ورلڈ اکنامک فورم۔۔۔ ڈیووس2019ء

ورلڈ اکنامک فورم۔۔۔ ڈیووس2019ء
ورلڈ اکنامک فورم۔۔۔ ڈیووس2019ء

  



24جنوری2019ء: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوکیوٹرس نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین عالمی طاقتوں امریکہ، روس اور چین کے درمیان سرد مہری اور غیر مربوط تعلقات عالمی معیشت اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غربت اور ماحولیاتی تبدیلیاں باعث تشویش ہیں، دُنیا نے اگر آگے بڑھنا ہے تو ان معاملات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی طاقتوں کے درمیان پائی جانے والی مخاصمت معاملات کو بہتر بنانے کی کاوشوں کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دُنیا نہ یک قطبی ہے نہ دو قطبی، بلکہ کثیر قطبی ہے، ہم جس دُنیا میں رہ رہے ہیں اِس میں پائے جانے والے مسائل مربوط نہیں،بلکہ بٹے ہوئے ہیں۔ہر ایک مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہے ان سے نمٹنے کے لئے ہماری اپروچ بھی منفرد ہی ہونی چاہئے،بلکہ طاقتوں کو ان معاملات سے نمٹنے کے لئے ایسی ہی منفرد اپروچ کا مظاہرہ کرنا ہو گا، لیکن چین،روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات تاریخ میں اتنے مخاصمانہ کبھی نہیں ہوئے تھے جتنے آج کل ہیں‘‘۔

دوسری جنگِ عظیم 1939-45ء میں یہ بات طے ہو گی تھی کہ اب امریکہ عالمی طاقت ہو گا۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکہ ایک توانا اور طاقتور عالمی کھلاڑی کے طور پر عالمی منظر پر نمودار ہوا۔

اس نے کمیونزم کا راستہ روکنے کے نام پر قوموں کو اکٹھا کیا، آزاد نظام معیشت کے ہمنوا ممالک اس کے جھنڈے تلے آئے اور امریکہ نے کمیونزم کا راستہ روکنے کے نام پر ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا، جو 90ء کی دہائی تک، اشتراکی ریاست کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے تک جاری رہی۔

اشتراکی ریاست کے خاتمے کے بعد امریکہ نے اپنے آپ کو خود ہی سپریم عالمی طاقت کے منصب پر فائز کر لیا۔ مشرق وسطیٰ میں آتش و آہن کا جہنم دھکا دیا۔ کویت کی آزادی کے نام پر آپریشن ڈیزرٹ سٹارم لانچ کیا اور اپنی حیرت انگیز ملٹری ڈیجیٹل صلاحیت اور فائر پاور کا مظاہرہ کر کے دُنیا پر اپنی عسکری برتری کی دھاک بٹھا دی۔ امریکی تھنک ٹینکس ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ اور ’’تہذیبی تصادم‘‘ جیسی شہرہ آفاق تحریروں کے ذریعے سفید انسان (امریکہ) کی برتری کا اعلان کرنے لگے۔

سوویت یونین نے15ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے باعث اشتراکی نظام معیشت کے امل ممالک کی سیاسی و سفارتی حیثیت متاثر ہوئی، اِس لئے امریکہ کو سپریم طاقت بننے میں کسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا، حتیٰ کہ2001ء میں نائن الیون کے وقوع نے امریکی عالمی بالادستی کا خواب چکنا چور کر دیا۔

دہشت گردی کے خلاف اعلان کردہ امریکی جنگ نے امریکی معیشت اور عسکریت کے دبدبے کو کمزور کیا ہے ان برسوں کے دوران روس بھی اپنی سابقہ عالمی حیثیت منوانے کی کاوشیں کرتا رہا ہے اور اسے اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

دوسری طرف چین عالمی منظر پر ایک مربوط اور مستحکم ملک کے طور پر نہ صرف ظاہر ہو چکا ہے، بلکہ اپنی عالمی حیثیت کو منوانے اور قائم کرنے پر بھی اصرارکر رہا ہے۔

دُنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک اہم مسئلہ ہے،جس کے باعث دستیاب وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، تیز رفتار صنعتی تعمیر و ترقی کے باعث فضا میں کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج نے عالمی حدّت میں اضافہ کیا ہے،جس کے باعث ماحولیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں، جو ہمارے ایکو سسٹم پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمارے نظام زندگی پر منفی اثرات مرتب کرنے شروع کر دیئے ہیں، زرعی پیداوار کے رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں۔عالمی گرماؤ کے باعث گلیشیرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے،جس کے باعث سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں بارشوں اور سیلابوں کا سبب بن رہی ہیں، جس کے باعث ساحلی علاقے تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ تیل،کوئلے اور گیس کے استعمال میں مسلسل اضافے نے زمین ہوا اور سمندر پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں اس سے عالمی معیشت میں کمزوری پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم، ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں سالہا سال سے منعقد ہونے والے اس فورم کے ذریعے دُنیا کے شمالی و جنوبی خطے کے رہنماؤں کو یہاں اکٹھے ہو کر صرف عالمی معاشی مسائل ہی نہیں،بلکہ سیاسی، ماحولیاتی اور سیکیورٹی مسائل بارے گفتگو کرنے اور ان کے حل بارے فکرو عمل کے مواقع ملتے ہیں۔

یہاں جب عالمی رہنما سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، تو مسائل کا حل نکل ہی آتا ہے اور اس طرح تہذیبِ انسانی کی تعمیر و ترقی کی باتیں یقینی صورت اختیار کرتی ہیں، لیکن بڑی عالمی طاقتوں بشمول امریکہ،روس اور چین کے تعلقات کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری، تشویشناک ہے، کیونکہ عالمی منظر نامے پر ان ممالک کی حیثیت مسلم و مستحکم ہے۔

2015ء کے معاہدۂ پیرس کے ذریعے موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کی منصوبہ سازی کی گئی ہے۔اس معاہدے کے ذریعے ممبر ممالک کو پابند کیاگیا تھا کہ وہ صنعتی گیسوں کے اخراج کو اعتدال پر رکھنے کی منصوبہ سازی کریں گے، اس طرح عالمی گرماؤ میں کمی کے ذریعے موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات پر قابو پانے کی سعی کی گئی تھی اس معاہدے کو اس وقت شدید دھچکا لگا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو خیر باد کہنے کا اعلان کیا۔ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو کیوٹریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہی تہذیبِ انسانی کی بقاء کے لئے بنیادی خطرہ ہے‘‘۔

اس بارے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی نے دستیاب ضروریات زندگی کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہ، ہر آنے والا دن قدرتی وسائل کی اہمیت اُجاگر کر رہا ہے۔ قدرتی وسائل میں ہوا اور پانی کے علاوہ آبی حیات سب سے اہم ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست انسانی بودو وباش سے متعلق ہے، انسان کھانے ، پہننے کی زیادہ تر اشیا قدرتی وسائل سے حاصل کرتا ہے۔

پھر خود پیدا کرنے والی اشیا و خدمات کے محصول کے لئے مناسب فضا و ہوا اور پانی اتنا ہی ضروری ہے جتنا انسانی علم و صلاحیت اور کاوش ضروری ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انسان کو لاحق ہونے والی بہت سی بیماریاں آلودہ پانی اور فضا کے باعث ہوتی ہیں۔پاکستان کو ہی دیکھ لیں آج یہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے،دُنیا کے بڑے گلیشیرز اور مون سون کے خطے میں واقع ہونے کے باوجود ہمیں دستیاب پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرۂ ارض کا تین چوتھائی پانی اور برف پر مشتمل ہے، اس کے باوجود انسانوں کو پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ زراعت کے لئے درکار پانی کی دستیابی میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ ہم اگر ان تمام مظاہر کی جڑ تک جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ انڈسٹرلائزیشن وہ بنیادی سبب ہے جو ہوائی ،فضائی، زمینی اور دریائی و سمندری آلودگی کا باعث ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے باعث ہماری ہوا اور فضا آلودہ ہو رہی ہے۔اس میں کاربن کی شرح مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے، جبکہ صنعتی فضلہ، زمینی، دریائی اور سمندری آلودگی کا باعث بنتا ہے۔

گرین ہاؤس گیسیں ماحول میں گرماؤ پیدا کرتی ہیں،جس سے گلیشیرز کے پگھلنے کی قدرتی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے اِس سے ایک طرف بارشیں برسانے کے قدرتی سائیکل میں تبدیلی ہوتی ہے۔ سمندری طوفان اور سیلاب آتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سطح سمندر بھی بلند ہو رہی ہے،جس سے کئی ساحلی آبادیاں غرقاب ہو جائیں گی، کئی جزیرے ڈوب کر صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم