اگلے ماہ امریکہ کا اعلیٰ سطحی تجارتی وفد پاکستان کادورہ کریگا:خرم دستگیر

اگلے ماہ امریکہ کا اعلیٰ سطحی تجارتی وفد پاکستان کادورہ کریگا:خرم دستگیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

فیصل آباد(آن لائن) وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کاکہناہے کہ آئندہ ماہ امریکہ کا اعلی سطحی ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کا وفد پاکستان آرہا ہے جو پاکستانی ایکسپورٹرز کیساتھ ساتھ دیگر ٹیکسٹائل سے متعلقہ مصنوعات کی اپنے ملک میں امپورٹ کے بارے میں نہ صرف بات چیت کرے گا بلکہ اہم معاہدوں کی بھی توقع ہے۔ پاکستان میں نویں ایکسپو نمائش مارچ میں کراچی میں منعقد ہورہی ہے جس میں دنیا بھر کے صنعتکار اور ایکسپورٹر شرکت کریں گے اور آئندہ ماہ مارچ میں اسلام آباد میں امریکہ کے تعاون سے ایک بزنس کانفرنس بھی منعقد ہوگی جس میں بڑے بڑے امریکی تاجر اور صنعتکار شرکت کریں گے جبکہ مارچ کے آخری ہفتے میں چین کے صدر کی پاکستان آمد متوقع ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں جس میں چینی صنعتکاروں کیساتھ پاکستان میں تجارت کو فروغ دینے کیلئے معاہدے ہوں گے اور پاکستان میں چین کی مدد سے جو پراجیکٹ لگائے جارہے تھے وہ دھرنوں اور احتجاجی سیاست کا شکار ہوگئے تھے اب دوبارہ ان منصوبوں پر بھی کام شروع ہوجائے گا جس سے پاکستان میں تجارت کو فروغ حاصل ہوگا اور چین ان منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شہر ہے اور اسے ٹیکسٹائل کی وجہ سے ایشیاء کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ پاکستان سے 150 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ ہونی چاہئے۔ اس موقع پر سابق چیئرمین ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور معروف صنعتکار اور ’’چن ون‘‘ کے مالک میاں محمد لطیف نے وزیر تجارت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قرضوں کی وصولی کیلئے صنعتکاروں اور ایکسپورٹرز کیساتھ سخت رویہ رواء رکھے ہوئے ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اور مالیاتی ادارے ہمارے قرضے بیشک معاف نہ کرے بلکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک انہیں ری شیڈول کردے۔ اگر حکومت ہمارے ری شیڈولنگ کے سلسلے میں ہمارے ساتھ تعاون کرے تو حکومت کے اعلان کے برعکس 150 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کو 300 ملین ڈالر تک لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کی طرف سے یہ یقین دہانی کراتے ہوئے بھی کہا کہ اگر حکومت ہمارے قرضے ری شیڈول کرلے تو پاکستان کے بڑے بڑے ایکسپورٹرز اور صنعتکار جو دیگر ممالک میں کاروبار کررہے ہیں وہ اپنا سرمایہ واپس ملک میں لاکر ملکی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس سے بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -