شوپیان میں کریک ڈاون کے دوران تین مقامی نوجوانوں پر تشدد

شوپیان میں کریک ڈاون کے دوران تین مقامی نوجوانوں پر تشدد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 سرینگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر کے قصبے شوپیان میں کریک ڈاون کے دوران تین مقامی نوجوانوں کی شدید مارپیٹ کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے فورسز پرکانگڑیوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں فورسز نے ہوا میں فائرنگ کی۔شوپیان سے تقریبا10کلو میٹر دور حرمین نامی گاؤں کا 62آر آر اور ٹاسک فورس شوپیان سے وابستہ اہلکاروں نے منگل کی شام محاصرہ کیا۔لوگوں کے مطابق رات بھر محاصرہ جاری رکھنے کے بعد بدھ کی صبح فوج و ٹاسک فورس اہلکاروں نے لوگوں کو گھروں سے نکل کر ایک جگہ جمع ہونے کی ہدایت دی اور اس دوران پھر ایک مرتبہ گھر گھر تلاشی لی گئی ۔لوگوں کے بقول کریک ڈاؤن کے دوران فورسز اہلکاروں نے تین نوجوانوں مار پیٹ شروع کر دی اور اسی دوران جب ارشد احمد وگے ولد محمد احسن وگے نامی ایک مقامی حجام کی مار پیٹ کی جا رہی تھی تو یہ دیکھ کر لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے کھڑے ہو کر فوج اور پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ۔مقامی لوگوں کے بقول اس موقعہ پر کریک ڈاؤن میں موجود لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز اہلکاروں پر کانگڑیوں سے حملہ کردیا اور صورتحال کو بے قابو ہوتا دیکھ کر اہلکار ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے اور اس کے ساتھ کریک ڈاؤن ختم ہو گیا ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ محاصرے کے دوران تین نوجوانوں کی شدید مارپیٹ کی گئی جس پر وہ مشتعل ہوئے۔ تاہم یس پی شوپیان الطاف احمد خان نے بتایا کہ کریک ڈاؤن کے دوران لوگ بلا وجہ مشتعل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی مارپیٹ نہیں کی گئی اور نہ ہی ہوائی فائرنگ کی گئی۔

مزید :

عالمی منظر -