کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے

کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جمعرات کو ملک بھر میںیوم کشمیر منایا گیا، جگہ جگہ ریلیاں نکالی گئیں اور آزاد کشمیر میں کوہالہ پُل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی الگ الگ قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کیں۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ 7 لاکھ بھارتی فوجیوں کے تسلط کے باوجود کشمیری عوام انتہائی بہادری سے اپنے حق خود ارادیت کے لئے جدو جہد کررہے ہیں۔ قرارداد میں مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر میں نوجوانوں کے اغوا کے بعد قتل سمیت بھارتی مظالم کا نوٹس لیا جائے۔
اہل کشمیر سے یک جہتی کا اظہار کرنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف آزاد کشمیر گئے وہاں انہوں نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کیا۔انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں اور اس تحریک میں شہید ہونے والوں کو سلام پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان حق خود ارادیت حاصل کرنے لیے کشمیریوں کے لئے اقتصادی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی، کشمیر کی آزادی کا مطالبہ آئینی ، قانونی اور سیاسی حق ہے، جبکہ اس مطالبے کے حق میں حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی آواز اٹھائی ہے۔ 5 فروری کو یوم کشمیر منانے کا سلسلہ 1990ء میں شروع ہواتھا اور آج تک جاری ہے۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد 1947ء میں پاکستان تو بن گیا، لیکن کشمیر یوں کو آزادی نصیب نہ ہوئی۔ریڈ کلف ایوارڈ میں بدنیتی اور راجا ہری سنگھ کے ’ مرہون منت ‘ کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہونے کے باوجود ہندوستان کا حصہ بن گیایہ اور بات کہ کشمیریوں نے آج تک ہندوستان کو اپنا گھر نہیں مانا ۔ 1947-48ء میں مسئلہ کشمیرکے حوالے سے عالمی برادری اس بات پر متفق تھی کہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق کشمیریوں کو ہی حاصل ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس وقت کے حالات کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو خود ہی اقوام متحدہ میں گئے، اس وقت تو انہوں نے وعدہ کر لیا کہ رائے شماری کا، جو بھی نتیجہ آئے گا وہ اسے قبول کریں گے، بلکہ اگر آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کریں گے، لیکن پھر کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کرکے پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد خود ہی اپنے وعدے سے پھر گئے اورایسا پھرے کہ آج تک بھارت اقوام متحدہ کی قراردوں کو ماننے سے انکاری ہے۔اقوام متحدہ میں اب تک مسئلہ کشمیر سے متعلق اٹھارہ قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں، لیکن مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔چند ماہ قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی دونوں ممالک کو ثالثی کی پیشکش کی، لیکن بھارت اقوام متحدہ سمیت کسی بھی تیسرے فریق کو شامل کرنے پر رضامند نہیں ہے۔بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے خواب تو دیکھ رہا ہے، لیکن اسی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل نہ کرنے پر ڈٹا ہوا ہے۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے تو گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران بھی کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کیا تھا،جو بھارت کو بے حد ناگوار گزرا تھا۔اس نے وہاں بھی اس مسئلے کو دونوں ممالک کا باہمی معاملہ قرار دیتے ہوئے اسے دبانے کی کوشش کی، بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے توپاکستان کو تنبیہ بھی کی کہ کسی بھی تیسرے فریق کو ثالث بنانے سے مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، یہ اور بات ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بھارت خود ہی بند کئے بیٹھا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تو مقبوضہ کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرنے کی بھی بڑی کوشش کی، عام انتخابات کا انعقاد بھی کرایا لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، ان کا ’’44پلس‘‘ منصوبہ ناکام ہوگیا۔کسی بھی جماعت کی واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ یہ گزشتہ37سال میں چھٹاگورنر راج ہے،اس وقت ہندو گورنر نریندر ناتھ دْہرا انتظامیہ کی کمان سنبھالے ہوئے ہے۔
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی جدو جہد آزادی میں شامل تنظیموں کے مطابق کشمیر میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد شہید کئے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں،لیکن مشہور بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اپریل1990ء سے جنوری 2011ء تک 21 سال کے دوران 43,460 افراد کشمیر میں مارے گئے۔
شملہ معاہدے کی آڑ لے کر بھارت ہمیشہ تیسرے فریق کو اس معاملے سے دور رکھنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے،حالانکہ اِسی شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پرگولہ باری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔
شملہ معاہدے کی روشنی میں اگرپاک بھارت باہمی بات چیت کے تحت تنازعات حل ہوچکے ہوتے، تو آج تقریباً42سال (چار سے زائد دہائیوں ) کے گزر جانے کے بعددونوں اِسی جگہ نہ کھڑے ہوتے، دونوں ممالک کے تعلقات کی گاڑی ایک طویل خوشگوار سفر طے کر چکی ہوتی ، دونوں روایتی حریف کی بجائے دوست نہ سہی اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے سے تعاون ضرور کر رہے ہوتے،جس طرح مشرقِ وسطیٰ میں عرب اسرائیل تنازعات کو حل کئے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے بالکل ویسے ہی جنوبی ایشیاء میں پاک بھارت تعلقات کو خوشگواربنائے بغیر امن اور استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔بھارت اپنی جارحیت کے بل بوتے پر خطے میں اپنی طاقت نہیں منوا سکتا۔
بھارت اور پاکستان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذاکرات اور بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے، جنگی ماحول کسی کے لئے بھی سازگار نہیں ہو سکتا۔کشمیریوں کو ان کا حق خودِ ارادیت ہر صورت ملنا چاہئے، وہ کہاں اور کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف انہی کے پاس ہونا چاہئے ، کوئی بھی ان پر کسی قسم کا دباو نہیں ڈال سکتا۔دونوں ممالک کو چاہئے کہ مل کر جلد ازجلد مسئلہ کشمیر کا ایسا حل نکالیں ،جوتمام فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔

مزید :

اداریہ -