اور انسان کے ذات کے اندر موجود اعتماد، بھروسے اور یقین کے ذریعے اس طاقت وصلاحیت سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ ہر انسان میں اس طاقت کا لامحدود اور بے انتہا ذخیرہ اور خزانہ موجود ہے جس کے ذریعے انسان، دنیا کے کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔
ایک سچی، حقیقی اور پائیدار و مستحکم خوشی و شادمانی، اس دن آپ کی زندگی کا حصہ بن جائے گی جس دن آپ کو یہ فہم و ادراک اور بصیرت حاصل ہو جائے گی کہ آپ اپنی کسی بھی کمزوری اور خامی پر قابو پا سکتے ہیں، یہ سچی، حقیقی اور مستحکم خوشی و مسرت اس دن آپ کی زندگی کو منور کر ے گی، جس دن آپ محسوس کریں گے کہ آپ کا تحت الشعور آپ کے مسائل حل کرنے کی قدرت رکھتا ہے، آپ کے بدنی عوارض کا علاج کر سکتا ہے او رآپ کو اپنے وہم و گمان کی نسبت بے انتہا خوشحالی عطا کر سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ آپ نے اس وقت بے انتہا خوشی محسوس کی ہو جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولاد نعمت سے نوازا، جب آپ کی شادی ہوئی، آپ نے کالج سے گریجوایشن کی، ڈگری حاصل کی اور یا پھر جب آپ نے ایک عظیم کامیابی یا انعام حاصل کیا۔ مزیدبرآں، ممکن ہے کہ آپ کو اس وقت بھی بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی ہو جب آپ کی اپنی محبوب لڑکی سے منگنی ہوئی، یا اپنے پسندیدہ اور وجیہ مرد سے آپ کی شادی کی بات ہو چکی۔ بہرحال یہ معاملات خواہ کتنے ہی شاندار اور خوبصورت کیوں نہ ہوں، یہ آپ کیلئے سچی، حقیقی اور پائیدار و مستقل خوشی و مسرت کا باعث نہیں بن سکتے، یہ معاملات بالکل عارضی اور وقتی نوعیت کے ہیں۔
اس ضمن میں توریت مقدس میں اس سوال کا جواب موجود اور مذکور ہے کہ سچی، حقیقی اورپائیدار خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جا سکتی ہے، یعنی:
”جو شخص ذات خداوندی پر بھروسہ کرتا ہے، درحقیقت وہی شخص خوش اور شادمان ہے۔“
جب آپ اپنے آقا (اپنے تحت الشعوری ذہن کی فہم و بصیرت پر مبنی قوت و صلاحیت) پر اس لیے بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے آپ کو زندگی کے تمام معاملات میں راہنمائی نصیب ہو، آپ اپنی زندگی کے مسائل حل کر سکیں اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں، تو پھر آپ مطمئن، پرسکون اور پراعتماد ہو جائیں گے جب آپ دوسروں کو اپنی محبت، چاہت، اخلاص سے فیض یاب کرتے ہیں تو پھر آپ واقعی اپنی تمام زندگی کیلئے خوشیوں اور مسرتوں کی ایک عظیم عمارت تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔
خوشیاں ہی آپ کا انتخاب ہونا چاہیے:
”خوشی“ ایک ذہنی ”رویہ“ یا ”حالت“ ہے۔ انجیل مقدس میں ایک محاورہ یوں مذکور ہے:
”آپ اپنی پسندیدہ چیز کا ابھی انتخاب کیجیے اور آپ کو ابھی آپ کی مطلوبہ چیز حاصل ہو جائے گی۔“
آپ کو خوشی کے انتخاب کی آزادی حاصل ہے، یہ ممکن ہے کہ حقیقت آپ کو غیرمعمولی حد تک سادہ معلوم ہوتی ہو، لیکن یہ ایسے ہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ خوشیاں حاصل کرنے کے راستے پر لڑکھڑا جاتے ہیں، وہ خوشیوں کے حصول کیلئے موجود طریقے اور ترکیب کے سادہ پن پر غور نہیں کرتے۔ زندگی میں موجود عظیم حقائق اور سچائیاں بہت ہی سادہ، متحرک اور تخلیق ہیں، اور ان کے باعث دنیا میں خوشحالی اور خوشی و مسرت پنپتی ہیں۔
سینٹ پال (St.Paul) کے مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ ایک متحرک قوت اور خوشی کی دنیا میں داخل ہونے کیلئے اپنے راستے کا انتخاب کیسے کر سکتے ہیں:
”بالآخر، بھائیو! جو بھی حقیقی، سچی، صحیح، جائز، خالص، مصفا، پیاری اور خوبصورت، اچھی چیزیں ہیں، اگر ان میں کوئی اچھائی موجود ہے اور اگر ان کی اگر تعریف و ستائش کی جا سکتی ہے، تو پھر ان کے متعلق غوروفکر کرو۔“ (Phil:4:8)(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -