بجلی، ایل این جی پر! سمارٹ کارڈ اور میٹر!

بجلی، ایل این جی پر! سمارٹ کارڈ اور میٹر!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزارت پانی و بجلی ملک میں ایک ایسی تکنیک آزمانے جا رہی ہے جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اب متروک سی جانی جا رہی ہے۔ بڑے فخر سے بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں کارڈ سسٹم والے سمارٹ میٹر متعارف کرائے جا رہے ہیں جو ’’پری پیڈ‘‘ ہوں گے۔ دوسرے معنوں میں صارف کارڈ خریدے گا اور میٹر میں داخل کرے گا، کارڈ جتنی مالیت کا ہوگا جب وہ پوری ہو جائے گی تو بجلی خود بخود منقطع ہو جائے گی۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ طریق کار بجلی، پانی اور گیس وغیرہ کے لئے بہت پہلے اختیار کیا گیا یہ الگ بات ہے کہ سلسلہ سکوں سے شروع ہوا اور اب بات سمارٹ کارڈ تک آ گئی ہے جو انفرمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہے۔بتایا گیا ہے کہ قطر سے ایل این جی کی درآمد کا معاہدہ ہو گیا اور پہلی کھیپ 31 مارچ تک پہنچ جائے گی۔ پنجاب کی حد تک یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو بجلی گھر کوئلے سے چلنے والے بنائے جانا تھے اب ان کو ایل این جی پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ سستا اور ماحول دوست سلسلہ ہوگا۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایل این جی سے بجلی 8روپے 35پیسے فی یونٹ مہیا کی جا سکے گی اور درآمدی کوئلے سے سستی ہوگی۔جہاں تک پنجاب میں کوئلے سے بجلی بنانے والے دو پاور ہاؤسوں کو ایل این جی پر منتقل کرنے کا فیصلہ ہے اسے بہتر اور اچھا ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ کوئلے کے استعمال کی مخالفت کی جارہی تھی یوں بھی سائنس دان حضرات کے ایما پر اقوام متحدہ کی ہدایت ہے کہ فرنس آئل اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے کہ یہ ماحول دوست نہیں ہیں۔یہ اچھا ہوا کہ ابھی چین سے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے اور کام شروع نہیں ہوا تو یہ فیصلہ ہو گیا۔ ورنہ ہمارے ملک میں تبدیلی کا عمل کافی کچھ خرچ کرنے کے بعد ہوتا ہے اور پھر لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ سمارٹ کارڈ کے اجرا کا فیصلہ بھی بہتر ہے، اسے ایل این جی کی بجلی سے منسلک کیا گیا ہے تو وقت کی بھی کوئی قید نہیں توقع کرنا چاہیے کہ کوئی گڑ بڑ نہیں ہوتی اور جہاں پاور ہاؤس جلد بنیں گے اس کے ساتھ ہی سمارٹ کارڈ اور میٹر بھی دستیاب ہوں گے۔ ایل این جی کے حوالے سے یہ شکایت سامنے آ رہی ہے کہ قطر کے ساتھ مہنگا سودا کیا گیا۔ قطر نے دوسرے مغربی ممالک کی نسبت پاکستان کو مہنگے داموں گیس دینے کا معاہدہ کیا ہے اس کی وضاحت حکومت پر فرض ہے اور جلد ہونا چاہیے شکوک دور کرنا لازمی ہے۔

مزید :

اداریہ -