گورنر کا استعفیٰ، عمران خان کی بڑھک، الطاف حسین کا غیر سنجیدہ رویہ

گورنر کا استعفیٰ، عمران خان کی بڑھک، الطاف حسین کا غیر سنجیدہ رویہ
گورنر کا استعفیٰ، عمران خان کی بڑھک، الطاف حسین کا غیر سنجیدہ رویہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گزشتہ ہفتے بہت سے سیاسی و انتظامی ’’معاملات،، خبروں کی زینت بنے۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے استعفیٰ دیا اور عمران خان بھی گرجے کہ جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر ہوں گے اور اس بار وہ جو کچھ کریں گے وہ حکومت کی برداشت سے باہر ہو گا۔ الطاف حسین نے بھی پھر کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑ رہے ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے مقامی رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں نائن زیرو پہنچنا شروع ہو گئے۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کو بھی یہ بیان دینا پڑا کہ الطاف حسین اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور قیادت چھوڑنے کا فیصلہ واپس لیں۔
ڈی چو ک کے دونوں دھرنے تو ختم ہو گئے۔ حکومت نے اس پر سُکھ کا سانس بھی لیا۔ لیکن سکھ کا یہ سانس جزوقتی تھا کیونکہ پٹرول اور گیس کے بحران نے جس طرح سر اٹھایا وہ نہ صرف اپنی انتہا کو پہنچا بلکہ پوری حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ یہ حکومت کی بڑی سیاسی ہزیمت تھی کہ لوگ پٹرول کے لئے سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے تھے۔ پیسے ہاتھوں میں تھے لیکن کہیں سے پٹرول نہیں مل رہا تھا۔ حکومت اس بحران سے تو کافی حد تک باہر نکل آئی ہے لیکن گیس کا بحران اب بھی باقی ہے۔ کئی شہروں اور ان کے کئی علاقوں میں گیس نایاب ہے۔ یہ عوامی ضرورت کی بنیادی چیزیں ہیں۔ حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر اُسے اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور حکومت اس تنقید اور مختلف سیاسی رہنماؤں کے جارحانہ بیانات کے بعد دیوار سے لگی نظر آئی اور اب گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے استعفیٰ اور اُن کی پریس کانفرنس کے بعد تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ حکومتی صفوں میں بھی کئی معاملات پر شدید اختلافات اور انتشار موجود ہے، جس کی بڑی مثال گورنر صاحب کا استعفیٰ ہے۔ انہیں شریف فیملی کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا اور اس میں شک بھی نہیں کہ اَسی قربت کے باعث شریف فیملی نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے اہم آئینی منصب پر فائز کیا۔ لیکن شائد یہ نظر آ رہا تھا کہ گورنر صاحب زیادہ دیر تک اس حکومت کا حصّہ بن کر نہیں رہ سکتے۔
برٹش تعلیم و تربیت سے چودھری محمد سرور میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں اُس کا تقاضا تھا کہ جہاں بھی کچھ غلط ہوتا وہ اُس کی مخالفت کرتے۔ حکومتی امور میں حصّہ دار بننے کے باوجود اُن کی سوچ، اُصولوں اور تفکرات میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ پینے کے صاف پانی سے لے کر روزگار کی فراہمی تک کے مسائل سے نمٹنے کے لئے منصوبہ سازی کرتے رہے۔ اُن کے پیشِ نظر اوور سیز پاکستانیوں کے مسائل بھی تھے۔ جن کو گورنر چودھری محمد سرور سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن وہ نہ کسی مسئلے کو بطور گورنر حل کر سکے اور نہ اوور سیز پاکستانیوں کی توقعات پر پورے اُترے۔وہ اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ بالآخر طے کر لیا کہ گورنر کے عہدے پر نہیں رہیں گے ۔ اوباما نے بھارت کا دورہ کیا تو اسے بھی پاکستانی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا۔ اس بات کو چھپایا نہیں بلکہ اپنے ایک بیان کے ذریعے زبانِ زدِ عام کر دیا۔ بات وزیراعظم تک بھی پہنچی جو انہیں ناگوار گزری اور معاملے نے اتنا سنگین رُخ اختیار کر لیا کہ گورنر سرور رخصت ہو گئے۔ اُ ن کے مستقبل کا سیاسی لائحۂ عمل کیا ہو گا۔ ابھی اس پر سابق گورنر چودھری محمد سرور کا ردِعمل آنا باقی ہے۔ لیکن وہ ضرور آئے گا۔ دیکھیں وہ کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ ن لیگ سے ہی وابستہ رہتے ہیں یا کسی اور جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں سب کچھ ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا۔

الطاف حسین ایک بار پھر گرجے ہیں۔ انہوں نے پھر یہ بیان داغ دیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑنا چاہتے ہیں اور یہ الطاف حسین کو بھی بخوبی علم ہے کہ کراچی کی مقامی قیادت اور اُن کے ہزاروں کارکن انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے اسی لئے وہ اکثر یہ بیان دیتے رہتے ہیں جس کی شاید اب اہمیت ہی ختم ہو گئی ہے۔ اُن کا بیان ’’شیر آیا، شیر آیا‘‘ کے مترادف ہے۔ ایک شخص اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ شیر آ گیا ہے۔ جب لوگ باہر نکلتے تو پتہ چلتا کہ وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ پھر ایک دن شیر آ ہی گیا اور جب وہ شخص مدد کے لئے چلّایا تو کسی نے بھی اُس کے شور اور واویلے پر دھیان نہیں دیا اور شیر اُسے کھا گیا۔ الطاف بھائی کو چاہیے کہ وہ کوئی بھی اعلان سوچ سمجھ کر کیا کریں۔ اپنے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا نہ کریں۔
عمران خان بھی شادی کی خبروں کے بعد دوبارہ سیاسی خبروں کی زینت بننے لگے ہیں۔ انہوں نے بنی گالا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے سنجیدہ کوشش نہ کی تو وہ پھر سڑکوں پر ہوں گے اور حکومت اس بار شروع ہونے والی تحریک کو برداشت نہیں کر سکے گی۔حکومت کے ساتھ ساتھ اب قوم کو بھی انتظار ہے کہ عمران خان اس بار کیا کچھ نیا کرتے ہیں۔ دوبارہ تحریک انصاف کا احتجاج ہوتا ہے تو کیا ہو گا۔ دھرنا پہلے جیسی کامیابی حاصل کرتا ہے، یا نہیں۔ اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔ عمران خان شاید مارچ تک کا انتظار کریں۔ جس میں موسم بھی اچھا ہو جاتا ہے اور اس وقت تک یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنا پاتی ہے یا نہیں؟ سیاسی فضا میں جو حدّت پیدا ہو رہی ہے۔ اُس کا اندازہ بھی مارچ، اپریل تک ہو جائے گا۔ ہماری دعا ہے جو کچھ بھی ہو ملک کی بہتری کے لئے اچھا ہی ہو۔

مزید :

کالم -