امریکہ کا ایشیا پیسفک میںبرتری کا خواب

امریکہ کا ایشیا پیسفک میںبرتری کا خواب
امریکہ کا ایشیا پیسفک میںبرتری کا خواب

  

عراق اورافغانستان میں اعصاب شکن اور مہنگی ترین جنگوںمیں ناکامی کے بعد امریکہ نے اپنی تزویراتی سرگرمیوں کا محور ایشیا اور بحرالکاہل (Asia-Pacific) کی جانب تبدیل کردیا ہے۔اس تبدیلی کے خاطر خواہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل دفاعی تزویراتی رہنما اصول (Defence Strategic Guidance) وضع کئے جا چکے ہیں:٭.... امریکہ اپنے آپ کو بحری جنگ کے لئے بھر پور طریقے سے مسلح کرے گا تاکہ ”مغربی بحرالکاہل “ شرقی ایشیا سے لے کر بحر ہند کے خطے اور جنوبی ایشیا تک پھیلی ہوئی قوس تک کے علاقے اس کی دسترس میں آجائیں۔٭....جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے مجوزہ اتحاد کی امریکہ بھرپور اعانت کرے گا تاکہ چین کے اثرو رسوخ کو کم کیا جاسکے اور اس پر اقتصادی و تجارتی اجارہ داری کے ذریعے دباﺅ بڑھایا جا سکے۔٭....عسکری وسائل کی تقسیم میں اعتدال قائم کر کے امریکہ خطے میں اپنی عسکری صلاحیتوں میں توازن پیدا کرے گا، جس کا رجحان اب تک جنوب مشرقی ایشیاکی جانب رہا ہے۔٭.... ایک آزاد تجارتی بلاک قائم کرنے کے معاہدے کے ذریعے اتحاد میں خطے کے باہرکے ممالک کو شامل ہونے کی ترغیب دی جائے گی، تاکہ بحرالکاہل کی ساحلی ریاستوں کے روابط سے چین کو محدود کیا جا سکے۔٭....عراق اور افغانستا ن کی طرزپر کسی قسم کی براہ راست مداخلت نہیں کی جائے گی، بلکہ اتحاد میں شامل ممالک وہی حکمت عملی اختیارکریں گے، جیسی صومالیہ، لیبیا،مالی، بحرین، شام اور دیگر ممالک میں اپنائی گئی ہے۔ ٭.... ہیلری کلنٹن کے بقول: ”عالمی سیاست کے مستقبل کا فیصلہ ایشیا پیسیفک کے خطے میں ہوگا، جس میں امریکہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی اور جزیرہ سینکاکس (Senkakus Islands)کے معاملے پر چین کے خلاف امریکہ عسکری مداخلت کے لئے بھی تیار ہو گا اور اس تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے جاپان کو ذاتی دفاعی(Self Defence)صلاحیتوں میں اضافے کی اجازت دی جائے گی۔

٭....ہوا کا رخ دیکھ کر پالیسیاں مرتب کرنے والے ممالک کو چاہئے کہ امریکہ اور چین سے تعلقات اوران کے مفادات میں توازن پیدا کریں اورزیادہ سے زیادہ قومی مفادات کے حصول کی خاطر صحیح فیصلے کریں۔ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کے لئے دفاعی تذویراتی حکمت عملی (Defence Strategic Guidance) کے تین اہم محرکات ہیں....پہلا: امریکہ کو یقین ہے کہ وہ اپنی عسکری و اقتصادی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نئے عالمی نظام میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا، جیسا کہ بیسویں صدی میں اسے حاصل تھا.... دوسرا: امریکہ چین کو روس کی طرح گزشتہ صدی کی سردجنگ کی کیفیت میں دھکیل دینے میں کامیاب ہو جائے گا اور تیسرا: امریکہ خطے کی بڑی طاقتوں اور مجوزہ اتحاد کی وساطت سے اپنی حکمت عملی کو قابل عمل بنا سکے گا....لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی پیغام دیتے ہیں، اس لئے نئے عالمی نظام میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے امریکی خواب کا شرمندہ¿ تعبیرہو نا ممکن نہیں، کیونکہ افغانستان و پاکستان کی سرزمین سے اٹھنے والی اسلامی مدافعتی قوت نے امریکہ کی عالمی سطح پر نمایاں مقام اور برتری حاصل کرنے کی خواہشات کو محدود کردیا ہے۔ اس کے علاوہ نئی عالمی طاقتوں کے مراکز کے ابھرنے سے عالمی نظام اب کثیرالجہتی شکل اختیار کر چکا ہے اور محروم طبقات میں اپنے حقوق کے حصول کے لئے تیزی سے اُجاگر ہوتا ہوا شعور بھی اس حوالے سے اہم اثرات مرتب کررہا ہے، حتی کہ پاکستان جیسا بدترین حکمرانی اور سیاسی بدنظمی کا شکار ملک بھی تمام تر امریکی دباﺅ کے باوجودگوادر پورٹ اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن جیسے قومی ترقی کے اہم منصوبوں کی تکمیل کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔

چین کوکھلے تصادم کی راہ پر ڈالنے کے منصوبے کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے، کیونکہ چین کی ترجیحات مختلف ہیں، وہ تیل و گیس اور معدنیات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تمام ممالک کے ساتھ اقتصادی معاہدے کر چکا ہے۔ سرد جنگ میں شامل ہونے کا اسے کوئی شوق نہیں ۔ یہ خیال بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ”ایسے منصوبوں پر عمل سے بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس سے خود امریکہ کے اپنے عالمی برتری حاصل کرنے کے خواب بکھر کر رہ جائیں گے اور یہ اقدامات عالمی سلامتی کے خطرات میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنیں گے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اوراس کی معیشت تمام بڑے ترقی پذیر ممالک سے زیادہ مستحکم ہے۔چین کے زر مبادلہ کے ذخائر 2.7 ٹریلین امریکی ڈالر ہیں، جبکہ امریکہ کی معیشت دو مہنگی ترین جنگوں کی بدولت ڈانواں ڈول ہے اور وہ چین کا 4.0 ٹریلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہے، لہٰذااس قسم کے اقتصادی دباﺅ اور جبر کے ذریعوںسے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تذویراتی مقاصد حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔تاریخی لحاظ سے چین ایک تغیر پذیر قوت اور صدیوں تک جارحیت کا شکار رہی ہے، جس نے اسے اپنے دفاع کی خاطر عظیم دیوار چین تعمیر کرنے پر مجبور کیا۔ چین کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور امریکہ کے لئے کسی قسم کے خطرے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ چین کی کوششوں کا محور تیل اور قدرتی وسائل کی تلاش ہے، جس سے وہ اپنے عوام کا معیار زندگی بلند کر سکے جو دُنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران چین نے ان تمام ممالک کے ساتھ ایک ٹریلین ڈالر سے زائدمالیت کے معاہدے کئے ہیں،جنہوں نے اس کے ساتھ مل کر گیس اور معدنی وسائل کی تلاش کے حوالے سے کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ چین نے یہ تمام اقتصادی رابطے عسکری طاقت کے استعمال سے نہیں،بلکہ بہترین سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کے ذریعے حاصل کئے ہیں،اس طرح عالمی سطح پرچین کا کردار نرم مزاجی اور تعاون پر مبنی تعلقات کی عمدہ مثا ل ہے، جس کا انحصار اس کے امن تعاون اور رابطے کے زریں اصولوں پر ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ، عالمی سطح پر عسکری دبدبے کی بجائے نرم مزاجی (Soft-Power) سے علاقائی تعاون پر مبنی تعلقات کا ماحول پیدا کرنے میں ہی مضمر ہے۔ جنگ وجدل،تصادم اور انقلابات سے لبریز گزشتہ تین عشروں میں جنم لینے والے نئے تزویراتی حقائق عالمی حالات و معاملات کوپرانی سوچ سے ہٹ کربالکل نئے اور مختلف زاویے سے چانچنے، غوروخوض اور عمل کے متقاضی ہیں،وقت بدل چکا ہے اور امریکی پالیسی سازوں کواپنی ذہنی حالت پر کف افسوس ملتے ہوئے نام نہاد اسلامی بنیاد پرستی کے نظریے کو خیرباد کہنا ہو گا، کیونکہ اگر آپ افغانستان‘ عراق، کشمیر، صومالیہ اور یمن وغیرہ میں اپنی آزادی کی جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کو ”القاعدہ کے دہشت گردوں“ سے تشبیہ دیتے رہیںگے تواس کا رد عمل یہی ہوگا کہ یہ منفی سوچ آپ کی فکرو عمل کو مسخ کرتی رہے گی اور اس کا خمیازہ جس طرح امریکہ کو بھگتنا پڑا ہے، ساری دنیا کو بھی اس عذاب کا سامنا رہے گا ۔ آج ہم 1999ءمیں کی جانے والی کارگل جیسی حماقتوں پر اپنے آپ کو کوس رہے ہیں،مگر عراق و افغانستان کی اعصاب شکن اور مہنگی ترین جنگوں کا تجزیہ کرکے کبھی نہیں سوچا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جو 12 سال سے القاعدہ کا تعاقب کر رہے ہیں، جنہیں وہ سانحہ 9/11 میں ملوث سمجھتے ہےں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ ”ان کے طاقتور دشمن“ نے اس عرصے میں ایک بار بھی جوابی کارروائی نہیں کی۔اس حوالے سے جوناتھن پاور (Jonathan Power)حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہمیں تاریخ سے سبق اور رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔ 9/11 کے بعد سے آج تک امریکہ پر کوئی ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا اور نہ ہی نام نہاد انتہا پرست اسلامی ممالک نے کوئی ایک بھی غیر ملکی ایجنڈے کا حامل جنگجو پیدا کیا ہے۔جنگجوﺅں کے ٹھکانوں پر بمباری نے تبدیلی کے عمل کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ عسکری مداخلت کی منطق نرالی ہے اور نہ ہی اس مسئلے کا حل ہے“۔

پس تحریر: امریکہ نے تزویراتی سرگرمیوں کا مرکز اس خطے سے ایشیا پیسیفک کی جانب تبدیل کرلیا ہے، اس لئے پاکستانی حکومت نے گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر کام کی رفتار بڑھا دی ہے۔حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ بروقت اور بڑا اہم ہے جو مستقبل میں برسراقتدار آنے والی حکومت کے لئے ایک گراں قدر تحفہ ہوگا۔ ایک اچھے مستقبل کے لئے پاکستان کوایسے ہی مضبوط فیصلوں کی ضرورت ہے۔  ٭

مزید :

کالم -