جماعت اہلحدیث کے زیر اہتمام ”حرمت رسول اور یکجہتی کشمیر سیمینار“

جماعت اہلحدیث کے زیر اہتمام ”حرمت رسول اور یکجہتی کشمیر سیمینار“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (پ ر) جماعت اہل حدیث پاکستان کے زیر اہتمام ”حرمت رسول ﷺاور یکجہتی کشمیر سیمینار“ گذشتہ روز پریس کلب لاہور میں ہوا سمینار کی صدارت امیر جماعت اہل حدیث پاکستان حافظ عبدالغفار روپڑی نے کی ان کے علاوہ متحدہ جہاد کونسل کے سیکرٹری جنرل اور امیر تحریک المجاہدین مولانا شیخ جمیل الرحمن، مولانا امجد خاں، جماعت اسلامی رہنما مولانا ڈاکٹر فرید پراچہ، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا رانا محمد نصر اللہ خاں، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا زبیر عابد، مولانا عبدالوہاب روپڑی، مولانا شکیل الرحمن ناصر، مولانا عبدالوحید شاہد، مولانا شاہد محمود جانباز سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماﺅں نے خصوصی شرکت کی۔سیمینار میں جماعتی ذمہ داران، کارکنان سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ناموس رسالت کے تحفظ اور مظلوم کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے بھرپور شرکت کی۔ بعد ازاں پریس کلب لاہور کے باہر تحفظ ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں کارکنان و ذمہ داران نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارت ، امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قائدین نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونیوالی عالمی سازشوں کا متحد ہو کر ڈٹ کا مقابلہ کرنے پر زور دیا۔ حافظ عبدالغفار روپڑی نے اپنا صدارتی خطاب کہا کہ رسول اللہ ﷺ اور انبیاءکی توہین یہودیت اور کفر کا مشترکہ مشن ہے، ایک باقاعدہ عالمی سازش کے تحت مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کےلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں رسالت مآب ﷺ کی شان گستاخی کے مرتکب ہو کر دنیا و آخرت کا عذاب مول لینے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
 کوئی بھی مسلمان تحفظ ناموس رسالت کےلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ گستاخ رسول کو جہنم واصل کرنا کسی بھی مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے ڈاکٹر فرید پراچہ ، مولانا زبیر احمد ظہیر، رانا محمد نصر اللہ خاں و دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات سمیت دیگر مراسم فوری ختم کرے ۔ حرمت رسول ﷺکے معاملے میں مصلحت کا مظاہرہ کرنے والے اسلام دشمن قوتوں کا آلہ¿ کار سمجھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے تحفظ ناموس رسالت کے معاملے میں اگر کسی ٹال مٹول سے کام لیا تو یہ اپنے تختوں سمیت نیست و نابود ہو جائیں گے اور اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد نے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیطانوں کی انجمن اقوام متحدہ کا کردار انتہائی تشویشناک اور قابل نفرت ہے۔ اقوام متحدہ نے ہمیشہ اسلام دشمن طاقتوں کی مکمل سرپرستی کی ہے اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کی ہمنوا ہے۔ OICکو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے قائدین نے شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا OICتنظیم مردہ گھوڑے سا کردار ادا کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرے۔ اسلام کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہاتھ کو کاٹنے کے لیے غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم حکمران ابھی بھی بیدار نہ ہوئے تو وہ وقت دور نہیں جب اس خطے میں بھی اندلس اور سپین جیسے دل سوز مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ مولانا شکیل الرحمن ناصر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اہل حدیث پاکستان کے زیر اہتمام آج سے ملک بھر میں ”تحفظ ناموس رسالت تحریک “چلائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور دیگر گھناﺅنی سازشوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے۔ امیر تحریک المجاہدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روز اول سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جا رہا ہے۔ مگر کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ہمت آج تک کسی بھی حکمران نے نہیں کی۔ موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں کی بے حسی انتہائی تشویشناک اور کشمیری شہداءکے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے ہمارا نظریاتی رشتہ ہے اور لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے اس رشتہ کی پاسداری پاکستانی حکمرانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کشمیریوں کی تیسری نسل پاکستان سبز پرچم تلے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کشمیری کی آزادی تک ادھوری اور نامکمل ہے۔ عرصہ قدیم سے کشمیر میں بے گناہ نہتے عوام کو انتہائی تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے اور عورتوں کی عصمت دری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔ جبکہ حقوق انسانی کی نام نہاد علمبردار عالمی تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد کی زحمت ابھی تک نہیں ہو سکی۔کشمیر کے اندر بھارتی جارحیت اور بربریت کی مثالیں ان گنت ہوتی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت حقوق انسانیت کی دیگر تنظیمیں اور عالمی برادری سے کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کا فوری طور پر نوٹس لے تاکہ کشمیری عوام اپنی زندگی میں چین کی سانس لے سکیں۔ اس موقع پر مولانا عبدالوہاب روپڑی، مولانا شکیل الرحمن ناصر، مولانا شاہد محمود جانباز، سلمان عادل، مولانا بشیر سلفی، مولانا خلیل الرحمن خلجی سمیت دیگر رہنماﺅںنے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔