جرائم میں اضافہ اور علاج!

جرائم میں اضافہ اور علاج!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مُلک میں امن و امان کی جو صورت حال ہے ،عوام مجموعی طور پر اس سے تنگ آ چکے ہیں، کراچی سے خیبر تک صورت حال خراب ہے۔ بھتہ خوری سے اغوا برائے تاوان، راہزنی اور ڈکیتی کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں کہ چوریوں کو گِنا ہی نہیں جاتا، کراچی میں تو سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے متحد ہو کر ہڑتال کر دی ہے۔ اب نوبت اس حد تک پہنچ گئی کہ اگر ملزم عوام کے ہتھے چڑھ جائیں تو ان کی وہ خود ہی درگت بنا دیتے ہیں، ایسے ہی تین ملزم فیصل آباد میں عوامی مار پیٹ برداشت نہ کر سکے اور جان ہار گئے۔ بتایا یہ گیا ہے کہ پانچ افراد نے ایک دکاندار کو لوٹنے کی کوشش کی، مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی جس سے تین افراد زخمی ہو گئے، لیکن یہ وہاں کے عوام کو خوفزدہ نہ کر سکے، جنہوں نے جرأت کر کے ان کو پکڑ لیا اور پھر بہت بُری طرح زدوکوب کیا، حتیٰ کہ پولیس کے آنے تک ان کی حالت غیر ہو گئی اور ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
اس واردات کے بعد ایک بحث چھڑ گئی کہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ یہ بھی درست ہے، بلکہ ایسا ہی ہونا چاہئے اور فیصل آباد میں لوگوں نے ہوش پر جوش کو غالب آنے دیا تو یہ بہتر عمل نہیں تھا، انہوں نے ملزم پکڑ لئے تھے ،تو ان کو پولیس کے حوالے کر دیتے جو تفتیش کرتی اور اس گروہ کے دوسرے لوگ بھی پکڑے جاتے اس تصور یا خیال کی تائید کئے بغیر چارہ نہیں، کیونکہ قانون ہاتھ میں لینے سے انارکی والی کیفیت ہو جاتی ہے۔
یہ اصولی بات ہے، اس سے انکار نہیں، لیکن اس کا جواب بھی تو ملنا چاہئے کہ ڈکیتی اور ایسے بڑے جرائم کی وارداتوں میں جو اضافہ ہوا اس کی روک تھام کے لئے کیا کِیا گیا اور کیا یہ نہیں ہوتا کہ ملزم کو موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جاتا تو وہ پولیس کا مہمان بن جاتا اور بالآخر چھوٹ جاتا ہے۔ ایسے میں ردعمل تو ہونا ہی ہے۔
مُلک میں جب تک انتظامی مشینری اور قانون نافذ کرنے اور جرائم کی روک تھام کے ذمہ دار اداروں کے اہلکار اپنے فرائض اہلیت،ایمانداری اور دیانتداری سے نہیں نبھاتے جرائم کی شرح میں کمی نہیں ہو گی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جرم کے ہونے سے مجرم کے کیفر کردار تک پہنچنے تک کا عمل خوف اور لالچ سے پاک ہو اور کسی امتیاز کے بغیر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کے لئے پراسیکیوشن کے شعبہ کی بھی بہت اہمیت ہے جسے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہئے۔ اگر ملزم پکڑے جائیں، ان کے خلاف مضبوط کیس بنیں، ان کی باقاعدہ پیروی ہو اور سزا یاب ہو جائیں تو یقیناًجرائم میں کمی ہو گی، جب تک یہ پورا نظام ٹھیک نہیں ہو گا جرائم پیشہ افراد کا خوف بھی کم نہیں ہو گا اور وارداتیں ہوتی رہیں گی۔دراصل پورے نظام کی اوور ہالنگ ضروری اور عوام کے جان و مال کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے اگر یہ فرض نبھایا جائے تو پھر لوگ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے۔

مزید :

اداریہ -