بلوچستان میں بلوچ افسرتعینات کئے جائیں

بلوچستان میں بلوچ افسرتعینات کئے جائیں
بلوچستان میں بلوچ افسرتعینات کئے جائیں
کیپشن: mian

  

بلوچستان مملکت خدادادکا رقبہ کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی بہت کم جو کہ بلوچوں او رپشتونوں پر مشتمل ہے ، معدنی دولت سے بھرا ہوا ہے کوئلہ گیس تیل۔ تانبا سونا وغیرہ کے لا محدود وسائل موجود ہیں ۔ بحیرہ عرب کا ساحل اورگوادر کی عظیم بندرگاہ جو ہماری معاشی خوشحالی اور جغرافیائی سلامتی کی مظہر ہے، اسی صوبہ میں واقع ہے۔ اس صوبہ کی ایران اور افغانستان سے سرحدیں ملتی ہیں گوادر کی بندر گاہ ایک ایسا تجارتی راستہ ہے جو چین ، ایران بھارت اور وسِطی ایشیائی ریاستوں تک ہمیں رسائی دیتاہے۔ المختصر یہ صوبہ ہماری جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے اسی لیے سابق وزیر اعظم فیروز خان نے جب گوادر کی بندرگاہ عمان سے خرید کر پاکستان میں شامل کی تو انہوں نے یہ بات حقیقی طور پر بیان کی کہ آج میں نے پاکستان کے پچھواڑے کو محفوظ کر دیا ہے۔

 مقام افسوس ہے کہ آج بلوچستان انتظامی لحاظ سے بدامنی، انار کی، انتشار اور افراتفری کا برُی طرح شکار ہے۔ بلوچ عوام بلاشبہ باشعور،غیور، ہوش مند اور بہادرہیں۔ پاکستان سے ان کی محبت لافانی ہے مگرموجودہ حالات کیوں پیدا ہوئے؟اس وقت بلوچستان خون میں کیوں لت پت ہے ؟پاکستان کا ہلالی پرچم ،بابائے قوم کی تصویر، قومی ترانہ ،گورنمنٹ کی رٹ اور گورننس کا تصور دن بدن کمزور اورناپیدہو رہا ہے۔ کچھ عر صہ قبل زیارت ریذیڈنسی کو خاکستر کر کے پاکستانی پرچم کو نذرآتش کر دیاگیا۔ اگر ہم تاریخی لحاظ سے اپنے بلوچ بھائیوں کے ان منفی جذبات کو کھوج لگانے کی کوشش کریں تو ہمیں اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک مادروطن کے عظیم سپوتوں (بلوچوں) کو وفاق نے وہ حقوق نہیں دئیے جن کے وہ حقدار تھے ان سے مسلسل امتیازی سلوک روارکھا گیا۔

 تاریخی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں نے بلوچستان کے باسیوں کو اب شدید رد عمل پر مجبور کردیا ہے۔ملت اسلامیہ کے لیے بالعموم اور پاکستان کے لیے بالخصوص یہ امر بھی افسوس ناک ہے۔ کہ کچھ ممالک اپنے نظریاتی اختلافات کی جنگ بھی بلوچستان میں لڑرہے ہےں۔ فرقہ پرستی اور مذہبی تعصب کی بناءپر سینکڑوں معصوم لوگوں کا قتل عام پاکستان کے اندرونی امن کو سبوتاژ کرنے کا کھلا ثبوت ہے۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن اورچین کے ساتھ گوادر کی تعمیر و ترقی کا معاہدہ امریکہ کی آنکھ میں خار بن کے کھٹک رہا ہے اور یہ معاہدات افواج پاکستان کے سپریم کمانڈرصدر پاکستان نے جس جرا¿ت ایمانی سے دستخط کیے اگر اسے عملی جامہ پہنادیا جائے تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے معاشی مسائل مےں یقینا واضح کمی آئے گی۔ اگر ان تمام معروضی حالات کا ایمانداری سے تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خوفناک ماحول کو پیدا کرنے میں ہر دور میں وہاں تعینات وفاقی بیورو کریسی نے اپنا روایتی کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں کو شدید رد عمل پر مجبور کر دیا ۔ انہوں نے اپنے آپ کو وہاں آقاﺅں کی صورت مےں پیش کیا جبکہ وہ قبائل نظام کے تحت صرف اپنے سرداروں کو ہی آقا سمجھتے ہیں۔

ون یونٹ کے دوران بلوچستان کے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے جب لاہور میں بیورو کریسی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے اور جب ان سے ذلت آمیز سلوک کیا جاتا تو واپسی سفر کے دوران ہی ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہوچکی ہوتی تھی۔ مزید بلوچستان میں تعینات وفاقی افسران نے لامحدود مالی مراعات کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی کرپشن کو بلوچ سرداروں کے ساتھ مل کر رواج دیا۔ تو ان کی بدخو عادات کی بناءپربلوچ عوام کے اندر نفرت کی آگ بھڑکنا شروع ہوگئی۔ کئی دفعہ فوجی آپریشن ہوئے۔ حالات کی آندھی پر قابو پایاگیا مگر حبس ہمیشہ زور دار طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی رہی ۔معدنی وسائل کے ٹھیکہ جات میں کمیشن خوری اور گوادر کی بندرگاہ پر پلاٹوں کی بندر بانٹ نے وفاقی بیورو کریسی کے لالچ کو عیاں کر دیا انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ تمام افسران جوبلوچستان میں کسی دور میں بھی تعینات رہے ہیں اگر وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ گوادر میں پلاٹ رکھتے ہےں۔ تو اسے بحق سر کار ضبط کرتے ہوئے بلوچستان کے باسیوں کو دے دئیے جائیں۔ ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ" جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے"۔

 آج یہ وفاقی افسران بلوچستان میں تعینات ہونا اپنے لیے "کالا پانی" تصور کرتے ہیں جس طرح یہ طبقہ ایوبی دور میں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) مےں تعیناتی سے گریزاں تھااور ان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہاں انار کی اور انتشار پھیلے اور اگر یہ بازو مغربی پاکستان سے کٹ جائے تو انہیں وہاں جانے سے نجات مل جائے گی۔ اگر کسی وفاقی بیورو کریٹس کی مشرقی پاکستان میں تعیناتی ہو بھی جاتی تو وہ بنگالیوں سے نفرت آمیز سلوک کرتاتھا ۔انہیں حقیر تصور کر تے ہوئے ان سے حاکمانہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم مرتبت سی ایس پی افسران کو رنگ و نسل اور جسمانی ساخت کی بناءپر کھلم کھلاتضحیک کا نشانہ بنایا جاتا۔ بنگالیوں کے اندر جس طرح نفرت ، حقارت، بغاوت، کے جذبات کو جنم دیاگیا، آج ان کے اس روایتی رویے نے بلوچستان کے اندر ویسی ہی نفرت آمیز فضاءکو پیدا کرنے میں قوی منفی کردار ادا کیا ہے۔

قارئین کرام !آپ کو یہ پڑھ کر بڑی خوشگوار حیرت ہوگی کہ حکومت پاکستان نے وفاقی بیورو کریسی کے لیے بلوچستان میں لامحدود مراعات کا اعلان کر رکھا ہے۔ جن میں ون گریڈ ہائیر تعیناتی۔ ہوائی جہاز کے فری ریٹرن ٹکٹ۔ سال میں چار ماہ کی چھٹی جیسی مراعات شامل ہیں ان مراعات کے باوجود ان کا وہاں نہ جانا پاکستان سے محبت کی بجائے خود غرضانہ بے حسی کا مظہر ہے۔ مزید یہ لوگ اپنے آپ کو پاکستان میں "قومی یکجہتی "کا مظہر سمجھتے ہیں بلوچستان کے معاملے میں انکی یہ قومی یکجہتی کہاں ہے؟ ثابت ہوا کہ یہ صرف ایک دھوکہ ،مفروضہ اور فریب ہے۔ جس کے نام پر انہوں نے تمام صوبوں میں وفاقی کوٹے کو اگلے بیس سالوں کے لیے توسیع دے دی ہے مگر یہ لوگ نہ تو بلوچستان، فاٹا، فانا، KPKاور نہ ہی گلگت بلتستان کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلکہ انکی اس وقت تمام یلغار صوبہ پنجاب کی طرف ہے ۔

 بلوچستان میں موجودہ انتظامی مشینری کے خلا کو پر کرنے کے لیے پنجاب میں تعینات نور الامین مینگل جیسے بلوچ افسران کو فوری طور پر بلوچستان بھیجا جائے اور ایسے وفاقی افسران جن کے بلوچ سرداروں سے اچھے مراسم ہیں اور جو گوادر کی بندر گا میں حصہ دار بھی ہےں اور جو بلوچستان کی نفسیات، ثقافت اور تہذیب سے بخوبی آگاہ ہیں انہےں فوری ضرورت کے تحت بلوچستان بھیجا جائے تا کہ یہ اپنے تجربہ سے وہاںپر گورننس کوبہتر کر سکیں۔اگر وفاقی بیورو کریسی بلوچستان جانے سے اعراض کرے یا گریزاں ہو تو ان کا کوٹہ بلوچستان سے ختم کر کے پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے بلوچ فوجی افسران کو سول سروس میں فوری بھرتی /انڈکٹ کرتے ہوئے تعینات کیا جائے۔ اور یہ کوٹہ بلوچستان کی حد تک فوجی افسران کے لیے وفاقی سول سروس میں5%سے بڑھا کر 50%کر دیا جائے۔بلوچستان نا مساعد حالات کے آتش فشاں کے دہانے پر ہے آگ کی ایک دہکتی بھٹی ہے۔ ملت اسلامیہ اور پاکستان کی توجہ کا مرکز ہے اسکے حالات سے بے اعتناعی ،خود غرضی،چشم پوشی،خاکم بدہن سقوط ڈھاکہ کاری پلے ثابت نہ ہو۔ افواج پاکستان بلاشبہ ہماری سلامتی اور عزت و آبروکی ضامن ہے نااہل سیاست دان اور خود غرض وفاقی بیورو کریسی کی مکارانہ چالوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور افسران کو بلوچستان میں تعینات کروا کر ان سے حالات کی بہتری کی ضمانت لی جائے۔

                       

مزید :

کالم -