بیرسٹر سلطان محمود کی جماعتیں بنانے، وفاداریاں بدلنے کی ڈبل ہیٹ ٹرک

بیرسٹر سلطان محمود کی جماعتیں بنانے، وفاداریاں بدلنے کی ڈبل ہیٹ ٹرک
بیرسٹر سلطان محمود کی جماعتیں بنانے، وفاداریاں بدلنے کی ڈبل ہیٹ ٹرک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بیرسٹر سلطان محمود نے تحریک انصاف نے شمولیت کا اعلان کرکے اپنے سیاسی کیریئر میں سیاسی جماعتیں بنانے اور بدلنے کی ڈبل ہیٹرک مکمل کرلی۔ بیرسٹر سلطان اس سے پہلے 5 مرتبہ مختلف سیاسی جماعتوں سے اپنی وابستگی تبدیل کرچکے ہیں۔ پاور پالٹکس کی کوششوں میں وہ صرف 1996ءمیں پیپلزپارٹی میں شامل ہوکر آزادی کشمیر کے وزیر اعظم بنے، باقی تمام کوششوں میں قانون ساز اسمبلی کارکن بننے کے علاوہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ بیرسٹر سلطان پہلی مرتبہ 1985ءمیں اپنے والد کی سیاسی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی پلیٹ فارم سے 1990ءمیں بھی ممبر منتخب ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ اسمبلی میں اتحاد کیا اور مرکز میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ساتھ طے پایا کہ بیرسٹر سطلان کو آزاد کشمیر کا صدر بنایا جائے گا لیکن پیپلزپارٹی کے ممبران نے انہیں ووٹ نہیں دئیے۔ ایک سال کی مدت میں ہی اس وقت کے وزیراعظم ممتاز راٹھور (مرحوم) نے جب اسمبلی توڑ دی تو 1991ءکے انتخابات میں بیرسٹر سلطان اپنی آؓائی نشست ے بھی ہار گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کو جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم کردیا۔ پھر 1996ءکے انتخابات سے پہلے ہی بیرسٹر سلطان اپنی جماعت لبریشن لیگ سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئےا ور وزیراعظم بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999ءکو جب مرکز میں جنرل مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی تو آزاد کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی حکومت کو بدستور کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران ان کے جنرل مشرف کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔ 2011ءکے انتخابات سے قبل آصف علی زرداری کی مداخلت پر بیرسٹر سلطان نے اپنی جماعت پیپلز لیگ کو پیپلزپارٹی میں ضم کردیا، پیپلزپارٹی کو انتخابات میں واضح برتری ملی لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے بیرسٹر کو نظر انداز کردیا اور کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا۔

مزید :

اسلام آباد -