کشمیریوں کابہنے والالہوآزادی کی ضمانت

کشمیریوں کابہنے والالہوآزادی کی ضمانت
کشمیریوں کابہنے والالہوآزادی کی ضمانت

  



مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا اجلاس جاری تھا پاکستانی مندوب بڑے موثر طریقے سے کشمیر میں بھارت کی طرف سے ہونے والے ظلم و ستم بیان کر رہے تھے وہ بتا رہے تھے کہ اب تک بھارت لاکھوں معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کو قتل کر چکا ہے ہزاروں کو بینائی سے محروم اورخواتین کی بے حرمتی کر چکا ہے وہ تفصیل سے کی گئی تقریر کے بعد اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو بھارتی مندوب نے جوابی تقریر میں کہا کہ پاکستانی مندوب جو کچھ بیان کر رہے تھے وہ درست نہیں ہے وہ حقائق سے روگردانی کر رہے تھے اس پر پاکستانی مندوب فوراً کھڑے ہوئے اور کہا کہ جس طرح بھارتی مندوب نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے بس ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کو بھی ایسا ہی آزادی اظہار کا حق دے انہیں حق خودارادیت دے اور اجلاس تالیوں سے گونج اُٹھا ۔مسئلہ کشمیر ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے کوئی باِ شعور اور باضمیر شخص انکار نہیں کر سکتا اقوام متحدہ ہو یا اقوام عالم سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے مگر بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا ہے اس نے کشمیریوں پر وحشتناک مظالم کی انتہا کر رکھی ہے بچے،خواتین ،عمررسیدہ لوگ اور جوان سب کو بلا تفریق بے دردی سے قتل کیاجارہا ہے۔

خود بھارت کے اندر اس پر شدت کے ساتھ آواز اُٹھائی جارہی ہے بھارتی ادیب ،شعرا،دانشور اور صاحب الرائے اس پر احتجاج کر رہے ہیں ماضی کے حکمرانوں کی طرح مودی سرکار پر بھی اس کی جوں تک نہیں رینگ رہی ۔دکھ اس بات کا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی اس مسئلہ پر کوئی ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں اُٹھا رہیں جو اس لحاظ سے ایک تشویشناک امر ہے کہ ان کے اس رویے سے اسلام دشمنی کا احساس نمایا ں ہوتا ہے۔

دنیا کو اس بات کا علم ہو نا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اوران کے درمیان مسئلہ کشمیر کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر مسئلہ نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ اتنا حساس نہیں کہ اس پر ایٹمی جنگ کا خطرہ ہو مگر مسئلہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیا ن ایٹمی جنگ کے خطرے کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اگر خدانخواستہ یہ جنگ ہو گئی تو پھر یہ پاکستان اور بھارت تک ہی محدود نہیں رہے گی ،بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اس بات کے پیش نظر اقوام عالم کواس مسئلہ کے حل کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا ۔

سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف نے 26جون 2003ء میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کاچار نکاتی پلان پیش کیا تھا جس میں قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اس مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات کی شدید ضرورت ہے۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کی انتہا یہ ہے کہ وہ پاکستان سے کرکٹ تک کھیلنے کے لئے تیا ر نہیں اور یہ کہ بھارت یہ تسلیم کرے کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان یہ ایک متنازعہ اور حل طلب مسئلہ ہے اور باہمی وعالمی امن کے لئے اس مسئلہ کو حل کیا جائے لیکن بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیر بھارت کا حصہ ہے کا بے ہنگم راگ الاپنے کی روش جاری رکھی اور حریت پسند کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے بجائے بہیمانہ مظالم کا سلسلہ جاری رکھا اور بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا اپنا حق مانگنے والے معصوم اور نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم کے بدترین ریکاڈز قائم کرنے کا سلسلہ تواتر سے جاری رکھا ہوا ہے جس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔کشمیر جو کبھی ایشیاکا سوٹزرلینڈ کہلاتا تھا آج دنیا کے خطرناک ترین تنازعہ کا مرکز بن چکا ہے اور کشمیر کا نام آتے ہی جنگ،لاشیں،جبری گمشدگیاں ،حراستی قتل،املاک کی تباہی وبربادی ،پیلٹ گنوں سے چھلنی نہتے لوگ،بینائی سے محروم لوگ ،اجتماعی قبریں ،عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ،عقوبت خانوں میں مارے گئے معصوم بیٹوں کی روتی ہوئی بوڑھی مائیں اور والدین کے لئے بلک بلک کے روتے ہوئے معصوم بچے یاد آتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ نہ تو اقوام متحدہ ،نہ ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں یہاں تک کہ آرگنائزیشن آف اسلامی کانفرنس سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ہر کڑے وقت میں کشمیریوں کے جائز حق آزادی کے لئے ہر پلیٹ فارم پر پیش پیش رہا ہے اور ہے پاکستان کا ابتداء سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں ، کشمیری عوام کی مرضی اور خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے اور اس حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو خود بھارت نے آج سے تقریباً71برس قبل یکم جنوری 1948ء کواقوام متحدہ میں اُٹھایا تھا اور اب یہ بھی بھارت ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسے حل کرنے میں پس وپیش کر رہا ہے اور یہ بھی اقوام متحدہ ہے جس نے اپنی ہی قراردادوں پر ابھی تک عمل نہیں کیا۔

حال ہی میں انعقاد پذیر قومی کشمیر کانفرنس نہایت کامیاب رہی جس میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی زبردست حمایت کی جو قابلِ ستائش ہے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر باہمی اتحاد اس لئے بھی خوش آئند ہے کہ اس سے دنیا کو یہ پیغام گیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھر کی سیاسی جماعتیں اورپوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتی ہے جو مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوگا اس طرح کی کانفرنسیں اگر تسلسل کے ساتھ منعقد کی جائیں تو یہ اور بھی بہتر ہوگا اورکشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بھی مہمیز ملے گی ۔جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی اس مسلے پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...