بھارتی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی تعداد ہزار سے تجاویز کر گئی ہے اے پی ڈی پی

بھارتی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی تعداد ہزار سے تجاویز کر گئی ہے اے پی ڈی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سرینگر(کے پی آئی) بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ افرادکے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے انکشاف کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد ہزار سے تجاویز کر گئی ہے یورپین پارلیمنٹ نے گمنام قبروں کی تحقیقات کیلئے بھارتی حکومتکومالی اورتیکنیکی تعاون کی پیشکش کی تھی تاہم حکومت نے اس لسلے میں کچھ نہیں کیا ۔ گزشتہ 25برسوں کے دوران مختلف حالات میں لا پتہ ہوئے 8ہزار سے زیادہ افراد کے والدین کی نمائندہ تنظیم اے پی ڈی پینے ہزاروں بے نام قبروں کا معاملہ پھر اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکمرانوں اور حکام کا اس حساس معاملے پر رویہ انتہائی غیر انسانی رہا ہے ۔
کولیشن آف سیول سوسائٹی کے کارڈی نیٹر اور اے پی ڈی پی کے اہم ذمہ دار خرم پرویز اور اے پی ڈی پی کی ترجمان طاہرہ نے کے این ایس کو بے نام قبروں کی موجودگی کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی مرتبہ اے پی ڈی پی نے 2008اور009میں کشمیر کے مختلف علاقوں میں بے نام یا گمنام قبروں کی موجودگی کا معاملہ اجاگر کیا ۔انہوں نے بتایا کہ جولائی008میں یورپین پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک قراردادمنظور کر کے حکومت ہند پر زور دیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود ہزاروں بے نام قبروں میں مدفون افراد کی شناخت عمل میں لانے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔خرم پرویز کے بقول یورپین یونین نے اس مقصد کیلئے حکومت ہند کو مالی اور تکنیکی تعاون کی پیشکش بھی کی تھی لیکن بقول موصوف اب تک حکومت ہند نے اس معاملے پر کبھی سنجیدہ غور نہیں کیا ۔ادھر اے پی ڈی پی کی خاتون ترجمان طاہرہ نے بتایا کہ ستمبر011میں لا پتہ افرا کے والدین کی تنظیم نے ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں ایک عرضداشت دائر کرتے ہوئے پونچھ اور راجوری اضلاع میں844بے نام قبروں کی تحقیقات عمل میں لانے کی استدعا کی جبکہ بقول موصوفہ اکتوبر011میں مقامی حقوق انسانی کمیشن نے شمالی کشمیرکے تین اضلاع میں 2156بے نام یا گمنام قبریں موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ریاستی سرکار کو اس حوالے سے اپنی سفارشات روانہ کر دیں ،جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بے نام قبروں میں موجود افراد کی پہچان کرنے کیلئے ان کی نعشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے ضروری تحقیق کیلئے فارنسک لیبارٹریوں میں بھیجے جائیں لیکن بقول طاہرہ اس حوالے سے بھی اس وقت بر سراقتدار عمر عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جبکہ بقول اے پی ڈی پی ترجمان عمر عبداللہ نے ستمبر011میں کہہ دیا کہ متاثرہ کنبے اس بات کی نشاندہی کریں کہ ان کے لا پتہ عزیز کس بے نام یا گمنام قبر میں دفن ہیں ۔لا پتہ افراد کے والدین کی تنظیم نے پھر یہ معاملہ اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے گمشدہ عزیزوں کا سراغ لگانے کیلئے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود 60ہزار سے زیادہ بے نام قبروں میں مدفون ہزاروں افراد کے باقیات کے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے ان کی ضرری جانچ کروائی جائے ۔انہوں نے کہا ہے کہ لا پتہ افراد کے لواحقین برسوں سے دردرکی ٹھوکریں کھانے کے ساتھ ساتھ صبح شام اور دن رات اپنے عزیزوں کی یاد میں خون کے آنسو رورہے ہیں لیکن کوئی ارباب اقتدار ان کے آنسو پونچھنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -