اپنے ہاتھ کون کاٹتا ہے!

اپنے ہاتھ کون کاٹتا ہے!
اپنے ہاتھ کون کاٹتا ہے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاست کے اندر اپنی منی ریاست قائم کرنے کا تصور شاید صرف پاکستان ہی میں موجود ہے۔ ایسا تبھی ہوتا ہے، جب قانون اپنی عمل داری کھو دے۔ مَیں اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش بارے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک کیس کی رو داد پڑھ رہا تھا، جس میں عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے پر سی ڈی اے کے چیئرمین کو طلب کیا تھا۔ دوران سماعت ججوں نے جو ریمارکس دیئے میرے نزدیک وہ ہماری ریاستی مشینری اور حکومت کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں۔ خاص طور پر غیر ملکی سفارت خانوں کی طرف سے سڑکوں پر قبضے کرنے کو عدالت عظمیٰ نے ریاستی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ عدالت کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ جو کام یہ سفارت خانے اپنے ممالک میں نہیں کر سکتے وہ پاکستان میں کر رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت یہ کیس ملک میں موجودہ لاقانونیت کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ تقریباً تمام بڑے شہروں میں کہیں سیکیورٹی اور کہیں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے نوگو ایریاز بنا لئے گئے ہیں۔ با اثر طبقوں کی طرف سے خود کو محفوظ بنانے کے جنون نے عوام اور خواص کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے، جو پاٹنے کا نام ہی نہیں لیتی، بلکہ رفتہ رفتہ اس کا پاٹ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
اس طرز عمل کی مثالیں اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی بھی دوسرے کے خلاف بولنے کو تیار نہیں، بولے تو اپنا پیٹ ہی ننگا ہوتا ہے، چند روز پہلے ایک ٹی وی ٹاک شو میں یہ بحث جاری تھی کہ مراعات یافتہ اور حکمران طبقہ اپنی حفاظت کے لئے ہر اصول و قاعدے کو پامال کرتا ہے۔ قومی وسائل اور املاک کو بھی ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ رائیونڈ میں جاتی عمرہ کی دیواریں کرنے کے لئے 15کروڑ روپے کا منصوبہ سرکاری وسائل سے منظور کیا گیا ہے، حالانکہ وہ شریف برادران کی ذاتی رہائش گاہیں ہیں۔ جب ٹاک شو میں موجود پیپلزپارٹی کے نمائندے نے اسے قابل مذمت قرار دیا تو وہاں بیٹھے مسلم لیگ (ن) کے نمائندے نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بلاول ہاؤس کی دیواریں نہ صرف سرکاری فنڈز سے اونچی کی گئیں، بلکہ کئی سڑکوں پر مستقل قبضہ بھی کر لیا گیا ہے،جس سے کراچی کے عوام کو سالہا سال سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گویا ایک بری مثال کے بعد دوسری بری مثال قائم کی جاتی ہے اور کوئی اچھی مثال قائم کرنے کا سوچتابھی نہیں۔ اگر اسی طرح ایک دوسرے کی بُری مثال کو قابل تقلید بنایا جاتا رہا، تو معاشرہ کیسے سدھرے گا، وہ گڈ گورننس جس کی بہت باتیں کی جاتی ہیں کیسے آئے گی؟ سپریم کورٹ نے صرف اسلام آباد میں رکاوٹوں کا نوٹس لیا ہے، حالانکہ یہ کام پورے مُلک کے لئے ہونا چاہئے۔ نائن زیرو والے کہتے ہیں پہلے بلاول ہاؤس کی سڑکیں کھولی جائیں اور بلاول ہاؤس والے نائن زیرو جانے والے راستوں کو کھولنے کی بات کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کہتی ہے منہاج القرآن کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں، منہاج القرآن والے شریف برادران کی رہائش گاہوں کو جانے والے راستے کھولنے کا مطالبہ داغ دیتے ہیں۔ یوں معاملہ ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔
ہمارے ہاں کرپشن، لاقانونیت اور قبضوں کی جتنی روائتیں ہیں وہ اِسی رویے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ مَیں ایک خبر پڑھ رہا تھا کہ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کی سادگی سے تدفین دیکھ کر سعودی عرب میں مقیم 6سو جاپانی مسلمان ہو گئے۔ اچھی مثالیں کس طرح لوگوں کے دِلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، یہاں تو قبرستان بھی قبضہ گروپوں سے محفوظ نہیں۔ اب لوگ قبروں کی جگہ چار دیواری کر کے مزار بنا لیتے ہیں، جو ذہنیت زندگی میں ہوتی ہے، وہی مرنے کے بعد بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مثالیں اوپر قائم ہوتی ہیں اور نیچے تک آتی ہیں۔ پانی کبھی نشیب سے فراز کی طرف نہیں جاتا۔ ہمارے امراء نے ہمیشہ بُری مثالیں ہی قائم کی ہیں، لیکن قوم کو ہمیشہ اچھی مثالیں قائم کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ سُن سُن کر تو میری طرح آپ کے بھی کان پک چکے ہوں گے کہ عوام قربانی دیں یا یہ کہ وہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ عوام سے قربانی مانگنے والے ہمیشہ خود قربانی دینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔معیشت چاہے سسکیاں لے رہی ہو، اُن کے اللے تللے جاری رہتے ہیں۔ دفتر وں کی آرائش و زیبائش اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر کروڑوں اُڑا دیئے جاتے ہیں، جس کسی پر سرکار کا ٹھپہ لگ جائے وہ پانی تک سرکاری وسائل سے پینے لگتا ہے۔ گویا وہ عوام کے سروں پر سوار ہو جاتا ہے اور اُن سے منتخب کرنے کا خراج مانگتا ہے۔
ہماری سیاست وہ کالی چادر ہے کہ جس کے پیچھے سب کچھ چھپ جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے آسان نسخہ یہی ہے کہ آپ اپنی لوٹ مار یا لاقانونیت کو سیاست میں چھپا دیں، پھر جب کوئی سرکاری محکمہ یا حکومت آپ کے خلاف کارروائی کرے تو سیاسی انتقام کا شور مچا کر جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیں۔ یہ وہ تیز بہدف نسخہ ہے کہ جسے پچھلی کئی دہائیوں سے بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہاہے۔ ہنگ لگے نہ پھٹکری، رنگ بھی چوکھا آئے، کے مصداق اس نسخے کے ذریعے نہ صرف قانون کو بے بس کیا جا سکتا ہے، بلکہ عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کا سو فیصد چانس بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ہے، جو کرپشن کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔کس آئین میں لکھا ہے کہ سیاست دان کے خلاف قانون شکنی پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، اگر حکومت مختلف شہروں سے نوگو ایریاز ختم کرنے کا اعلان کر دے تو آج ہی اس کے خلاف انتقامی کارروائی کا واویلا شروع ہو جائے گا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھیں گی کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے۔یہ وہ مُلک ہے کہ اگر آپ کسی کی زمین پر قبضہ کر کے سیاسی جماعت کا دفتر بنا لیں اور اُس پر جھنڈا لگا دیں، تو کوئی مائی کا لال آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گاا سی طرح کسی سیاسی شخصیت کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو سیکیورٹی کے نام پر بند کر دیں، تو اسے کھلوانے کی ہر کوشش جمہوریت دشمنی شمار ہو گی۔ سپریم کورٹ نے کراچی سے نوگو ایریاز ختم کرنے کا حکم دیا تھا، مگر سندھ حکومت اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی کیسے مارتی، سو بلاول ہاؤس کو جانے والی سڑکیں کھل سکیں اور نہ ہی نائن زیرو یا لیاری کے راستے کھل سکے۔ جب جمہوریت اور سیاست کا نام لاقانونیت پڑ جائے، تو پھر کہاں کی گڈ گورننس اور کہاں کا مہذب معاشرہ۔

جن ممالک نے سیاست اور سیاست دانوں کو مقدس گائے نہیں سمجھا، وہ آج ایک بہتر معاشرے کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں اگر جان کیری کو گھر کے آگے پڑی برف نہ ہٹانے پر جرمانہ ہو سکتا ہے، تو وہاں کا عام شہری اس حرکت کا کیسے سوچے گا؟یہاں سیاست دان صرف اپنے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنے حواریوں کے لئے بھی قانون سے مکمل چھوٹ مانگتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے جب تک کوئی بدعملی سامنے نہ آئے کوئی حکومتی ادارہ ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ان کے اسلحہ بردار شادیوں اور جلسوں کے موقعوں پر بے دریغ فائرنگ کر کے قانون توڑتے ہیں۔ پولیس کے تھانے اور سپاہی سامنے کھڑے ہوتے ہیں، مگر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کسی میڈیا چینل کی نظر اُن پر پڑ جائے اور وہ خبر کو نشر کر دے تو وزیراعلیٰ نوٹس لیتے ہیں، جس کے بعد پولیس کے تنِ مردہ میں جان پڑتی ہے اور وہ ملزموں کے خلاف قانون کے بستے اُٹھا کر کارروائی کرنے کا قصدکرتی ہے، کیا اسے قانون کی عمل داری قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک تو ریاست نے اپنے تمام اختیارات وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ذات میں بند کر دیئے ہیں۔ وہ جب تک نوٹس نہ لیں ریاستی ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ممکن ہے وہ اس بات پر خوش ہوتے ہوں، لیکن میرے نزدیک یہ اُن کی طرزِ حکمرانی کی توہین ہے۔ اتنے بڑے حکومتی سٹرکچر اور گلی محلے تک پھیلے ہوئے حکومتی نظام کے باوجود اگر اُن کی حکمرانی صرف ان کی ذات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے تو یہ اُن کے لئے شرمندگی کی بات ہونی چاہئے،فخر کی نہیں۔ فیصل آباد میں تین ڈاکوؤں کو لوگوں نے ’’فوری انصاف‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کر کے مار دیا۔ اس واقعہ کا کسی نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا، معمول کی بات سمجھا گیا، چلو اور کچھ نہ سہی ان پولیس والوں کے خلاف تو کارروائی ہونی چاہئے تھی،جو ریاست کے اندر ایسا فوری انصاف ہوتا دیکھ رہے تھے۔ اس ایس ایچ او کو نوکری سے برخواست کیا جانا چاہئے تھا، جس نے ایک طرف اپنے علاقے میں ڈاکوؤں کو کھلا چھوڑے رکھا اور دوسری طرف انہیں لوگوں کے ہاتھوں مرنے دیا،مگر جہاں ریاستی ادارے مفلوج ہو جائیں وہاں عوامی طاقت ہی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ہمارے طبق�ۂ اشرافیہ نے ایک طرف بری مثالوں سے لوگوں کو قانون شکنی کا راستہ دکھایا ہے، تو دوسری طرف ریاست کے تمام محکموں کو زنگ آلود کر دیا ہے تاکہ وہ اپنا آئینی فرض ادا نہ کر سکیں، کیونکہ اس صورت میں خود اُن کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ایک دہشت گرد کو بھی زندہ نہ چھوڑنے کے دعوے اپنی جگہ وقت کی ضرورت سہی، مگر یہ ہر مسئلے کا حل نہیں۔ یہ دعوے اور ان پر عمل بھی ضروری ہے کہ کسی کرپٹ اور قانون شکن کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سیاست کی آڑ میں کسی کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ریاستی مشینری کو جوابدہ بنایا جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود حکمران قانون کے احترام کی اعلیٰ مثالیں قائم کریں گے، مگر ان میں سے کچھ بھی نہیں ہو گا،کیونکہ اس عمل میں پَر بھی جلتے ہیں اور اپنے ہی ہاتھ بھی کٹتے ہیں۔حماقت کون کر سکتا ہے، یہاں تو سب دانا ہیں۔

مزید :

کالم -