سبحان اللہ ،سائنس نے اسلام کی ایک اور بات کی تصدیق کر دی

سبحان اللہ ،سائنس نے اسلام کی ایک اور بات کی تصدیق کر دی
سبحان اللہ ،سائنس نے اسلام کی ایک اور بات کی تصدیق کر دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(نیوزڈیسک)ہمارے مذہب میں ہمیشہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے اللہ کا شکر کرنا ہے تو ہمیشہ اپنے سے نیچے لوگوں کی طرف دیکھو کہ اس طرح آپ کو شکر ادا کرنے کی عادت ہو گی لیکن اگر آپ اپنے سے اوپر لوگوں کو دیکھیں گے تو پھر ذہنی تناﺅ اور ناشکری پیدا ہوگی۔حال ہی میں کی گئی یونیورسٹی آف میزوری کولمبیا کی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیس بک پر جو لوگ اپنے امیر دوستوں کے سٹیٹس دیکھتے ہیں اور پھر ان کا موازنہ اپنی زندگی کے ساتھ کرتے ہیں تو وہ ذہنی تناﺅ اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔تحقیق کار پروفیسر مارگریٹ ڈیفی کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنے ماضی کے دوستوں کو مالی یا ازدواجی طور پر اپنے سے زیادہ خوش اور امیر دیکھتے ہیں ان میں احساس کمتری اور ذہنی تناﺅ پیدا ہونے کا زیادہ امکان موجود ہے۔

’ کون بنے گا کروڑ پتی‘میں آٹھ کروڑ روپے جیت کر بھی بھارتی نوجوان بے روزگار
700طالبعلموں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر فیس بک کا استعمال دوستوں سے باتیں اور خوشی کی چیزیںشئیر کرنے کے لئے کیا جائے تو یہ ٹھیک ہے لیکن اگر آپ اس کے ذریعے لوگوں کی نگرانی شروع کردیں اور دیکھیں کہ آپ کے امیر دوست کیا کررہے ہیں اور ان کے سٹیٹس کیا ہیں تو پھر آپ ڈپریشن کا شکار ہوجائیں گے۔پروفیسر مارگریٹ کا کہنا ہے کہ اگر فیس بک کا استعمال صرف انجوائے کرنے اور دوستوں سے بات چیت کے لئے کیا جائے تو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اگر آپ صرف اپنے امیر دوستوں کو دیکھیں کہ وہ انتہائی پرتعیش زندگی گزاررہے ہیں یا مہنگے فلیٹ میں رہ رہا ہے یا انتہائی اعلیٰ گاڑی میں گھوم رہا ہے تو پھر ااپ ذہنی تناﺅ کا شکار ہوجائیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یہ صورت حال درپیش ہو تو یہ بات سوچیں کہ دوسرے آپ کو صرف اپنی اچھی باتیں بتا رہے اور ہوسکتا ہے کہ اپنی تکلیف آپ سے چھپا رہے ہیںلہذا آپ تناﺅ کا شکار مت ہوںاور ہمیشہ اپنی اچھی باتوں کے بارے میں سوچیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -