جسٹس نسیم حسن شاہ

جسٹس نسیم حسن شاہ
جسٹس نسیم حسن شاہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جسٹس نسیم حسن شاہ اس دارفانی سے رخصت ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ 56انچ کے چھوٹے قد کے ساتھ انہوں نے تاریخ ساز فیصلے کئے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں چھوٹا قد مذاق ہوتا ہے اور ایسے لوگ یا تو جوکر ہوتے ہیں یا فائیو سٹار ہوٹلوں میں مہمانوں کی عزت افزائی کے لئے استعمال ہوتے ،ہیں وہاں جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک عزم و ہمت کی نئی تاریخ بنائی۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کے مداحین ان کی قابلیت، دیانت ، حب الوطنی کے لئے رطب للسان ہیں تو ان کے مخالفین بھٹو کیس کے حوالے سے انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری تو انہیں بھٹو کے عدالتی قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ان کے اس فیصلے کو بھی یاد کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا تھا۔ انہوں نے اسمبلیوں کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے لکھا تھا کہ صدر اسحاق خان نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے، کیونکہ آئینی طور پر وزیراعظم صدر کو جوابدہ نہیں، بلکہ اکثر صورتوں میں وہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں جس طرح عدالت عظمیٰ نے صدر کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا اس پر انہیں ایک امریکی تنظیم کی طرف سے جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لئے کام کرنے پر Man of Decade کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
جسٹس نسیم حسن شاہ کا تعلیمی کیریئر بہت شاندار تھا۔ ان کی زندگی میں بہت سے لوگوں نے ان کے قد کے حوالے سے ان کی ترقی کی منازل روکنے کی کشش کی۔ ان کو مذاق بنانے کے لئے جتن کئے، مگر نسیم حسن شاہ خود اعتمادی کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھتے گئے۔ وہ کرسی یا سٹول پر کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دیتے تھے اور مجمع ان کے قد کو بھول کر ان کی ذہانت و فطانت کے سحر میں مبتلا ہو جاتا تھا۔ انہوں نے پیرس یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔عدالتوں میں جج ان کے قد کی بجائے ان کے دلائل پر غور کرتے تھے۔ پھر 39 سال کی عمر میں وہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز تھا۔ 61 سال کی عمر میں جب وہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تو برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں سب سے زیادہ مدت اعلیٰ عدلیہ کے جج رہنے کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔ اس سے پہلے وہ 18 مئی 1977ء کو سپریم کورٹ کے جج بنے تو وہ اس عہدے کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر جج تھے۔
جسٹس نسیم حسن شاہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین بھی رہے اور دوسری بے شمار فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ وہ ایک مدبر جج اور اعلیٰ درجے کے قانون دان تھے، مگر ان میں بڑی حس مزاح تھی۔ انہیں اپنے اوپر ہنسنے کا فن آتا تھا۔ ان کی سوانح عمری میں انہوں نے اپنی شادی کا واقعہ بھی بیان کیا ہے، جس میں ان کے دوستوں نے انہیں حجلہ عروسی کے دروازے پر یہ کہہ کر رخصت کیا تھا ’’دوست بس یہاں تک ہی آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں‘‘۔
جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ وہ سچ بولنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہ کہا کہ بھٹو کیس میں قانونی خلا تھے اور بھٹو کو اتنی سخت سزا نہیں ملنا چاہئے تھی۔ اس پر ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر ہوا، مگر ججوں نے اس پر یہ ریمارکس دیئے کہ اس میں قانونی نقاط کم ہیں اور اسے سیاسی طور پر زیادہ پیش کیا گیا ہے۔
مجھے 20 سال سے زائد عرصہ دست شناسی کا شوق رہا۔ اس دوران محھے بے شمار مشاہیر کا ہاتھ دیکھنے کا موقعہ ملا۔ میرا ارادہ دور حاضر کی اہم شخصیات کے ہاتھوں کا دست شناسی کے علم کی روشنی میں جائزہ پیش کرنا تھا۔ بدقسمتی سے یہ منصوبہ ہنوز تکمیل کے مراحل طے نہیں کر سکا۔ اس دوران مجھے جسٹس نسیم حسن شاہ کا ہاتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے گلبرگ میں ان کے گھر میں گزرنے والی وہ شام ہمیشہ یاد رہے گی۔ ان کے تپاک، محبت اور حس مزاح نے ماحول میں ایک چاشنی پیدا کر دی تھی۔ مَیں نے ان کے ننھے منے ہاتھوں کے پرنٹ لئے اور ان لکیروں کی گہرائی میں کھو گیا۔ ان کا ہاتھ ان کی ذہانت اور فطانت کی گواہی دے رہا تھا۔ ان کی خود اعتمادی ان کی کامیابیوں کی داستانیں بیان کر رہی تھی۔ ان کا خط شمس ان کی شہرت کی داستانیں سنا رہا تھا۔ مَیں نے ان کے ہاتھ پر تفصیل سے لکھنے کا وعدہ کیا، مگر مجھے یہ دُکھ رہے گا کہ یہ وعدہ ان کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا۔ ان سے خوبصورت نشست کے بعد جب میں ان سے رخصت ہو رہا تھا تو مَیں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ زندگی میں اعلیٰ ترین مناصب پر پہنچے ہیں۔ ان کی کوئی ایسی خواہش بھی ہے جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اس پر انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہا ’’مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر نواز شریف نے مجھے صدر کیوں نہیں بنایا تھا‘‘۔ ان کے انداز سے میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھا کہ وہ مذاق کر رہے تھے یا اپنی دبی ہوئی خواہش کو زبان دے رہے تھے۔

مزید :

کالم -