کشمیریوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

کشمیریوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

  



وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی مظالم پر عالمی برادری کو خاموشی ختم کرنا ہوگی اگر ہم بھارتی مظالم پر خاموش رہیں گے تو یہ ہماری غلطی ہوگی مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کا خون بہہ رہا ہے وادی جل رہی ہے حقِ خود ارادیت کے سفر میں ہر قدم پر کشمیریوں کے ساتھ ہیں، لندن میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کاز کے لئے اتنے بڑے لوگوں کی موجودگی حوصلہ افزا ہے۔ کل جماعتی پارلیمانی گروپ نے انسانی حقوق کی بھارتی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جموں و کشمیر تنازعہ میں ایک فریق ہے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا تنازعہ ہے۔ بھارت نے کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا ، پھر مُکر گیا، وہ ریاست میں زمینی حقائق بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کشمیریوں کو یقین دلایا کہ وہ اس جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں ۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان آزادکشمیر اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری اور ان کے ہمدرد آباد ہیں یہ دن منایا گیا۔ جواب ایک مستحکم روایت بن چکا ہے، اب کی بار اس میں یہ اضافہ ہوا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر بھی کل جماعتی پارلیمانی گروپ کی کاوشوں سے تقریب ہوئی۔ اس سے لگتا ہے کہ کشمیر کی آواز اب دور و نزدیک پھیل رہی ہے اور جن ایوانوں میں پہلے ایسی تحریک نہیں تھی وہ بھی متحرک ہو رہے ہیں۔ بھارت نے اس تقریب اور یورپ میں ایسی تقریبات کو رکوانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی، غالباً بھارتی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی لگا کر کشمیریوں کی آواز کو خاموش کر دیا ہے لیکن اس بار یوم یکجہتی کشمیر نے بھارتی قیادت کی ساری غلط فہمیاں دور کر دیں اور خود نریندر مودی کو فکر لاحق ہو گئی کہ زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے کھسکتی جا رہی ہے، دو روز قبل جب وہ مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے تو وادی میں فوج کی بندوقوں ، سنگینوں اور یخ بستہ ہواؤں کی سائیں سائیں کے سوا ان کا استقبال کرنے والا کوئی نہ تھا اور وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے فضا میں ہاتھ لہرا لہرا کر یہ تاثر دیتے رہے جیسے ان کا استقبال کرنے والے اُمنڈ آئے ہوں لیکن یہ پردہ بھی چاک ہو گیا۔

مودی جب سے برسراقتدار آئے ہیں انہوں نے بزعم خویش کشمیر کے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش کرکے ایک بڑی چال چلی تھی اور ان کا خیال تھا کہ وہ مسلم اکثریت کی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کم ظاہر کر دیں گے اور ہندوؤں کی بڑھا دیں گے اس مقصد کے لئے انہوں نے ریٹائرڈ فوجیوں کی بڑی تعداد کو کشمیر میں آباد کیا اس کے دومقاصد تھے ایک تو ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ اور دوسرے بوقتِ ضرورت ان ریٹائرڈ فوجیوں کو کشمیری عوام کے خلاف استعمال کرنا، لیکن زمینی حقائق اس طرح کی کوششوں سے تبدیل نہیں ہو سکتے ، پھر انہوں نے ریاست کا وزیراعلیٰ کسی ہندو کو بنانے اور ڈھٹائی کے ساتھ مفتی محمد سعید مرحوم کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی جو انہوں نے ناکام بنا دی پھر محبوبہ مفتی نے بھی اپنے والد کے انتقال کے بعد مودی کی چال کو کامیاب نہ ہونے دیا جس کا مقصد مفتی سعید کی جماعت پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ مل کر بی جے پی کے حمایت یافتہ کسی ہندو رکن کو وزیراعلیٰ بنانا تھا لیکن پہلے مفتی محمد سعید اور پھر محبوبہ مفتی نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ کا تعلق ان کی پارٹی ہی سے ہوگا جو ریاستی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

پی ڈی پی نے مودی کی یہ کوشش تو ناکام بنا دی لیکن ریاست میں پہلے گورنر راج اور پھر صدر راج نافذ کرکے حالات کو کنٹرول کرنے کی جو کوششیں کی گئیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں، ظلم و تشدد کے حربے بھی ناکام ہو چکے ہیں اس وقت کشمیر میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں جس کا مظاہرہ مودی کی آمد پر مکمل ہڑتال کے موقع پر بھی ہوا اور ریاست میں سیکیورٹی اہل کاروں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔ مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد کشمیریوں پر تشدد کا جو سلسلہ تیز تر کر دیا تھا وہ اب تک رکنے میں نہیں آیا تاہم یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جبر و تشدد کے ذریعے کشمیریوں کے دل سے جذبہ آزادی ختم نہیں کیا جا سکا۔ مودی کو اب اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہے کہ انہوں نے طاقت کے استعمال سے مسئلہ کشمیر کے ’’حل‘‘ کا خواب دیکھا تھا وہ بُری طرح منتشر ہو کر رہ گیا ہے اور ان کا کوئی حربہ بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

اس وقت عالمی برادری کا امتحان ہے کہ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے میدان میں آئے، آزادی کا حق کشمیریوں کا بنیادی حق ہے جو بھارت کے پہلے وزیراعظم نے خود اقوام متحدہ میں تسلیم کیا تھا اور ساری دنیا کے نمائندوں کے سامنے اعلان کیا تھا کہ کشمیریوں کی رائے معلوم کرنے کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ بعدازاں اس وعدے کو فراموش کر دیا گیا اور ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے یہ سمجھ لیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ کشمیریوں کی آواز کو دبانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن آج تک ایسا نہیں ہو سکا، اقوام متحدہ نے ایک برس پہلے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جو رپورت دی تھی اس کی سیکرٹری جنرل نے بھی توثیق کی تھی، ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اس مسئلے کو دوبارہ زیر بحث لائے اور کشمیر کے سلسلے میں اپنی قراردادوں کو عملی جامہ پہنائے۔ بھارتی قیادت کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کا مسئلہ دب جانے کا خیال خام ثابت ہو چکا ہے۔ اب اس دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے اور کشمیریوں پر طاقت کا استعمال ترک کرکے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...