بنگلہ دیش کے پاکستانی سفارتکار پر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ،تسنیم اسلم

بنگلہ دیش کے پاکستانی سفارتکار پر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ،تسنیم اسلم ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                           اسلام آباد/واشنگٹن(آئی این پی )پاکستان نے بنگلہ دیش میں اپنے سفارتی عملے کے رکن پر عائد کیے جانے والے ”سنگین الزامات“ کوسختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ا±ن الزامات میں کوئی سچائی نہیں۔ جمعرات کو امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پاکستان کے ایک سفارت کار پر عائد کیے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ سنگین الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے، لیکن ہمارے عملے کے ایک رکن جو پہلے ہی (بنگلہ دیش میں اپنی تعیناتی کی مدت) پوری کر چکے تھے، انہیں(بنگلہ دیش) نے کہا کہ چلیں جائیں، ان کو آپ یہاں سے بھیج دیں تو وہ واپس آ گئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے نا تو ا±س سفارت کا نام بتایا گیا ہے اور نا ہی یہ تفصیلات بتائی گئیں کہ وہ کس شعبے میں کام کر رہے تھے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے ایک اخبار ’دی سٹار‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ایک پاکستانی سفارت کار جن کا نام محمد مظہر خان بتایا گیا ہے ا±ن پر مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کو پیسہ فراہم کرنے اور جعلی کرنسی کے لین دین میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے تھے۔اخبار کے مطابق بنگلہ دیش میں حکام نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے اس سفارت کار کو واپس بلا لیں۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ بظاہر بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کی طرف سے قائم کیے گئے ایک خصوصی ٹربیونل کی طرف سے ا±ن متعدد افراد کو سخت سزائیں سنانا ہے جنہوں نے 1971ءمیں پاکستان سے علیحدگی کے دوران مبینہ طور پر سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔حسینہ واجد کی حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کئی رہنماو¿ں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے جن میں سے بعض کی سزاو¿ں پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش میں ان لوگوں کو سزائیں سنانے پر تحفظات کا اظہار کیاگیا۔


مزید :

علاقائی -