بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی کی کہانی۔۔۔اٹھارہویں قسط

06 فروری 2017 (16:54)

جنرل ملر کا ایکو کیمپ:

یہ امریکی جنرل بہت ظالم اور متعصب تھا۔ اس نے فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ وحشی سلوک کرنے کی مکمل اجازت دے رکھی تھی۔ بعد میں اس کوعراق تبدیل کر دیا گیا۔ ایکو کیمپ بھی اسی نے بنایا تھا جس میں 24گھنٹے اندھیرا چھایا رہتا۔ اس کیمپ میں الگ الگ چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے تھے جن میں قیدی تنہا ہوتے تھے۔ یہاں قید بھائیوں کو اندھرے کے باعث دن اور ات کا پتہ نہ چلتا تھا۔ یہاں رہ کر بہت سے قیدی نفسیاتی مریض بن گئے تھے۔ قیدی یہاں پر چیختے لیکن ان کے چیخنے کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔ ریموٹ کنٹرول کیمرے جگہ جگہ نصب تھے جن کے ذریعے قیدیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

پچھلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

برطانوی شہریت رکھنے والا ہمارا ایک بھائی اس کیمپ میں تین سال گزارنے کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا مریض بن گیاتھا۔ احمد دینی تعلیم حاصل کرنے پاکستان گیا تھا مگر حکومت پاکستان نے اس کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا۔ میرا قندھار قیدی کیمپ میں بھی پڑوسی تھا۔ انگلش روانی سے بولتا تھا۔ احمد کو بعد میں اتنے امراض لاحق ہوگئے تھے کہ وہ بالکل بے حس ہو کر رہ گیا تھا کوئی بات اس کے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ہر وقت اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ۔ گوانتاموبے میں کبھی کبھار رات کو اٹھ کر نعتیں پڑھتا اور تلاوت کرتا۔ اکثر قرآنی آیات غلط پڑھتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ مہدی علیہ السلام آرہے ہیں اس بات سے خود کو تسلی دیتا۔ یمن کے طارق عبدالرحمن، المعرف ڈاکٹر ایمن سعید آرتھو پیڈک سرجن تھے۔ ویزہ لے کر افغانستان آئے تھے۔ کابل میں الفلاح نامی این جی او میں ملازمت اختیار کرلی تھی۔ طب کے شعبے سے منسلک افراد کو قید میں نہیں رکھا جا سکتا مگر ڈاکٹر ایمن سعید کو گرفتار کرکے گوانتاناموبے پہنچا دیا گیا ان کو اتنا ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیاکہ آخر میں پاگل ہوگئے ان کی طرح اور بھی بہت سے قیدی پاگل ہوگئے تھے مگر انکو سزا باقاعدگی سے دی جاتی تھی حالانکہ پاگل اللہ تعالیٰ کے حساب کتاب سے بھی مستثنیٰ ہیں۔

افغانستان کا وفد:

ایک دن مجھے اکیلے تفتیش کے نام پر ایسی جگہ لے جا کر باندھا گیا جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ میں کسی تفتیش کار کا انتظارکرنے لگا مگر دیکھا کہ چند افغان باشندے آئے۔ سلام کیا اور ادھر ادھر پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا تعارف افغان حکومت کے نمائندوں کے طورپر کرایا۔ ان میں قندھار اور جلال آباد سے تعلق رکھنے والے دو پختون، باقی پنج شیری تھے۔ قندھاری نے پانی کا گلاس دیاپھر سوالات پوچھناشروع کر دیئے۔سوالات وہی تھے جو امریکی پوچھتے تھے جبکہ میرے جوابات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس دوران ایک امریکی عورت آگئی جو بار بار ان افراد کے کان میں سرگوشی کرتی اور ان کو کچھ لکھا ہوا دیتی۔ میں نے حقیقت جاننا چاہی اور ان سے پوچھا کہ آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کی رہائی چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا عمل اور رویہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ آپ میری رہائی چاہتے ہیں۔ جواباً وہ سب خاموش رہے۔ میں بھی سمجھ گیا کہ وہ بے بس ہیں کیونکہ بات کرتے وقت بھی وہ چوروں کی طرح ادھر ادھر دیکھتے تھے۔ میں نے ان پر اعتماد بھی نہیں کیا کہ یہ ہمارے ملک کے حکومتی نمائندے ہوں گے کیونکہ ان کی صلاحیتیں انتہائی کم معلوم ہوتی تھیں۔ ان کے بارے میں دوسرے قیدیوں کے بھی میری طرح کے تاثرات تھے۔ بعض قیدی تو ان کے سوالوں کا جواب گالیوں کی صورت میں دیتے تھے۔ وہ تفتیش میں امریکیوں سے بھی سخت تھے اور خود کو لاعلم ظاہر کرتے تھے۔ چونکہ امریکیوں کے لیے کام کرتے تھے اس لیے قیدی بھی ان کے ساتھ نرمی نہیں برتتے تھے۔ چند دن بعد16جون2004ء کو مجھے واپس چوتھے کیمپ منتقل کر دیا گیا جہاں مجھے ایک سال اور چند مہینے رکھا گیا۔

چشم دید واقعات:

مجھے تین سال چھ مہینے تک مختلف کیمپوں اور قید خانوں میں رکھا گیا۔ اس دوران ایسے ایسے واقعات دیکھے جو دل دہلا دینے والے تھے اور جنہیں اب بھی یاد کرتا ہوں تو رونا آجاتا ہے۔ امریکی فوجی قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھتے تھے، وہ مسلمہ انسانی و بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ 2003ء میں رمضان المبارک میں دو دن باقی تھے، امریکی آئے اور کہا کہ رمضان المبارک کے احترام میں آپ کو دگنا کھاتا دیا جائے گا۔ افطاری کے وقت جوس اور کھجوریں بھی دی جائیں گی۔ یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات تھی مگر ان کی یہ بات اعلانات تک محدود رہی۔

رمضان پیکج کی واپسی:

صبح ہوئی تو ان کا سلوک اور بھی برا ہوگیا۔ بلاک کے آخری حصے میں تین قیدیوں نے فوجیوں کے ساتھ لڑائی کی۔ ایک قیدی نے فوجی پر پانی ڈالا۔ اس کی سزا پورے کیمپ کے قیدیوں کو رمضان پیکج واپس لے کر دی گئی اور فوجیوں نے مزید وحشیانہ سلوک شروع کر دیا۔ہم نے بارہا امریکی فوجی افسروں سے کہا کہ صرف ایک شخص کی سزا باقی تمام قیدیوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟ آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور رمضان المبارک کا احترام ممکن بنائیں۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم فوجی ہیں اور ہمارا قانون یہ ہے کہ ایک آدمی کی سزا سب کو دیتے ہیں۔ یہ ایسا جھوٹ تھا جسے ہم خوف کے بارے جھوٹ نہیں کہہ سکتے تھے۔

قرآن کریم کی بے حرمتی اور بائیکاٹ:

ایک مرتبہ ایک بدشکل خاتون فوجی نے قیدیوں کی تلاشی کے دوران قصداً دو مرتبہ قرآن مجید کو زمین پر پھینکا۔ قیدیوں نے اسے بے حرمتی پر خاتون فوجی کو سزا دینے کا مطالبہ کیا مگر امریکی فوجی حکام نے اس مطالبے پر کان نہیں دھرا۔پہلے کیمپ کے قیدیوں نے اس ظلم پر ہڑتال شروع کر دی جس کا دوسرے اور تیسرے کیمپ کے قیدیوں نے بھی ساتھ دیا۔ قیدیوں نے نہانے کی جگہ جانے ، کپڑے بدلنے اور کھیل و تفریح کے اوقات میں باہر نکلنے کا بائیکاٹ کر دیا۔ جس پر بارہ امریکی فوجیوں نے قیدیوں پر یلغار کر دی۔ وہ قیدیوں کو پکڑ پکڑ کر ان کی مونچھیں، ڈاڑھی اور ابرو صاف ک ر دیتے۔ کسی کی آدھی ڈاڑی چھوڑ دیتے اور کسی کی ایک مونچھ۔ اس ظلم و زیادتی پر باقی قیدی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے جبکہ بعض فوجیوں کو گالیوں اور بدعاؤں سے نوازتے۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

نائن الیون کے بعد جب امریکی افواج نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی امن پسندقیادت کوبھی چن چن کر تحقیقات کے نام پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں انہیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا تاہم ان میں سے اکثر قیدی بے گناہ ثابت ہوئے ۔ملا عبدالسلام ضعیف افغان حکومت کے حاضر سفیر کے طور پر پاکستان میں تعینات تھے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹراور سفارت کے تمام آداب و اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو مجبور کرکیااور انکو گرفتارکرکے گوانتانہ موبے لے جاکر جس بیہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد کوروا رکھا اسکو ملاّ ضعیف نے اپنی آپ بیتی میں رقم کرکے مہذب ملکوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا ۔انکی یہ کہانی جہاں خونچکاں واقعات ، مشاہدات اور صبر آزما آزمائشوں پر مبنی ہے وہاں ملاّ صاحب کی یہ نوحہ کہانی انسانیت اورامریکہ کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔دورحاضر تاریخ میں کسی سفیر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک اقوام متحدہ کا شرمناک چہرہ بھی بے نقاب کرتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان مٰیں شائع ہونیوالی تحاریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں