منیجر کی بھوک بینک کو 13 کروڑ کا چونا لگا گئی

منیجر کی بھوک بینک کو 13 کروڑ کا چونا لگا گئی
منیجر کی بھوک بینک کو 13 کروڑ کا چونا لگا گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

برمنگھم (نیوز ڈیسک) جب کسی شخص کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں تو اس کے لئے کھانے کے لئے کسی چیز کے متعلق سوچنا نہایت مشکل کام ہے اور برطانیہ کے نیٹ ویسٹ بینک میں بطور منیجر کام کرنے والے عمر مغل کی بھوک نے بھی ان سے ایک ایسا غلط فیصلہ کروادیا کہ جو بینک کے لئے کروڑوں کے نقصان کاباعث بن گیا۔

مزید پڑھیں:وہ اہم ترین باتیں جو ATM سے پیسے نکلواتے ہوئے ہر گز نہیں کرنی چاہئیں
برطانوی اخبار ”دی مرر“ کے مطابق عمر مغل ایک روز معمول کے مطابق کام میں مصروف تھے اور وہ اپنے لئے گرم گرم چپس اور برگر کا آرڈر دے چکے تھے تاکہ چند منٹ نکال کر جلدی جلدی اپنی شدید بھوک کا علاج کرسکیں۔ اسی دوران بینک میں ایک اکانوے سالہ بزرگ شخص داخل ہوا جو جلدی میں کچھ رقم نکلوانا چاہ رہا تھا۔ کسٹمر کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے منیجر نے سوچا کہ کیوں نہ جلدی جلدی اس کا کام کردیا جائے اور پھر روایتی تصدیقی مراحل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے آٹھ لاکھ برطانوی پاﺅنڈ بزرگ کے بتائے گئے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کردئیے۔
 بھوک سے بے حال ہونے کی وجہ سے وہ مطلوبہ چھان بین نہ کرپائے تھے۔ اتفاق سے بزرگ شخص ایک شعبدہ باز تھا اور وہ بینک کے آٹھ لاکھ پاﺅنڈ لوٹ چکا تھا جبکہ بغیر تصدیق کے ٹرانزیکشن کرنے والے منیجر کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ منیجر عمر مغل کہتے ہیں کہ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر کسٹمر کی چھان بین نہ کرنا ان کی بہت بڑی غلطی تھی اور مزیدیہ کہ جب وہ رقم منتقل کرنے کے بعد کھانے کے لئے پہنچے تو وہ بھی ٹھنڈا ہوچکا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -