دہشت گردی کا مکمل ا حاطہ ضروری ہے

دہشت گردی کا مکمل ا حاطہ ضروری ہے
دہشت گردی کا مکمل ا حاطہ ضروری ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کے سٹیٹ بنک کے قائم مقام گورنر سعید احمد کہتے ہیں کہ ملک میں بہت بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی نوٹ گردش میں ہیں۔ ان کے خیال میں یہ نوٹ دشمن ملک نے چھاپ کر پھیلائے ہیں۔ پاکستان میں یہ عمل طویل عرصے سے جاری ہے ۔ بنکوں سے معلوم کیا جائے تو اس کی حقیقت سامنے آتی ہے کہ دن بھر میں کتنے لوگ جعلی نوٹ لاتے ہیں۔ ہائی ویز پر موجود ہوٹل مالکان بھی اس کی شکایت کرتے ہیں ، پٹرول پمپ والے بھی ایسی ہی شکایت کرتے ہیں۔ باعث تشویش بات یہ ہے کہ اب تو اسٹیٹ بنک کو بھی احساس ہو گیا ہے اس کی وجہ یہ ہی ہو سکتی ہے کہ ان کی اتنی بڑی تعداد گردش میں آگئی ہے جو سٹیٹ بنک کے مطابق ملک کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ان کرنسی نوٹوں کی عام آدمی شناخت نہیں کر سکتا کیوں کہ ان میں جو کاغذ اور سیاہی استعمال کی گئی ہے وہ ہمارے کرنسی نوٹوں سے مختلف نہیں ہے۔ پاکستانی کرنسی نوٹوں میں جو نشانیاں ڈالی گئی ہیں ان میں سے بھی بعض جعلی نوٹوں میں موجود ہیں۔ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس جہاں کرنسی نوٹ چھپتے ہیں، اس کے سربراہ مصباح تنیو بھی تائید کرتے ہیں کہ پہلی نظر میں یہ جعلی نوٹ ہو بہو اصلی نوٹ جیسے نظر آتے ہیں۔
دہشت گردی میں جعلی کرنسی نوٹ کی گردش بھی ایک حربہ ہوتی ہے۔ دہشت گردی کا اصل مقصد ہی ملک کی معیشت کو کمزور کرنا ہوتا ہے اِسی لئے عوام کے روز مرہ کے معمولات کو متاثرکرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت پر بھی حملہ آور ہوا جاتا ہے، جس کی آسان ترکیب جعلی نوٹوں کو گردش میں لانا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث لوگ ان نوٹو ں کی بڑی تعداد استعمال کرتے ہیں۔ کہیں سے پٹرول خریدا۔ کہیں سے بارود اور دکاندار کو اس کی مُنہ مانگی قیمت ادا کر دی جائے، تو وہ خوشی خوشی آدھی رات کو بھی سامان فروخت کرنے میں تساہل نہیں برتتا ہے۔ آخر یہ دہشت گرد بارود، اور دیگر سامان جو دھماکوں میں استعمال ہوتے ہیں، آسمان سے اپنے ساتھ نہیں لاتے۔ یہ سامان ان ہی شہروں میں خریدا جاتا ہے، جہاں دہشت گردی کرنا ہدف ہوتا ہے۔ دکاندار ہوں یا دیگر سہولت کار، انہیں یہ تو باور کرانا ہی ہوگا کہ اپنی موت کا سامان کیوں کرتے ہیں۔ قانون کو حرکت میں تو لانا ہی ہو گا کہ ہر ہر شخص نظر رکھے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ کوئی شخص بڑی تعداد یا مقدار میں کوئی ایسا سامان کیوں خرید رہا ہے، جو نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
دہشت گردی سے نبر دآزما پاکستان اس صورت حال سے پہلی بار دوچار نہیں ہوا ہے۔ مشرقی پاکستان میں جب 1971ء میں بغاوت ہو رہی تھی، جو بعد میں کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی، بھارت نے بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش شروع کی تھی۔ بھارتی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی ۔ یہ کارروائی اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی تھی کہ حکومت پاکستان کو اچانک اپنے کرنسی نوٹ تبدیل کرنا پڑے تھے، جو نوٹ گردش میں تھے وہ بنکوں میں جمع کرا کر تبدیل کرائے گئے تھے تاکہ جعلی نوٹوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے ۔ کیا پھر سابق مشرقی پاکستان جیسی ہی صورت حال در پیش ہے۔ بلوچستان میں پائی جانے والی بغاوت میں تو بھارت کا ہاتھ بہت واضح ہے جس کی حکومت بار بار نشاندہی کرتی رہی ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک اور سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے ذمہ دار اصحاب تو ایسا ہی نقشہ پیش کر رہے ہیں۔
جعلی کرنسی میں عموماً بڑی مالیت کے نوٹ استعمال کئے جاتے ہیں۔ پاکستانی معیشت میں بڑھتے ہوئے افراط زر کے پیش نظر پانچ ہزار کے نوٹ بھی متعارف کرائے گئے تھے ۔ اس سے قبل بڑا نوٹ ایک ہزار کا ہوتا تھا۔ پہلی کارروائی میں تو حکومت کو پانچ ہزار کے نوٹ ہی ختم کردینا چاہئے۔ بڑے نوٹو ں سے نقد ادا ئیگیاں اب بہت کم کی جاتی ہیں۔ سوائے انکم ٹیکس بچانے والوں کے کوئی اور نقد بڑی ادائیگی نہیں کرتا ہے، کیوں نہیں پانچ ہزار کا نوٹ بند ہی کر دیا جائے۔ اب تو اے ٹی ایم اتنا عام ہو گیا ہے کہ اگر کسی کو ضرورت بھی ہے تو آدھی رات کے بعد بھی رقم نکال سکتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر ایک ہزار کا نوٹ تبدیل کر دیا جائے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ ایک ہزار کا نوٹ بھی بند کر دیا جائے۔ بڑے نوٹوں کی وجہ سے بھی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو سیاہ رقم رکھتے ہیں، بڑے نوٹوں کا ہی سہارا لیتے ہیں، جن لوگوں کے پاس سفید پیسہ ہوتا ہے وہ اول تو جیب میں بڑی بڑی رقمیں لے کر گھومتے ہی نہیں ہیں ، دوم وہ تمام ادائیگیاں چیک کے ذریعہ کرتے ہیں، پھر بڑے نوٹوں کی کیا افادیت رہ جاتی ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ کی روک تھام میں حکومت کو بہت سارے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کی مدت کے بارے میں کسی کو آگاہی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ ارباب حکومت دہشت گردی کی اس جنگ کا مکمل ا حاطہ ہی نہیں کر سکے ہیں۔
لے دے کر ان کا ہدف مدرسوں تک محدود ہے۔ وہ مدرسوں میں دہشت گردوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں جو بھی مدرسے کام کر رہے ہیں، کیا وہ واقعی دہشت گردی کی تربیت دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب حکام کو ان کے دفاتر میں نہیں مل سکتا۔ اس کے لئے انہیں اپنے دفاتر سے نکل کر مدرسوں تک جانا ہوگا۔ جب وہ مدرسوں میں جا کر بیٹھیں گے تو انہیں علم ہوگا کہ دہشت گرد مدرسوں میں تیار نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ان کی تربیت اور ذہنی تیاری کہیں اور کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے کسی بھی ایک واقعہ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عمل در آمد میں وقت درکار ہوتا ہے، پھر اس کے بعد سہولت کاروں کی مدد حاصل کرنا ہوتی ہے۔ حکومت نے پولس کو یہ ذمہ داری دے دی ہے کہ مدرسوں کا ریکارڈ چیک کرے، ان کی رجسٹریشن کرائے، ان سے ان کی آمدنی کے ذرائع معلوم کرے۔ یہ وہ سارے کام ہیں، جو پولیس کے بس کی بات نہیں ہے اور یہ مشق اس وقت تو اور بھی بے معنی ہوجاتی ہے جب یہ کام پولس کے ان سپاہیوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے، جو تعلیم یافتہ ہی نہیں ہوتے ہیں، جو محدود عقل رکھتے ہوئے صرف اتنا کام کر سکتے ہیں کہ کوئی کام نہ کریں۔ اگر صرف کاغذی خانہ پری درکار ہے تو بہتر ہے کہ یہ کام ہی نہیں کیا جائے۔ دہشت گردی کی جنگ ان دیکھی مدت کی ان دیکھے دشمن کے ساتھ جنگ ہے۔

مزید :

کالم -