چین امریکہ جنگ انڈیا میں لڑنے کی تیاریاں

چین امریکہ جنگ انڈیا میں لڑنے کی تیاریاں
چین امریکہ جنگ انڈیا میں لڑنے کی تیاریاں

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا عہدہ صدارت سنبھالتے ہی کئی محاذ کھول دئیے ہیں جس میں سات مسلم ممالک کے ساتھ ، جرمنی ، یورپی یونین ، روس اورچین کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی توازنِ ادائیگی کا فرق امریکہ کے لئے دردسر بنتا جار ہاہے۔ یہ فرق معمولی نہیں بلکہ 215 بلین سالانہ تک جاپہنچا ہے۔ 2016ء میں امریکہ نے چین کو 109 ارب ڈالر کی مصنوعات فروخت کیں جبکہ چین نے امریکہ کو 319 ارب ڈالر مصنوعات ایکسپورٹ کی تھیں ۔ٹرمپ جو اس عہدہ پر آنے سے پہلے ہی چین کے شدید مخالف تھے عہدہ صدارت پر آنے کے بعد بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔جس سے دونوں ملکوں میں معاشی جنگ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں، ان کی نظر کاروباری اُتار چڑھاؤ پر زیادہ رہتی ہے۔ اُن کی اس سوچ کے پیچھے بھی کاروباری سوچ ہی ہے کیونکہ ان کے مطابق چین کی اشیاء خریدنے اور چین سے امریکی کمپنیوں کا اشیاء بنوانا، امریکی معیشت کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس صورتحال کے باعث امریکہ کا توازن ادائیگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور امریکہ میں لاکھوں ملازمتیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ امریکہ معاشی لحاظ سے چین کا حریف ہے لیکن امریکی فوری طور پر چین سے مصنوعات کی خریداری بند نہیں کرسکتا کیونکہ پہلے سے پریشان صارفین کو امریکہ میں تیار شدہ جنگی اشیاء فروخت کی جائیں تو اس سے چین تو متاثر ہوگا ، دوسری طرف خود امریکی ان مہنگی اشیاء کو خریدنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اسی لئے کئی امریکی کمپنیوں نے اپنی اشیاء کو عالمی اور ملکی سطح پر سستا کرنے کے لئے چین میں اشیاء کی تیاری شروع کردی تھی۔ 1999ء کے بعد سے یہ صورتحال زور پکڑگئی اور آہستہ آہستہ اشیاء کی قیمت تو مستحکم رہی لیکن امریکہ کو کئی ملکی مصنوعات بند کرنا پڑیں۔

ان حالات میں امریکیوں نے انڈیا میں ایسی سہولتیں ڈھونڈنا شروع کردی ہیں لیکن انڈیا میں معاشی ڈھانچہ کی عدم فراہمی اور ٹیکنالوجی میں نچلے درجے کے رجحان کے باعث ابھی تک ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ اوباما انتظامیہ نے اپنے آخری دنوں میں انڈیا کو ایف 16 کی اسمبلی لائن دینے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن یہ معاملہ بھی اس لئے کھٹائی میں پڑتا نظر آتا ہے۔ اس وقت امریکہ انڈیا میں فلم، ادویات، کاسمیٹکس وغیرہ میں اپنی مارکیٹ بنارہا ہے لیکن انڈیا کی معیشت خود چین سے تنگ نظر آرہی ہے اور ویسے ہی مسائل کا شکار ہے۔ انڈیا میں بہت سستی لیبر خود انڈیا کے کام نہیں آرہی لیکن امریکیوں کے لئے یہ امید کی بہت بڑی کرن ہے۔ امریکہ اور انڈیا کی قربت سیاسی یا دفاعی نہیں بلکہ یہ امریکہ کی تجارتی بقاء کی جنگ ہے جسے انڈیا میں لاکر لڑا جانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اسی لئے امریکی سی پیک کے مخالف ہیں اور انڈیا کو بھی سی پیک کسی صورت تسلیم نہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے تائیوان کے صدر کو فون کرکے چین کو بھی واضح پیغام دیا ہے۔ امریکہ پہلے ہی فلپائن، تھائی لینڈِ کوریا، جاپان میں اپنی پوزیشن بنائے بیٹھا ہے بلکہ ویتنام جیسے ملک سے بھی امریکہ نے دوستی کرلی ہے جو پہلے اس کا دشمن تھا اور ویتنام کی پچھلی نسل کی بربادی کا سبب بھی امریکی تھے۔ امریکی صدر ہر طرح سے چین کی معاشی طاقت کو ضرب لگانا چاہتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے امریکی کمپنیوں کو تنبیہ کی تھی کہ ملازمتوں کو چین میں منتقل نہ کیا جائے۔ ٹرمپ کو چین کی کرنسی سے بھی شکوہ ہے۔ چین اپنی کرنسی کو بہت سختیس ے مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔ چین کے یووان کی قدر مستحکم ہے اگر سی پیک کی کامیابی کے بعد یووان کے ذریعہ ادائیگی شروع ہوگئی تو ڈالر کے لئے بھی کوئی اچھی خبر نہ ہوگی۔

امریکہ کی معاشی طاقت چین کے مقابلے میں بہت بڑی اور منظم ہے۔امریکہ کی قومی پیداوار ابھی بھی چین سے سات گنا زیادہ ہے جبکہ چین کی فی کس آمدنی آٹھ ہزار ڈالر اور امریکہ کی 56 ہزار ڈالر ہے۔ چین فوجی طاقت کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ امریکہ کی فوجی طاقت پہلے نمبر پر ہے۔ جس میں فرق 100-35 کے تناسب کا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی پالیسیاں جلد بازی اور چین کی دشمنی کا مظہر نظر آرہی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -