یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم نے دوٹوک قومی پالیسی کا اعادہ کیا

یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم نے دوٹوک قومی پالیسی کا اعادہ کیا
یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم نے دوٹوک قومی پالیسی کا اعادہ کیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ چودھری خادم حسین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا یوم منایا گیا۔ آزاد کشمیر میں تقریبات ہوئیں۔ ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس سے وزیراعظم محمد نوازشریف نے خطاب کیا، اس تقریب نے اس یوم یکجہتی کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر پاک و بھارت تعلقات کی بہتری کا تصور عبث ہے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلہ پر سیاسی اور اخلاقی تعاون اور مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا یوں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اصولی پالیسی کا پھر سے اعادہ کر دیا اور بتا دیا کہ تنازعہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بھارت کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی اٹوٹ انگ والی رٹ تسلسل سے جاری ہے اور وہ کشمیر، سیاچن اور سرکریک جیسے تنازعات کوحل کئے بغیر بہتر تعلقات کی بات کرتا ہے اس کی دلچسپی تجارت اور وسطی ایشیا کے لئے راہداری میں ہے، اس عمل کو پاکستان کی قیادت اور ہماری وزارت خارجہ اور دفتر بھی بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اس لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کہا ہے کہ جو بھی مذاکرات ہوں گے ایجنڈے میں تنازعہ کشمیر شامل ہو گا، حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف نے امریکہ کا دورہ کیا تو دہشت گردی کے عوامل کے ساتھ امریکی انتظامیہ کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کو باور کرایا تھا کہ سیاچن اور کشمیر جیسے تنازعات کا حل ضروری ہے، اب وزیراعظم نے بھی مہذب دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرانے میں تعاون اور کوشش کریں۔
بھارت کی موجودہ حکومت کا طرز عمل پہلے والی سے بھی برا ہے اور نریندر مودی پاکستان اور مسلمان دشمنی میں بہت کچھ کررہے ہیں، پاکستان کے میزائل پروگرام پر اعتراض کیا جاتا اور ایٹمی صلاحیت ختم کرنے کے لئے واویلا کرتا ہے، حالانکہ خود جنگی جنون میں مبتلا ایٹمی ہتھیار اور میزائل تیار کرتا رہتا ہے، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو دنیا کی واحد سپرپاور بلکہ گلوبل تھانیدار امریکہ کو بھی اب مکمل یقین اور اعتماد ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہے، حال ہی میں امریکی کانگرس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ونیسنٹ آر سٹیورت نے بالیقین کہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بالکل محفوظ تر ہے اور ان حفاظتی انتظامات کو بہتر بھی بنایا جا رہا ہے۔ جنرل نے مزید بتایا کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اور ابھی جدوجہد جاری ہے جس میں پاک افواج کو کامیابیاں مل رہی ہیں، کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میزائل بنا رہا ہے اور بناتا رہے گا کہ یہ اس کا دفاعی تقاضا ہے۔
اب یہ ثابت ہو گیا کہ پاکستان کے بارے میں بھارتی پروپیگنڈہ غیر موثر ہو چکا ہے اور امریکی صدر بارک اوباما کے دورے کو پاکستان مخالف طرز عمل قرار دینا درست نہیں تھا۔ امریکہ کے صدر کا دورہ امریکی مفادات کے تابع ضرور ہے لیکن پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہ حالات بہتر ہیں تاہم امریکہ کو زیادہ واضح اقدامات کرنا ہوں گے اور پاک بھارت تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہو گا یہی خطے میں امن کی ضمانت ہے۔
خبر ہے کہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود نے تحریک انصاف میں شمولیت کرلی ہے۔ وہ پارٹیاں بدلنے اور بنانے کے ماہر ترین شمار ہونے لگے ہیں حال ہی میں وہ پیپلزپارٹی میں تھے اور باغی ہو کر چودھری عبدالمجید کے خلاف عدم اعتماد کی کوشش کر رہے تھے ان کا بھی گزارہ وزیراعظم کے بغیر نہیں ہوتا، اب اگر عمران خان کے ساتھ آگئے ہیں تو خوب گزرے گی کہ مل بیٹھے ہیں دیوانے دو، عمران خان بھی تو اپنا مینڈیٹ چرانے اور جعلی انتخابات کا نعرہ لگا کر ملک بھر میں نئے انتخابات چاہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جیتے اور جیتیں گے اور وزیراعظم بن کر اصلاحات کریں گے حالانکہ ہنوز دلی دور است!

مزید :

تجزیہ -