پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے خلاف نواز شریف کا جرأت مندانہ اقدام

پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے خلاف نواز شریف کا جرأت مندانہ اقدام
 پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے خلاف نواز شریف کا جرأت مندانہ اقدام

  

پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد قائداعظمؒ نے1947ء میں اورینٹ کے نام سے قومی ایئر لائن قائم کی تاکہ پاکستان کو دُنیا کی تیز رفتار دوڑ میں شامل کیا جا سکے۔ اورینٹ ایئر لائن کے محب وطن ملازمین کے انتھک محنت سے ایئر لائن نے تیزی سے ترقی شروع کر دی بالآخر 1955ء میں اس کا نام تبدیل کر کے پی آئی اے رکھ دیا گیا اور 60ء کی دہائی میں پی آئی اے دُنیا کی ٹاپ فرسٹ ایئر لائن میں شمار ہونے لگی۔اس کا اندازہ آپ اِس بات سے کر سکتے ہیں کہ جیکولین کینڈی امریکی خاتون اول پی آئی اے میں سفر کرنا پسند کرتی تھیں۔ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر بھی پی آئی اے میں سفر کرتی تھیں۔ ایشیا کی پہلی ایئر لائن جس میں ٹی وی سسٹم آٹو ٹکٹنگ و دیگر جدید سہولتیں فراہم تھیں ہندوستانی ایسی سہولتوں کے لئے ترستے تھے۔ پی آئی اے دُنیا کی پہلی ایئر لائن تھی جسے 1964ء میں چین میں داخلے کی اجازت ملی۔

1971ء میں جب چین اور امریکہ میں دوستی ہوئی تو امریکی وزیر خارجہ بذریعہ پی آئی اے چین پہنچے تو دُنیا جنگ سے دور ہو کر امن کی طرف گامزن ہوئی۔ پی آئی اے نے ایمرٹ ایئر لائن سعودی ایئر لائنیں اور دیگر ممالک کی ایئر لائنوں کو وجود میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایمرٹ ایئر لائن کا پہلا جہاز پی آئی اے کا عملہ کراچی لے کر آیا۔ پی آئی اے کے معیار کا اندازہ آپ اِس بات سے کر سکتے ہیں کہ ایئر ہوسٹس اور عملے کے ڈریسز دُنیا کے مشہور فیشن ڈیزائنرPierre cardin پیرس سے تیار ہوا کرتے تھے۔1980ء کی دہائی کے بعد محب وطن عملے کی ریٹائرمنٹ شروع ہو گئیں، تو اُن کی جگہ سفارشی، سیاسی اور مفاد پرست عملہ پی آئی اے میں شامل ہونا شروع ہو گیا اور جہاز کم ہونے شروع ہو گئے اکثر عملہ انسانی و اشیاء کی سمگلنگ میں ملوث ہو گیا اور آئے روز کرو، ایئر ہوسٹسوں اور کپتانوں کے سامان سے ممنوع اشیا پکڑی جانے لگیں اور پی آئی اے کو لاکھوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ مشرف دور میں کچھ بہتری آئی، لیکن پیپلزپارٹی نے پچھلے دور میں6000ملازمین کا اضافہ کر کے بالکل ہی لٹیا ڈبو دی۔پی آئی اے ملازمین اِس حد تک گِر گئے کہ جہاز کے سپیئر پارٹس دوسری ایئر لائنز کو بیچنے لگے، جس کی وجہ سے40 جہازوں کی بجائے18جہاز اُڑنے کے قابل رہ گئے۔

نواز حکومت نے بھرپور کوششوں سے دوبارہ 38جہازوں کو اُڑنے کے قابل بنایا، لیکن کرپٹ عناصر کو پی آئی اے کی ترقی ایک آنکھ نہ بھائی اور دشمن غیر ملکی ایجنٹوں کے ایما پر ہڑتالیں شروع کر دیں، مجبوراً حکومت کو Services Act نافذ کرنا پڑا جسے سبوتاژ کرنے کے لئے غیر ملکی ایجنٹوں نے تین قیمتی جانیں لے لیں تاکہ مُلک میں بدامنی پھیلے اور شر پسند یونین عناصر اس کا فائدہ اٹھائیں، ہڑتال کرنا عوام کا جمہوری حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانا عوام کو تکلیف دینا، مُلک کی شہرت خراب کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ پی آئی اے کے لیبر لیڈروں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ مُلک سے غداری کے زمرے میںآتا ہے۔ پی آئی اے کو وجود میں آئے70 برس بیت گئے، لیکن ایک روز کے لئے پی آئی اے کا آپریشن معطل نہیں ہوا، ہڑتالیوں نے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پی آئی اے کا آپریشن بند کیا، جس سے ہزاروں عمرہ زائرین و دیگر مسافر جنہوں نے ملازمتوں پر پہنچنا تھا، اپنے عزیز و اقارب کو ملنا تھا،بزنس ڈیل کرنی تھیں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں پہنچنا تھا، خوشیوں اور غمی میں شامل ہونا تھا، ہڑتالیوں نے اپنے مفاد کی خاطر پورے مُلک کے مفاد کو داؤ پر لگا دیا۔ حکومت کو چاہئے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ لوگ عبرت حاصل کریں اور عوام کو اس کرب سے نجات دلائیں تاکہ مُلک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آ سکے اور عوام خوشحال ہوں۔

مزید :

کالم -