مدارس کا تحفظ یک نکاتی ایجنڈاہے،چیرٹی بل مسترد کرتے ہیں ،مولانا انوار الحق

مدارس کا تحفظ یک نکاتی ایجنڈاہے،چیرٹی بل مسترد کرتے ہیں ،مولانا انوار الحق

  



پشاور(سٹی رپورٹر)دینی مدارس کی اسناد کے معاملے میں تمام تر جائز کوششیں کی ہیں تاہم حکومتی رویہ افسوسناک ہے۔شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے تفصیلات کے مطابق اتحاد تنظیمات مدارس کااعلی سطحی اجلاس جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی صدر ومہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک مولانا انوارالحق کی صدارت میں منعقد ہوا ۔جس میں مولانا انوارالحق کے علاوہ رابطۃ المدارس پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم مولانا حسین احمد، تنظیم المدارس کے صوبائی صدر مفتی فضل جمیل رضوی ، وفاق المدارس السلفیہ کے صوبائی صدر مولانا فضل الرحمن مدنی ، مولانا حافظ سلمان الحق حقانی، وفاق المدارس کے صوبائی میڈیاکوآرڈینیٹر مفتی سراج الحسن کے علاوہ اتحاد تنظیمات مدارس کے دیگراہم عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد قائدین نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آ ج کے اس اہم اجلاس میں وزارت تعلیم خیبر پختونخوا کا مدارس کی اسناد کو میرٹ میں 20نمبر نہ دینے اور خیبر پختونخوا میں مدارس کا گھیر اتنگ کرنے کے لیے پنچاب طرز کے چیرٹی بل اسمبلی میں لانے کے خلاف متفقہ لائحہ عمل بنانا تھا۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹرمفتی سراج الحسن کے مطابق اجلاس میں دونوں مسئلوں پر گہری تشویش کا اظہا رکیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دینی مدارس کی اسناد کے حوالے سے ہم نے تمام تر جائز کوششیں کی ہیں ۔ لیکن اس اہم اور حساس مسئلے میں حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی ہے۔ہم نے تمام تر صورت حال سے،گورنر،وزیراعلی، مشیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم ، ڈائیریکٹر تعلیم کوآگاہ کیا ہے تاہم دانستہ طور پر دینی مدارس کے فضلاء کو ان کے استحقاق سے محروم کیاجارہا ہے۔جو تعلیم دشمنی کے ساتھ دین دشمنی بھی ہے۔ قائدین نے کہا کہ اس حوالے سے اتما م حجت کے لیے اس مسئلے پر کورکمانڈر پشاور اور وزیراعلی خیبر پختونخوا سے ایک مزید ملاقات کی جائے گی ۔ اگر پھر بھی حکومت نے اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ حکومت نے ہماری شرافت کو کمزوری سمجھا ہے ۔لہذا ہم اتحادتنظیمات مدارس کے مرکزی اجلاس میں صوبائی حکومت کے خلاف مؤثر تحریک چلانے کا اعلان کریں گے ۔ جس کو کنڑول کرنا حکومت کی بس کی بات نہیں ہوگی۔ لہذا ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ہم مدارس کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے ہمیں تنگ نہ کریں ۔ مدارس تعلیمی ادارے ہیں جوقوم کے بچوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں انہی مدارس کے تحت پاکستا ن میں لاکھوں طلبہ وطالبات زیورتعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔قائدین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مدارس کا گھیر اتنگ کرنے کے لیے چیرٹی بل لایا یا جارہا ہے جس کوبہر صورت روکا جائے گا ۔کیونکہ مدارس کا تحفظ ہمارایک نکاتی ایجنڈا ہے اس ایجنڈے کے حوالے سے کسی قسم کی کمزور ی اور لچک کا مظاہر ہ نہیں کریں گے۔مدارس کے تحفظ کے لیے آخری حدتک جائینگے۔ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے مدارس کے خلاف روز نئے محاذ کھولے جارہے ہیں ایک طرف حکومت نے ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کیا ہو اہے جبکہ دوسری طرف عملی اقدامات مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کررہی ہے ۔حکومت کے معاندانہ رویہ سے مسائل بڑھیں گے ۔ اجلاس میں اتحاد تنظیمات مدارس کی طرف سے مساجد کے ائمہ کو ہدایات جاری کردی گئیں کہ آئندہ جمعہ کے خطابات میں موجودہ حکومت کی مدارس دشمنی کے بارے معاشرے کو آگاہی دی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...