حضرت سید نفیس الحسینی ؒ ایک بے مثال شخصیت

حضرت سید نفیس الحسینی ؒ ایک بے مثال شخصیت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر: مفتی خالد محمود
عاشق رسول ؐ،اہلِ بیتؓ و اصحابؓ رسول سے سچی محبت کرنے والے ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر ، اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے صدر، حضرت مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کی مسند کے وارث ، رئیس الخطاطین، رہبر شریعت ، پیر طریقت حضرت اقدس سید نفیس الحسینی مرجع خلائق ، معلومات کا خزانہ اور مکارم اخلاق کا نمونہ اور زہد و تقویٰ کے پیکر تھے، آپ عظیم ہستیوں میں سے تھے جن کے وجود مسعود سے علم و علماء کا وقار قائم ہوتاہے، جن کے دم سے خانقاہوں کی عظمت برقرار رہتی ہے، جن کے انفاس قدسیہ سے ارشاد و تلقین کی شمعیں روشن ہوتی ہیں، جو شمع کی مانند خود پگھلتے ہیں مگر مخلوق خدا پر ضوفشانی کرتے ہیں، جو خود جلتے ہیں، مگر دوسروں کو جلا بخشتے ہیں، جو خود بے قرارو بے چین رہ کر دوسروں کی راحت کاسامان کرتے ہیں، حضرت اقدس ان عظیم لوگوں میں سے تھے جن کے سایۂ عاطفت میں بے کس و درماندہ افراد پناہ لیتے تھے، مجروح دل ان کے انفاس سے مرہم و شفا پاتے تھے، حضرت ان اکابر میں سے تھے جن کے اُٹھ جانے سے مسند ولایت بے رونق ہوجاتی ہے، قصر ملت پر زلزلہ آجاتاہے، گلشن دین اجڑتاہوا محسوس ہوتاہے۔
اس قدر بلند مقام اور عظیم المرتبت ہونے کے باوجود آپ کی یہ تواضع وانکساری ہی آپ کا کمال تھا، آپ صرف نام کے ہی نفیس نہیں تھے بلکہ آپ واقعتا نفیس تھے، آپ کے کلام، آپ کے انداز، آپ کی سوچ، ہر چیز میں نفاست تھی، لیکن سادگی کے ساتھ آپ کی ذات میں تکلف و تصنع نہیں تھا نہ خود نمائی تھی، آپؒ اعلیٰ اخلاق کے نمونہ تھے، آپ ایک ہمدرد اور دردمند دل رکھنے والے خلیق وملنسار تھے، غمزدہ دل آپ سے مل کر سکون محسوس کرتاتھا، خورد نوازی میں توآپ کا کوئی ثانی نہیں تھا، بارہا حضرت اقدس کی خدمت میں حاضری کاشرف ہوا، کیونکہ جب بھی لاہور جاناہوتا تو کوشش یہی ہوتی تھی کہ حضرت کی خدمت میں حاضری ہوجائے اور جب حاضری ہوتی ، حضرت انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے، سینے سے لگاتے، حال احوال پوچھتے اور خوب دعاؤں سے نوازتے، اپنے پاس چارپائی پر یا سامنے کرسی منگوا کر بٹھاتے۔
حضرت اقدس دودمان نبوت کے چاند اور حسینی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کا نسب حضرت زید بن علی زین العابدینؓ کے واسطے سے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتاہے، حضرت زید بن علیؒ حضرت حسینؓ کے پوتے اور حضرت زین العابدین ؒ کے صاحبزادے تھے۔
حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب ؒ کی عقیدت صرف حضرت زید بن علیؒ تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ آپؒ کو تمام اہلِ بیتؓعظام سے انتہائی عقیدت و محبت تھی اور ان کی محبت کو آپ جزو ایمان اور نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی محبت و عقیدت کا اظہار ہے کہ آپ نے ’’ریحان عترت ‘‘کے نام سے ایک کتاب مرتب کی، نام کے نیچے آپ نے تحریرفرمایا: ’’بہار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند شگفتہ پھولوں کا گلدستہ‘‘ اس کتاب میں متعددمضامین آپ کے اپنے تحریرکردہ ہیں، اس کتاب اور آپ کے ان مضامین کے حرف حرف اور سطر سطر سے اہل بیت کی محبت ٹپکتی ہوئی نظرآتی ہے اور پھر آپ کے اشعار جو آپ نے اہل بیت عظامؓ کی محبت خصوصاً حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہے ان میں اپنی گہری محبت اور احترام کا کھلے دل سے اظہار کیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر صحابہ کرامؓ کی عظمت بھی آپ کے دل میں بھرپور انداز میں پائی جاتی ہے جو کہ اہل حق کا شیوہ اور انکا طریقہ رہاہے۔
حضرت کے اشعار میں آپ کے کلام میں آپ کی گفتگو میں اہل بیت عظامؓ کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار ہوتاہے تو وہاں صحابہ کرامؓ کی محبت بھی عظمت کے ساتھ نظرآئے گی۔
جس قلب میں یارانِ نبی کی ہو عقیدت
کھلتے ہیں اسی قلب پر اسرارِ مدینہ
معمور صحابہؓ کی محبت سے رہے گا
وہ سینہ کہ ہے مہبط انوارِ مدینہ
وہ آلِ محمدؐ ہوں کہ اصحابِ محمدؐ
ہیں زینتِ دربار دُرِبارِ مدینہ
بوبکرؓ ہوں، عمرؓ ہوں، وہ عثماںؓ ہوں یا علیؓ
چاروں سے آشکار کمالِ رسولؐ ہے
حضرت سیدناحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تعلق و محبت کی بناء پرآپ نے زیدی کی نسبت کے بجائے الحسینی کی نسبت اپنے نام کے ساتھ لگائی اور حضرت اب اسی نسبت کو پسند کرتے اور اسے ہی لکھتے تھے۔ اپنے بچوں کے نام کے ساتھ بھی یہی نسبت لگایاکرتے تھے’’حسینی‘‘ کو اپنے نام کا جزو بنانے کی وجہ حضرتؒ خود بیان کرتے ہیں:
’’اگرچہ شروع ہی سے مذہبی رجحانات کا غلبہ تھا، لیکن (53۔1954ء)میں طبیعت تمام کی تما م تصوف کی طرف مائل ہوگئی، میں تصوف میں سیدنا حسینؓ کی محبت کے شدید جذبہ کے زیر اثر داخل ہوا، ان ہی کی محبت نے مجھے دین اسلام کا پرعزیمت راستہ دکھایا اور طریقت کی طرف مائل کیا:
اپنے اللہ کا صد شکر ادا کرتاہوں
جس نے وابستہ کیا دامن شبیر کے ساتھ
اپنے مورث اعلیٰ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عزیمت، بے مثال قربانی، صبر واستقامت اور علوشان کے مقابلہ میں اپنی درماندگی کے حالات سے شرمندہ ہو کر انفعالی کیفیت میں دیر تک آبدیدہ رہاکرتاتھا۔ اسی طرح میرے جد امجد حضرت خواجہ گیسودازؒ سے فطری محبت کے باعث آپ کے نام ’’محمد الحسینی‘‘ کے جزو آخر نے بھی ترغیب دلائی چنانچہ اسی خاندانی نسبت کے زیر اثر نفیس کے ساتھ ’’الحسینی‘‘ لکھناشروع کردیا۔ بالآخر عنایات خداوندی نے شیخ وقت قطب الرشاد حضرت مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کی خدمت مبارک میں پہنچادیا، گویاسیدنا حضرت حسینؓ سے محبت وعقیدت میرے راہ سلوک و طریقت اختیارکرنے کا مقدمہ اور پیش خیمہ بنی۔‘‘ (برگ گل ص:33)
حضرت شاہ صاحبؒ کا سلسلۂ نسب چودہ واسطوں سے حضرت سید محمد الحسینی خواجہ گیسودرازؒ تک پہنچتاہے۔ حضرت خواجہ گیسودرازؒ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کے جانشین حضرت نصیرالدین چراغ دہلی کے خلیفہ ہیں، حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں:
خاندان گیسودرازؒ کے ایک فرد فرید حضرت شاہ حفیظ اللہ حسینی جو اپنے آباء کرام کے محاسن وکمالات کے حامل تھے، 1134ھ میں واردِ پنجاب ہوئے اور سیالکوٹ کے مضافات کو اپنا مستقر بنایا، ان کی اولاد و احفاد اسی علاقے میں پروان چڑھی اور پھلی پھولی، بحمدللہ تعالیٰ راقم الحروف کا تعلق اسی خاندان گیسودراز کی اسی شاخ سے ہے۔‘‘(ریحان عترت ص؛424)
آخرکار حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہ 5؍فروری2008ء بمطابق 26؍ محرم الحرام 1429ھ بروز منگل صبح کے وقت اس دارِ فانی سے منہ موڑ کر عالم بقا کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

مزید :

ایڈیشن 1 -