انعام اکبر کی مسلسل گرفتاری سے اخباری صنعت کا نقصان

انعام اکبر کی مسلسل گرفتاری سے اخباری صنعت کا نقصان

  



ممتاز ایڈورٹائزنگ ایجنسی ’’میڈاس‘‘ کے سربراہ انعام اکبر کی مسلسل گرفتاری کی وجہ سے اس ایجنسی کے سینکڑوں ملازمین غیر معمولی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر انعام اکبر کی رہائی عمل میں نہ آئی تو یہ ایجنسی مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور اس سے وابستہ ملازمین مستقل بے روزگار ہو جائیں گے۔ ’’میڈاس‘‘ نے ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں اور مختصر عرصے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اشتہار فراہم کرنے والا بڑا ادارہ بنا دیا، اس وقت میڈیا کو جو بحران درپیش ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس ایجنسی کے ذمہ اخبارات اور چینلوں کے کروڑوں روپے کے واجبات ہیں جو اس وجہ سے ادا نہیں کئے گئے کہ ایجنسی کے سربراہ بعض مقدمات میں جیل میں بند ہیں اب تک ان کے خلاف کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہو سکا۔ اس لئے ضمانت پر رہائی ان کا حق بنتا ہے جو مقدمات ان کے خلاف زیر سماعت ہیں وہ تو چلتے رہیں گے اور ان میں جو فیصلہ بھی ہوگا سامنے آ جائے گا لیکن اس دوران ان کے کاروبار کو بند ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے گرفتار ہیں جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے عملی طور پر اس سے پوری اخباری برادری متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس ایجنسی کی وساطت سے جو اشتہارات شائع یا نشر ہوئے ان کے بلوں کی ادائیگی نہیں ہو سکی اس لحاظ سے یہ اخباری صنعت کا اجتماعی نقصان ہے۔ اس لئے ان کی ضمانت پر رہائی پر غور کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے ذمے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کر سکیں اور ان کا کاروبار بند ہونے سے بچ جائے۔ ان کے خلاف جو بھی مقدمات ہیں وہ مالی بے قاعدگیوں کے ہیں اور ان کی مسلسل گرفتاری سے انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...