گورنمنٹ آفیسرز کو آپریٹو سوسائٹی میں لا قانونیت کے ڈیرے ،رپورٹ سرخ فیتے کی نظر کر دی گئی

گورنمنٹ آفیسرز کو آپریٹو سوسائٹی میں لا قانونیت کے ڈیرے ،رپورٹ سرخ فیتے کی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                      لاہور(عامر بٹ سے)محکمہ کوآپریٹو سے منظور شدہ (سرکاری افسران)کی رہائش کے لئے قائم کی جانے والی گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو سوسائٹی میں لاقانونیت کے ڈیرے،اختیارات سے تجاوز ،قوانین کی خلاف ورزی اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی معمول بن گئی،موقع فیلڈکے مطابق جنگل اور ویرانے کا منظر پیش کرنے والی سوسائٹی میں سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات نے کرپشن کا پول کھول دیا ،محکمہ کوآپریٹو کے سرکل رجسٹرار کی جانب سے کی جانے والی انسپکشن اور تحریری رپورٹ 3ماہ سے سرخ فیتے کی نظر کر دی گئی،مزید معلوم ہوا ہے کہ رائے ونڈ ُپر واقع گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو سوسائٹی آغاز سے ہی بد نیتی ،کرپشن ،بند ربانٹ،لاقانونیت اور اختیارات سے تجاوز کئے جانے والے اقدامات کے باعث بدنام زمانہ سوسائٹی میں شمار ہو چکی ہے اور بد قسمتی نے آج بھی اس سوسائٹی کا پیچھا نہ چھوڑا ہے سوسائٹی ہذا میں کی جانے والی کرپشن کی اطلاعات جب رجسٹرار کوآپریٹو پنجاب ہارون رفیق تک پہنچی تو انہوں نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کےلئے سرکل رجسٹرار مہر منیر کو موقع ملاحظہ کی رپورٹ کرنے کی ہدائت کی موقع پر کی جانے والی انسپکشن اور تحریر ی رپورٹ کے مطابق سرکل آفیسر مہر منیر نے بتایا کہ گورنمنٹ کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور فنانس سیکرٹری سوسائٹی ہذا کا ناصر ف ریکارڈ مہیاکرنے سے انکاری ہیں بلکہ محکمہ کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز کے جوابات دینے سے بھی قاصر ہیں گورنمنٹ آفیسرز سوسائٹی کے 4فیز ہیں جن میں اے ،بی ،سی اور ڈی شامل ہیں چاروں بلاکس کا آپس میں کوئی موازنہ نہ ہے تمام بلاکس ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پر ہیں ،بلاک Aاور Bسیوریج کے ساتھ بجلی کا نظام بھی موجود ہے جو کہ سوسائٹی ہذا نے 2004میں واپڈا کی منظوری سے حاصل کی لیکن منیجنگ کمیٹی سوسائٹی کے بلاکAاور Bمیں بجلی کی فراہمی میں تاحال ناکام رہی ہے کسی بھی بلاک میں پینے کے پانی کی ٹینکی موجود نہ ہے،بلاک Aمیں صرف ایک گھر تعمیر ہے، B اور Cبلاک جنگل کا منظر پیش کر رہے ہیں ،سوسائٹی ہذا کی جانب سے کوئی ترقیاتی کام مکمل نہیں کروائے گئے ہیں، سوسائٹی کی زمین میں کھیتی باڑی کی جارہی ہے اور سوسائٹی کےلئے منظور کیا جانے والا ٹیوب ویل بھی کھیتی باڑی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے،سوسائٹی کی 109کنال اراضی آج بھی قبضہ گروپوں کے نرغے میں موجود ہے جس کو تاحال واہ گزار نہیں کروایا جاسکا ہے سوسائٹی انتظامیہ کی جانب سے کوآپریٹو رولز کی شق نمبر 48کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے،سوسائٹی انتظامیہ صدر اور فنانس سیکریٹری کو اے جی ایم پر بھی اعتبار نہ ہے سوسائٹی ہذا کے پانچ ٹرانسفر بھی اب تک چوری ہو چکے ہیں جبکہ سوسائٹی کی زمین کا غلط استعمال کیا جارہا ہے،موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوسائٹی کو برطرف کیا جائے اور محکمہ کوآپریٹو نئے ایڈمنسٹیٹر تعینات کرتے ہوئے ترقیاتی کام کروائے جانے چاہئے،11-09-2014کو خاتون سرکل آفیسر کی جانب سے کی جانے والی رپورٹس محکمہ کوآپریٹو لاہور آفس میں ردی کی ٹوکری کی نذر ہو چکی ہے گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو سوسائٹی کی بااثرانتظامیہ کے اثرورسوخ نے رجسٹرار کوآپریٹو پنجاب اور سرکل رجسٹرار کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوںکو بھی رائیگاں کر دیا ،تاہم ڈسٹرکٹ کوآپریٹو آفیسر ز لاہور سیٹھ محمد اقبال نے کہا ہے کہ میرے علم میں نہ ہے کہ فائل کہاں پر ہے اور روزنامہ پاکستان کی نشاندہی پر نوٹس لیا جائے گا کسی سے رعائت نہیں برتی جائے گی اور نہ ہی لاہور آفس میں میری موجودگی میں کوئی فائل سرخ فیتے کی نذر ہو سکی ہے قانونی کاروائی مکمل کی جائے گی اور اس ضمن میں آئندہ 2روز میں رپورٹ طلب کرلی جائے گی اور جو میرٹ بنتاہو گا اس کے مطابق فیصلہ سنا دیا جائے گا،دوسر ی جانب گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو سوسائٹی کے فنانس سیکریٹری ملک نذیر نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکل آفیسر اور رجسٹرار کوآپریٹو پنجاب کی جانب سے کی جانے والی انسپکشن کو کھلم کھلا چیلنج کرتے ہیں سب جھوٹ پر مبنی اور خود ساختہ رپورٹس مرتب کی گئی ہیں جس کا حقیقت سے کئی واسطہ نہ ہے میرے پاس ہر طرح کا ریکارڈ اور ثبوت موجود ہے کون کہتا ہے کہ ہم نے ریکارڈ مہیا نہیں کیا ہے ،روزنامہ پاکستان کی ٹیم کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ خود آکر میرے پاس موجود ریکارڈ کا معائنہ بھی کر سکتے ہیں اور ریکارڈ حاصل بھی کر سکتے ہیں