گیس کے اضافی بل، کمیٹی اور اختیارات!

گیس کے اضافی بل، کمیٹی اور اختیارات!

  



وزیر اعظم عمران ان کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے گیس کے بلوں میں اضافے کی تحقیقات کے لئے چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو اس امر کا جائزہ لے گی کہ گیس کے بلوں میں اچانک اتنا زیادہ اضافہ کیوں ہوا۔ اس کی وجوہات کیا تھیں اور سد باب کیا ہو سکتا ہے۔ یہ ہدایت ان شکایات کی بناء پر کی گئی جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے مکینوں کی طرف سے کی گئی تھیں۔ صارفین کو یکایک سابقہ سال کی نسبت اس بار دسمبر کے بل چار پانچ گنا زیادہ آ گئے جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دسمبر 2017ء میں جس صارف کا بل پانچ ہزار روپے تھا، اس کا اس مرتبہ 26 ہزار روپے تک آیا، شکایت یہ کی گئی کہ گھریلو صارفین کو تجارتی نرخوں کے مطابق بل بھیج دیئے گئے ہیں۔وزیر اعظم کو نوٹس لینا بجا ہے اور یہ ہدایت بھی کہ وجہ معلوم کر کے صارفین کی شکایت ختم کی جائے، تاہم اندیشہ یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں ہوگا کہ محکمے کے مطابق یہ بل صارفین کی طرف سے استعمال شدہ گیس اور نرخوں کے مطابق ہیں ،گیس زیادہ استعمال کی گئی، وزیر صاحب نے تو یہ کہہ دیا تھا کہ گیزر بھی تعیش ہے ،لوگوں کو چولہوں پر پانی گرم کرنا چاہئے۔ یہ ایک غیر منطقی استدلال ہے۔ دوسری طرف صارفین کی شکایت میں بھی اصل حقیقت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف اضافی بل کی بات کی گئی ہے، حالانکہ یہ بل نئے نرخوں کے مطابق بھیجے گئے ہیں، اگر سوئی گیس کے بل پر ہی غور کیا جائے تو اب گھریلو صارفین کے لئے بھی پانچ مراحل کے نرخ ہیں۔ پہلے دو والے تو قابل برداشت ہیں کہ ان میں اضافہ تھوڑا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ دسمبر 2017ء میں دو ہزار روپے ماہانہ بل کی جگہ اس بار دسمبر 2018ء کا بل قریباً دوہزار سات سو روپے آیا، جبکہ اس سے اگلی اور اس سے بھی اگلی سلیبوں کے حوالے سے یہ نرخ اچانک کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور گیس پہلے دو مراحل والے سے زیادہ استعمال ہو تو بل بھی غیر متوازن طور پر بڑھتا ہے۔ یوں اصل مسئلہ گیس کی قیمتوں اور ان کے تعین کا ہے، یہی ماہرانہ کاریگری ہے، جسے درست کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ گیس کے نرخ تو چار سو فیصد سے زیادہ بڑھائے گئے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بھی تحقیق کر کے رائے دے اور اس کے مطابق نرخوں پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے، دوسری صورت میں یہ مشق بھی لا حاصل ہو گی کہ جو قیمتیں مندرج ہیں، بل ان کے مطابق ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ