میڈیا انڈسٹری کا معاشی بحران

میڈیا انڈسٹری کا معاشی بحران
میڈیا انڈسٹری کا معاشی بحران

  



اداروں کی مضبوطی ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ جو ریاست اپنے اداروں کا تحفظ ممکن نہیں بنا سکتی اُسکی بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ اسی طرح جب ادارے غیر جانبداری کی روایت فراموش کردیں یا پھر حکومتی دھونس تلے اپنے بنیادی اصول تیاگ دیں تب بھی نقصان ریاست ہی کا ہوتا ہے۔یوں سمجھ لیجیے کہ یہ صراط کاوہ رستہ ہے جس پہ ہر قدم پھونک کر چلنا پڑتا ہے اور ذرا سی لغزش فنا کی آتش کا ایندھن بنا دیتی ہے۔

نْقصان دونوں صورتوں میں ریاست کا ہے ،سوذمے داری بھی انہی کے کندھوں کا بوجھ بنتی ہے جو ریاست کی ترقی کے ضامن ،یعنی حکمران ہیں۔یہ حکمرانوں کی پالیسیاں ہی ہیں جو اداروں کو مضبوط بناتی ہیں اور کبھی ان میں ایسی مداخلت کرتی ہیں کہ وہ اپنے فرائض بھول کر حکومت کی کٹھ پتلی بن جاتے ہیں یا پھر تمام تر توانائیاں فرائض کی ادائیگی کے بجائے اپنے تحفظ پر صرف کر دیتے ہیں۔ہمارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، یہاں ہمیشہ اداروں کو استعمال کرنے کی سیاسی کوششیں ہوتی رہیں ۔کبھی ادارے استعمال ہوئے اور کبھی حکومت کے سامنے اصولی موقف کی مضبوط بنیاد پر کھڑے ہوگئے۔

ظاہر ہے اس ٹکراؤ کی سیاست نے ان قوتوں کو مضبوط بنایا جن کا مفاد ریاست کی کمزوری میں پنہاں تھا۔

ہمارے ہاں چونکہ سیاست کا بنیادی اصول جھپٹنا، پلٹنا اورہر وقت کسی نہ کسی محاذ پر لڑتے رہنا ہے،اس لئے کوئی محاذ نہ بھی ہوتو نیا محاذ اس لئے بھی ایجاد کرنا ضروری رہتا ہے کہ حکومت کو، حکمران ہونے کااحساس رہے ۔تحریک انصاف نے پہلے روز سے پالیسی اپنائی کہ نہ تو عدلیہ کو چھیڑنا ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چومکھی لڑنی ہے۔حالات تودرست تھے، لیکن مزہ نہیں آرہا تھا۔اس لئے لہو گرم رکھنے کے لئے چوتھے ستون کی جڑیں کھودنے کا فیصلہ ہوا اور اسے کمزور بنا کر اپنا ممنون کرنے کے لئے کوششیں شروع کردی گئیں۔

سرکاری اشتہارات میں کمی ہوئی اور جوادائیگیاں سرکار کے ذمے تھیں وہ روک لی گئیں۔اخبارات کی معاشی شہ رگ متاثر ہوئی تو سانس کارکنوں کا رکنے لگا،نتیجہ تنخواہوں میں تاخیر اور بے روزگاری کی صورت برآمد ہوا۔اُدھر تمام معاملات کو چشم زدن میں درست کرنے کا دعویٰ رکھنے والے ’’حکما‘‘میدان میں اترے اور سرمایہ کاروں سے جنم جنم کا حساب لینا شروع کردیاتو معیشت کا پہلے سے نڈھال گھوڑا ہانپنے لگا۔

جب سرمایہ کاری میں کمی آئی تو غیر سرکاری اشتہارات کو بھی جیسے بریک لگ گئی۔اخبار مالکان جو پہلے ہی تشویش میں مبتلا تھے وہ بڑے معاشی بوجھ تلے دب کے رہ گئے۔ان تمام حالات میں حکومت کا کردار تماشائی سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا۔بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو زخموں پر نمک پاشی ہی کی گئی۔

سرکاری اشتہارات کی کمیابی یا غیر منصفانہ تقسیم کے بعد بھی جو ایک امید بچتی تھی وہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں تھیں، جن کے بارے میں حکومتی پالیسی ہر گز دوستانہ نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں اخبارات کے واجبات کا پابند بنانے کے علاوہ ایسے دائرے میں لایا جاتا جہاں تمام تر عمل شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کا بھی حق مارنے کی گنجائش موجود نہ ہوتی۔

لیکن بدقسمتی سے حکومت اس شعبے کا گلہ دبا کر اخبارات کے لئے موجود اُس کھڑکی کو بھی بند کردینا چاہتی ہے جہاں سے تھوڑی بہت آکسیجن ملنے کی امید ہو سکتی تھی۔ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ یہاں سے کیا جاسکتا ہے کہ اُسے وہ ایڈورٹائزر بھی یاد نہیں جس نے تحریک انصاف کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوامی سیاسی تحریک بنایا تھا۔

میری مراد انعام اکبر سے ہے جس نے تحریک انصاف کی سیاسی تشہیر کا ذمہ اٹھا یا اور کاروبارکی بربادی کی پروا کئے بغیر تحریک انصاف کا جھنڈا اٹھائے رکھا۔

تبدیلی کے نعرے سے لے کر نئے پاکستان کی بات تک،ہر جگہ انعام اکبر کاپروفیشنل ازم دکھائی دیا۔خود عمران خان اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے معترف اور تسلیم کرتے تھے کہ اس شخص نے مشکل دور میں ساتھ نبھایا ہے۔لیکن جب تحریک انصاف میں ’’ پیرا شوٹرز‘‘آئے تو اس جماعت کو اپنے وہ محسن بھول گئے جن کا تعلق مخلصانہ بنیادوں پرتھا۔یعنی وہ میڈیا جس نے تحریک انصاف کو عوامی جماعت بنایا آج اسی کی حکومت میں اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے۔

جہاں تک معاملہ انعام اکبر کا ہے تو اس بے چارے کو تو سزا بھی تحریک انصاف سے تعلق کی دی جارہی ہے۔نواز لیگ کے دور میں سابق چئیرمین نیب نے انہی سیاسی بنیادوں اور اپنی کاروباری رنجشوں پر ہی انعام اکبر کو گرفتار کیا تھا۔اس مخاصمت کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج ایک سال سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود نہ تو ایسے ثبوت لائے جاسکے جن کی بنیاد پر یہ ریفرنس آگے بڑھتا اور نہ ہی اسے قید رکھنے کے جواز تلاش کئے جا سکے۔

اب انعام اکبر کے کاروبار ٹھپ اور وہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی بند پڑی ہے جس نے تحریک انصاف کی تشہیر ہر دور میں کی۔اب آتے ہیں انعام اکبر اور موجودہ بحران کی جانب جس نے کارکن صحافیوں کا چولہا ٹھنڈا کرنے کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔اسی انعام اکبر نے ایک دور میں سیکڑوں اخبارات کا معاشی بوجھ اٹھا رکھا تھاجہاں کام کرنے والوں کوکم از کم غم روزگارلاحق نہیں تھا ۔

جب انعام اکبر کوسیاسی مخاصمت کا نشانہ بنا یا گیا تو اس کے ذمے اخبارات کے کروڑوں روپے کے واجبات تھے جن کی ادائیگی ایک ترتیب کے ساتھ کی جارہی تھی،لیکن اچانک اس کے تمام اکاونٹس منجمد کردیے گئے۔یوں اخبارات کے بقایا جات کا سلسلہ بھی تھم گیا جو دم گھٹنے کی کیفیت میں بڑا ریلیف ہو سکتا تھا۔اب ایک جانب تو پرانے واجبات اخبارات کے لئے بڑا معاشی مسئلہ ہیں تو دوسری جانب جو بزنس انعام اکبر کی وجہ سے ملتا تھا ،وہ بھی بند ہو چکا۔ان حالات میں اخبارات کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

عمران حکومت کو اپنے مشیروں کی ضرور سننی چاہیے لیکن فیصلے خالص عقلی دلائل کی بنیادوں پر کرنے چاہئیں۔میڈیا کو دبانے کی جس پالیسی کا آغاز کیا گیا ہے یہ حکومت کو وقتی ریلیف تو ضرور دے سکتی ہے لیکن آنے والے وقت میں اس کے نقصان کا تصور کم از کم وہ پیراشوٹرز تو کر ہی نہیں سکتے جن کو اتنا بھی شعور نہیں کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت کبھی کم ہو ہی نہیں سکتی۔

ان بازی گروں کو چاہیے کہ نیا چیلنج پیدا کرنے کے شوق میں کیل پہ مکہ نہ ماریں ،اپنی پالیسی بدلیں اور میڈیا دوست ہونے کا ثبوت دیں۔ماضی سے سبق سیکھیں اور ان حرکتوں سے گریز کریں جنہوں نے سابق حکومتوں کو زوال آشنا کیا۔

مزید : رائے /کالم


loading...