ایپکا نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دیدی

ایپکا نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دیدی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( لیاقت کھرل) ایپکا پنجاب نے حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، تاہم کہا ہے کہ ملک گیر احتجاجی تحریک سے قبل بھی دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا اور 10 فروری کو تمام سرکار ی ملازمین سول سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے جبکہ 24 فروری کو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا اور مارچ ہو گا اور اس کے باوجود مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج تحریک کا فیصلہ کن مرحلہ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سرکاری ملازمین کی تنظیم ایپکا کے صوبائی و مرکزی عہدیداروں نے ’’پاکستان فورم‘‘ میں اظہار خیال کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر ایپکا پنجاب کے صدر حاجی محمدارشاد نے کہا ہے کہ سال 2013ء کے بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا ملک کے تینوں صوبوں کی حکومتوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جبکہ پنجاب حکومت نے صرف 10 فیصد اضافہ کیا اور تاحال پنجاب کے سات لاکھ ملازمین کی تنخواہوں میں مزید 5 فیصد اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے پے سکیلوں کی اپ گریڈیشن اور ٹائل سکیل پرموشن سمیت چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیا اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لئے حکومت کمیٹی نے شفارشات بھی دیں اس کے باوجود محکمہ فنانس نے ملازمین دشمنی کا ثبوت دے رکھا ہے۔ اس موقع پر ایپکا کے مرکزی چیئرمین حاجی فضل داد گجر نے کہا کہ حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے ایک ماہ تک کی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود مطالبات تسلیم نہ کیے تو پھر فیصلہ کن ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی جس میں پہلے مرحلہ میں ایوانِ وزیر اعلیٰ کے سامنے ڈے اینڈ نائٹ احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اس موقع پر ایپکا کے مرکزی اییشنل جنرل سکرٹری لالہ محمد اسلم نے کہا کہ اس ایک ماہ کے عرصہ کے دوران سرکاری ملازمین چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ ڈیڈ لائن

مزید :

صفحہ آخر -