ریلیف کے منتظرعوام!متوقع بحرانوں سے خوف زدہ

ریلیف کے منتظرعوام!متوقع بحرانوں سے خوف زدہ
ریلیف کے منتظرعوام!متوقع بحرانوں سے خوف زدہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حکومت کو پٹرول، گیس ،بجلی، کے پے در پے بحرانوں سے عوام کے بدلتے ہوئے تیور سے اندازہ ہو جانا چاہیے تھا۔ عوام کس حال میں ہیں تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 31اگست سے 31جنوری 2015ء تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی قیمتوں میں کمی معمولی نہیں بلکہ گزشتہ11سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں پٹرول ، ایچ بی او سی، کیروسین آئل ، لائٹ ڈیزل، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے مرحلہ وار چارٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے پٹرول 40.68 روپے فی لیٹر ایچ بی او سی 54.32 روپے فی لیٹر کیروسین آئل 35.61 روپے فی لیٹر ، لائٹ ڈیزل 35.33روپے فی لیٹر ہائی سپیڈ ڈیزل 29روپے فی لیٹر تک کم ہو چکا ہے 2014ء کے آخری مہینوں میں شروع ہونے والا ریلیف بین الاقوامی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے جہاں ریکارڈ بنایا ہے وہیں 3برسوں کے دوران قومی ذخائر سے 134ارب روپے کی گیس اور تیل غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ 48ارب روپے کی ریکوری کی نوید سنائی گئی ہے تو 86ارب کمپنیاں کھا گئی ہیں 2013میں 34ذخائر پر ہاتھ صاف کر لیا گیا ہے 2014ء میں دو کمپنیوں نے 40ارب روپے کی گیس اور تیل فروخت کیا ہے۔وزارت پٹرولیم کے بعض ذمہ داران ان کمپنیوں کے ملازم ہیں۔ بعض کمپنیوں کے حوالے سے پتہ چلا ہے انہوں نے لائسنس تو لئے تیل کی تلاش کے لئے کھدائی تک نہیں کی کچھ کمپنیوں نے 6سال آزمائشی پیداوار کے نام پر بیشتر کنویں خالی کر دیئے۔کرپشن اور بے ضابطگیوں کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ دیمک کی طرح ہمارے اداروں کو چاٹ رہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی مگر گھی کی قیمت میں اڑھائی روپے فی کلو اضافہ ہوگیا۔یہی حال دالوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کا ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے ایک غلطی ہو جائے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کا زالہ کرکے مزید غلطیوں سے بچا جائے مگر افسوس یہاں تو غلطی در غلطی ہو رہی ہے پے در پے بحران آ رہے ہیں حکومتی نمائندے سرجوڑ کر بیٹھنے کی بجائے سازش قرار دے رہے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کی کارکردگی سے سخت ناخوش ہیں عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور وزراء کی ناقص کارکردگی پر انتہائی اقدام اٹھانے کی تیاریوں میں ہیں۔ سینٹ الیکشن کی وجہ سے خاموش ہیں ۔عوام تو اب یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں پٹرول کی قیمتیں مزید کم نہ کریں، مگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام تو لائیں۔چھوٹی سی مثال ، لاہور میں نان کی قیمت 10روپے کر دی گئی ہے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے توجہ دلائی تو ڈی سی او نے نان بائی حضرات کو پکڑنا شروع کر دیا۔پھر خبر آئی کہ نان 8روپے کا ہوگا روٹی 6روپے کی ہوگی۔ دلچسپ صورت حال سامنے آئی ہے لاہور میں نان 10روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ کوئی پوچھتا تک نہیں۔ نان بائی حضرات نے جواز پیدا کر لیاہے تل کے بغیر 8روپے کا ہی ہے مگر ہم 10روپے کا نان تل لگا کر فروخت کرتے ہیں تل کے بعیر نان فروخت نہیں کرتے۔تل لگا کر فروخت کرنے کے جواز کو لگتا ہے۔ حکومت نے تسلیم کر لیا تبھی خاموش ہو گئی نان روٹی کیوں مہنگی ہوئی حکومت کے مطابق پٹرول ،گیس ،بجلی تو سستی ہوئی ہے گندم کی قیمت برقرار ہے۔ روٹی نان ،دالیں ،گھی ،چینی، گوشت عوام کے روزمرہ استعمال کی اشیاء ہیں زندہ رہنے اور سانسوں کی ڈوری کی بحالی کے لئے شاید پلوں سڑکوں سے زیادہ ان کی ضرورت ہے مگر حکمرانوں کی ترجیح بن ہی نہیں پا رہی۔ عدالت عالیہ نے چینی کی قیمت 51روپے مقرر کی ہے۔ ہمارے سرکاری یوٹیلٹی سٹور پر 57روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ حکومت جو اپنی نگرانی میں چلنے والے سٹوروں پر چینی 51روپے نہیں کروا سکی وہ عام مارکیٹ میں کیسے 51روپے فی کلو چینی کروائے گی یہ سوال تیزی سے اٹھ رہا ہے؟
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی بلاشبہ ایک مستحسن قدم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت اشیاء صرف کی قیمتوں میں کمی سے لے کر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کو یقینی بنائے ۔ بنیادی ضروریات کی قیمتیں آج بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ غریب آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی کاحصول مشکل سے مشکل ہو رہا ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے آج بھی غریب عوام کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ حکومت کو چاہیے منافع خوروں کو قانون کی گرفت میں لا کر عوام کو مناسب نرخوں پر اشیائے صرف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ محض پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے بات نہیں بنے گی۔ غریب عوام تک ریلیف کا پہنچنا ضروری ہے پر اسی وقت ممکن ہے۔ جب حکومت پورے خلوص کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرے گی اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام کی بجائے سرمایہ دار اٹھاتے رہیں گے۔
چینی کے متوقع بحران اور مارچ میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں نے عوام کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔حکومت پٹرولیم مصنوعات میں 40روپے تک فی لیٹر کی کمی پر کرایوں میں 10سے 15فیصد کمی کرانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی، اگر پٹرول 5روپے فی لیٹر بڑھ گیا تو ٹرانسپورٹر کرایوں میں 10سے 15فیصد اضافہ ایک جھٹکے میں کرنے کی اجازت حکومت سے نہیں مانگیں گے۔یہی صورت حال روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی ہوگی۔ اس لئے حکومت سے میری درخواست ہے چارماہ میں جتنا ریلیف آپ نے پٹرولیم مصنوعات میں دیا ہے اس کے حقیقی ثمرات سمیٹنے سے محروم رہے ہیں اس روش کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -