دنیا کا وہ سکول جہاں دلہنوں کو شادی سے قبل ماہر بنایا جاتا ہے

دنیا کا وہ سکول جہاں دلہنوں کو شادی سے قبل ماہر بنایا جاتا ہے
دنیا کا وہ سکول جہاں دلہنوں کو شادی سے قبل ماہر بنایا جاتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہوچی منہ سٹی (نیوز ڈیسک) جھٹ منگنی پٹ بیاہ کرکے اپنے غریب وطن ویتنام سے اچھی زندگی کا خواب لے کر جنوبی کوریا پہنچنے کی خواہشمند لڑکیوں کی زندگی کو عذاب سے بچانے کے لئے جنوبی کوریائی حکومت نے اب ویتنامی دارالحکومت میں ایک دلہن سکول کھول دیا ہے۔

مزید پڑھیں:دادا کی چھ سالہ پوتی سے گری ہوئی حرکت،غیروں نے آکر بچا لیا
ویتنام کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے یہاں کی نوجوان لڑکیاں اکثر یہ خواب دیکھتی ہیں کہ کسی طرح وہ کسی جنوبی کوریائی شخص کی دلہن بن کر اس کے وطن پہنچ جائیں اور ان کی زندگی سنور جائے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا میں زندگی انتہائی برق رفتاری سے چل رہی ہے اور یہاں معاشرے میں مقام بنانا ایک نہایت مشکل کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی کوریا میں ایسے مردوں کی کثرت پائی جاتی ہے کہ جو زندگی کے مقابلے میں قدرے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اپنی ہم وطن لڑکیوں کو شادی کے لئے مائل نہیں کرپاتے۔ ان مردوں کے لئے نوجوان ویتنامی لڑکیاں آسان ہدف ثابت ہوتی ہیں اور تقریباً گزشتہ دو دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ یہ مرد ویتنام کے مختصر دورے پر جاتے ہیں اور دلہن بیاہ کر جنوبی کوریا لے آتے ہیں۔ چونکہ یہ نوجوان لڑکیاں جنوبی کوریا کی زبان، کلچر اور روایات سے آگاہ نہیں ہوتی ہیں لہٰذا جنوبی کوریا پہنچنے پر انہیں نئے ماحول سے مطابقت اختیار کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان اچانک ہونے والی شادیوں میں سے اکثر کا نتیجہ ایک تلخ زندگی یا طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔
جنوبی کوریا کی حکومت نے اس مسئلے کی شدت کا احساس کرتے ہوئے 80ہزار ڈالر (80لاکھ پاکستانی روپے) خرچ کرکے ویتنام کے دارالحکومت میں ایک دلہن سکول قائم کردیا ہے جہاں پر ویتنامی لڑکیوں کو جنوبی کوریا کی زبان، روایات اور کلچر سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں جنوبی کوریائی مردوں سے شادی کے بعد کی زندگی سے مطابقت اختیار کرنے کے لئے مختصر کورس کروایا جاتا ہے جو کہ ایک سے تین دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ دلہن سکول کے نتائج توقع کے مطابق بہت اچھے برآمد ہورہے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -