کشمیر پر اقوام متحدہ کی موثر قراردادوں کی موجودگی کے باوجود دنیا خاموش تماشائی بنی ہے،رفیق تارڑ

کشمیر پر اقوام متحدہ کی موثر قراردادوں کی موجودگی کے باوجود دنیا خاموش ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ) مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں جو آج بھی موثر ہیں لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیری ہر ظلم و ستم اپنی جانوں پر سہہ رہے ہیں لیکن لمحہ بہ لمحہ ان کے شوق شہادت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر اسی حکومت کے دور میں حل ہو گا اور مسلمانان کشمیر ہمارے ساتھ شامل ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارتحریک پاکستان کے نامور کارکن، سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں یوم یکجہتئ کشمیر کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ اس ایوان میں ہونیوالی ہر تقریب میں ڈاکٹرمجید نظامی ہم سب کے دل و دماغ پر چھائے ہوتے ہیں ۔ان کا لگایا ہوا یہ پودا تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک کی محب وطن سیاسی قیادت برسراقتدار ہے اور زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب وزیراعظم میاں نواز شریف نے سلامتی کونسل میں کشمیر کے بارے میں جاندار اور دلیرانہ موقف دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔مسئلہ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سال سے لٹکا ہوا ہے حالانکہ اس مسئلہ کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں جو آج بھی موثر ہیں لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بڑی قربانیاں دے رہے ہیں اور ہر ظلم و ستم اپنی جانوں پر سہہ رہے ہیں لیکن لمحہ بہ لمحہ ان کے شوق شہادت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اسی حکومت کے دور میں حل ہو گا اور مسلمانان کشمیر ہمارے ساتھ شامل ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے بھی کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا ہے ،کشمیر کے سارے دریا اور ندی نالے پاکستان کی طرف آتے ہیں ۔بھارت کا کشمیر کے ساتھ کوئی زمینی رابطہ نہیں تھا لیکن ریڈ کلف ایوارڈ میں بد دیانتی کر کے گورداسپور کو بھارت میں شامل کر کے اسے کشمیر تک زمینی راستہ دیا گیا۔ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دبانے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں وہ سب ناکام ہو گئیں کیونکہ تحریک آزادئ کشمیر میں شہداء کا خون شامل ہے۔آج دنیا میں جن مسائل کا سب سے زیادہ ذکر ہو رہا ہے ان میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے۔پاکستان اور کشمیری اس مسئلے کے اہم فریق ہیں اور امید ہے کہ یہ مسئلہ بہت جلد حل ہو گا۔صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ کشمیر ہماری دل و جان ہے۔ آج بعض نام نہاد دانشور میڈیا کے ذریعے نوجوان نسلوں میں کشمیر سمیت اہم معاملات پر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ اِسے علیحدگی پسندوں کی تحریک بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ کشمیر کی تحریک خالصتاً آزادی کی تحریک ہے۔ حکومت پاکستان اور بطور خاص وزیراعظم ،مشیر خارجہ‘ وزارت دفاع‘ وزارت خارجہ اس بات کو سنجیدہ انداز میں لیں اور بھارت سے اس اہم مسئلہ پر احتجاج کریں ، یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر جایا جائے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں آبادی کی ساخت کو تبدیل کرنے کا نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجید نظامی صاحب کی کشمیریوں سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ہندو مسلسل سازشیں کررہا ہے۔ پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کررہی ہے، وہ اس میں ضرور کامیاب ہوگی اور پاکستان ایک طاقت بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرکی آزادی بہت قریب ہے۔بھارت نے اگر ہمارے دریاؤں پر ڈیمز بنا لیے ہیں تو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ،چین نے بھی بھارت کے ایک بڑے دریا گنگا پر بہت بڑا ڈیم بنا لیا ہے۔ بھارت نے ہمارے خلاف آبی جارحیت کی توہمارا دوست چین بھی بھارت کا پانی بند کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کیلئے مجید نظامی کی بڑی خدمات ہیں۔پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا کہ اپنی شہ رگ کو حاصل کرنے کیلئے جب مجاہدین نے کشمیر کو تقریباً آزاد کرا لیا تھا تو نہرو اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے گیا اور اس وقت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پاکستان کے خلاف دشمنوں کی سازشیں مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے کہا بدقسمتی سے قائداعظمؒ کے بعد ہمیں کوئی جرأت مند قیادت نہیں ملی۔جراتمند قیادت کے ذریعے ہی کشمیر کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کشمیری آج بھی بھارتی مظالم کا بڑی بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔میجر جنرل(ر) راحت لطیف نے کہا کہ گزشتہ 68سال سے کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ یہ مسئلہ اس دن حل ہوگا جب ہم کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوں گے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے جس کا یہ منشور رہاہے کہ اگر ہم طاقت میں آئے تو آزاد کشمیر کے بارے میں بھی جارحانہ پالیسی اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا چاہتی ہے ، یہ ایک بھیانک صورتحال ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کشمیر کیلئے ایک جنگ اور لڑنا پڑے گی۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ آج کشمیرمظلوم‘مجبور اور اسیر ہے۔ کشمیر کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ تحریک آزادئ کشمیر کا خمیر تو ہین قرآن سے اُٹھنے والی تحریک سے ہوا۔ ہم تکمیل پاکستان کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاکستان کا مستقبل کشمیر کے دریاؤں سے آنے والے پانی سے وابستہ ہے۔ کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہے۔سید نصیب اللہ گردیزی نے کہا کہ قائداعظمؒ ہمیشہ بامقصد گفتگو کیا کرتے تھے اور انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بھارت پاکستان کے ساتھ 3جنگیں لڑنے کے بعد اب پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ وہ پاکستان کو ریگستان بنانے کی سازش کررہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ پاکستان کی بقاء نظرےۂ پاکستان میں ہے۔آج ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مجید نظامی کی روشن کی ہوئی یہ شمع تاقیامت روشن رہے گی۔ سردار محمد عزیز خان نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی غلامی قبول نہیں کی اور اپنی آزادی کیلئے ہمیشہ جدوجہد جاری رکھی۔ پاکستانی قوم نے بھی ہر مشکل وقت میں کشمیریوں کا ساتھ دیا لیکن حکمران بزدلی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا اور اس کا الحاق پاکستان سے ہوگا۔

مزید :

صفحہ آخر -