حکومت کے پانچ سال!

حکومت کے پانچ سال!
حکومت کے پانچ سال!

  

16مارچ 2013ءکو موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنا 5سالہ حکومتی دور پورا کررہی ہیں۔ان 5سال میں ملک کی نامور سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طریقے سے حکومت میں شامل رہیں، لیکن یہ دور ملکی تاریخ میں عوام کے لئے بدترین عرصہ ثابت ہوا ۔اس عوامی دور میں جو لوٹ مار اور مار دھاڑ ہوئی، اس کی مثال پاکستانی تاریخ میں ملنا مشکل ہے، ویسے تو گزشتہ 65سال سے ہمارے حکمرانوں کی غلط اقتصادی، سماجی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور اہداف کے نتیجے میں آج پاکستان خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک امریکی جریدے”فارن پالیسی“ کی جانب سے دنیا کی ناکام ریاستوں کی فہرست جاری کی گئی ،جس میں پاکستان کا نمبر13واں تھا۔گزشتہ5سال میں موجودہ حکومت نے صرف مہنگائی کی مد میں 100فیصداضافہ کیا۔ 2007ءمیں امریکی ڈالر جو 60روپے کا تھا،2013ءمیں 100 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے،جس سے ہر غریب امیر متاثر ہوا۔بے روزگاری کو ختم یا کم کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔بے نظیر انکم سپورٹ میں گزشتہ 5 سال میں 350ارب روپے ضائع کردیئے گئے۔کسی نے سستی روٹی اور لیب ٹاپ کے ذریعے غربت کم کرنے کی کوشش کی۔ان برسوں میں غربت کی شرح 24فیصد سے بڑھ کر 45فیصد ہوگئی۔ملکی صنعت اور زراعت کے لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش نے بیڑہ غرق کردیا ۔بجلی کی لوڈشیڈنگ جو2007ءمیں 2/4گھنٹے روزانہ تھی۔2012/13ءمیں 12/14گھنٹے ہوگئی۔ صنعتوں کو گیس کی سپلائی ہفتہ میں 2/4دن تک محدود کردی گئی۔جس ملک میں بجلی نہ ہو اور گیس کی لوڈشیڈنگ ہوگی، وہاں ایکسپورٹ کیا ہوگی اور معیشت برباد نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا۔

بدامنی ا ور لاقانونیت کو موجودہ حکومت نے کم کرنے کی بجائے بڑھایا۔دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے صرف موبائل فون بند کرنے تک محدود کردیا۔کراچی، کوئٹہ، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حالات ناکام حکومتی پالیسیوں کا منہ بولتے ثبوت ہیں۔کراچی جہاں روزانہ کی بنیاد پر 2درجن کے قریب افراد قتل کردیئے جاتے ہیں۔بھتہ مافیا، ڈرگ مافیا دندناتا پھر رہا ہے۔صرف 2012ءمیں کراچی کے تاجروں سے 10ارب روپیہ بھتہ وصول کیا گیا۔60سے زائد تاجر ایک سال میں قتل کئے گئے۔ایک سال میں 2400بے گناہ افراد قتل کئے گئے ، حالانکہ رینجرز بھی کراچی میں موجود ہے۔2010ءمیں کراچی کے تاجر 40دن تک ہڑتال پر رہے ، جس سے انہیں 125ارب روپے کا نقصان ہوا۔گزشتہ 3سال میں کراچی کی بدامنی سے تنگ آکر 20ہزار تاجر دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔کراچی جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے تو معیشت کیسے بحال ہوگی؟بلوچستان میں بدامنی اور قتل عام کی وجہ سے حکومت کو گورنر راج کے سپرد کرنا پڑا۔دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے صرف 2012ءمیں ملک بھر میں 2500سے زائد بے گناہ شہری قتل ہوئے۔ 2004ءسے 2012ءتک امریکی ڈرون حملوں (355ڈرون حملے) میں 3500سے زائد لوگ مارے گئے۔ڈرون حملے حکومت کی آشیرباد سے ہورہے ہیں۔گزشتہ 5سال میں دہشت گردی اور بم دھماکوں سے ملک کے 45000سے زائد بے گناہ لوگ مارے گئے،جن میں 5000کے قریب فوجی جوان اور افسر شامل ہیں۔ امریکی جنگ جو ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے ، اس جنگ میں ہمارے ملک کا 70ارب ڈالر کا نقصان ہوگیا ہے،لیکن حکمران اس جنگ سے باہر آنے کی کوئی حکمت عملی بنانے سے قاصر ہیں۔

کرپشن کے حوالے سے موجودہ حکومت کا دور سنہری حروف سے لکھا جائے گا،جس میں سابق وزیراعظم جو 50ماہ تک اس ملک کے وزیراعظم رہے اور موجودہ وزیراعظم مختلف کرپشن کیسوں میں نامزد ہیں یا ان کی فیملی کے افراد کرپشن میں نامزد ہیں۔ موجودہ چیئرمین نیب، جو کہ حکومت کا نمائندہ ہے ، اس کے بقول اس وقت ملک میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، جو سالانہ 4400ارب روپے بنتی ہے۔ہمارے ملک میں سالانہ ٹیکس 2000ارب سے کم اکٹھا ہوتا ہے۔ہمارے ملک کا مجموعی سالانہ خرچ تقریباً 3300ارب روپے ہے، یعنی کل ملکی خرچے سے بھی زائد کرپشن ہے۔موجودہ دور کی کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے ملکی ادارے دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں ، جبکہ حکومت اپنی کرپشن اور نااہلی چھپانے کے لئے سپریم کورٹ سے نت نئے محاذ کھولتی رہتی ہے، جو تاحال جاری ہے۔2008ءسے تاحال ملکی معیشت خراب سے خراب تر ہورہی ہے۔2007ءتک ملک کے اندرونی و بیرونی قرضے جو 6700ارب روپیہ تھے،ان پانچ برسوں میں بڑھ کر 12500ارب روپے ہوگئے ہیں، یعنی موجودہ پانچ سال میں قرضے دوگنا ہوگئے ہیں۔ حکومت اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کی غرض سے روزانہ کی بنیاد پر بینکوں سے ساڑھے تین ارب روپے قرض لے رہی ہے۔ہماری سالانہ ٹیکس کولیکشن 2000ارب روپے سے کم ہے اور ہمیں سود کی مد میں سالانہ 900ارب روپے ادا کرنے پڑتے ہےں،جس کے لئے ہم مزید قرض لے کر سود ادا کرتے ہیں تو عوام کی فلاح و بہبود کیسے اور کہاں سے ہو گی؟ .... زرعی شعبہ جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے،موجودہ حکومت نے اسے تباہ کرنے کے لئے پانی کے نئے وسائل پیدا نہیں کئے۔لوڈشیڈنگ، گیس کی بندش، کھاد، دوائیوں، زرعی مشینری کی مہنگائی کی وجہ سے فصلوں کے اہداف بھی پورے نہیں ہورہے۔کسان کی قوت خرید کم سے کم ہورہی ہے۔حکومتی نااہلی، کرپشن، لاقانونیت، دہشت گردی کی وجہ سے ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، اس وجہ سے عوام غریب سے غریب تر ہورہے ہیں۔بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے،جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے، لیکن اس سارے عمل سے حکمران طبقات لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ ٭  

مزید :

کالم -