خود نوشت: خوشا روانی ء عمرے کہ در سفر گزرد!

خود نوشت: خوشا روانی ء عمرے کہ در سفر گزرد!
خود نوشت: خوشا روانی ء عمرے کہ در سفر گزرد!

  



’’سفر وسیلہ ء ظفر‘‘ ایک پرانا مقولہ ہے۔ اگر آپ کی طبیعت سیر و سیاحت اور سفر کا رجحان رکھتی ہے تو یہ ایک خاص عطیہ ء خداوندی ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یہ مقولہ اقوامِ مغرب کے زن و شو پر زیادہ صادق آتا ہے۔

جہاں مشرق کے مکینوں پر اس کا اطلاق کم کم ہوتا ہے وہاں مغرب میں ہر شخص ابن بطوطہ ہے اور سمندری اقوام ہونے کے ناطے ہر بندہ سند باد جہازی ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اس مقولے پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں۔۔۔۔ الحمدللہ! میں خود ان میں شامل ہوں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، ذوقِ سیاحت ودیعتِ خداداد ہے۔ ابھی لوئر مڈل کلاسوں کا سٹوڈنٹ تھا تو اپنے شہر(پاک پتن) میں دائیں بائیں جو دو بڑی بڑی نہریں واقع ہیں، شِکر دوپہروں میں سکول سے آکر بمشکل کھانا کھاتا اور سائیکل پکڑ کر ان نہروں کے کنارے جا نکلتا۔

بہتا پانی، یکساں روانی کے ساتھ ندی کی اوپر نیچے ہوتی ہوئی موجیں، درختوں کی شاخوں کے ہُلارے، ان پر قسم قسم کے پرندے اور ان کے زمزمے، اردگرد کھیتوں میں ہل چلاتے اور سہاگہ پھیرتے کسان اور چلچلاتی دھوپ میں نہر کے ٹھنڈے ٹھار پانی سے لطف اندوزی ایک طرف ہوتی اور والدین کی طرف سے سرزنش بلکہ چھترول دوسری طرف۔ لیکن ہم ایسے ڈھیٹ تھے کہ اس ڈیلی ایکسرسائز سے باز ہی نہیں آتے تھے۔ پانی میں کنڈی لگا کر مچھلیاں پکڑنا، طوطیوں، فاختاؤں اور ہد ہد کے چتکبرے انڈوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر درختوں کے تنوں سے نکال کر ایک تھیلی میں بھرنا اور گھر کی ڈیوڑھی میں رکھ کر والدین کی نظروں سے چھپا دینا اور صبح اٹھ کر سکول لے جانا اور وہاں ’تفریح‘ کے پیریڈ میں اپنی ’فتوحات‘ کا مظاہرہ کرنا نجانے ہمارے کس احساسِ کمتری کا کتھارسس کیا کرتا تھا!

پھر جب بڑے ہوئے اور مری کا نام سنا تو سینے میں کئی بار اس کو دیکھنے کی ہوک اٹھی لیکن غربت اس وقت تک سدِّراہ رہی جب تک جیب و دامن اتنے بھاری اور فراخ نہ ہو گئے کہ مری کی راہ لیتے۔

سرو، چنار، دیووار، آبنوس، شمشاد اور پرتل کے درختوں کو کتابوں میں پڑھ پڑھ کر ان کو آنکھوں میں بسا لیا تھا اور ان کو دیکھنے کا شوق، جنون بن گیا تھا۔ دریائے ستلج تو پاک پتن شہر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ وہاں گاہے ماہے چکر لگا لیتے لیکن ریگستان، پہاڑ، سطح مرتفع، گھاٹیاں، گلیات، درے، وادیاں اور کھائیاں وغیرہ کی اصطلاحیں صرف کتابی علم تھا۔ جب پہلی بار ان کو بچشم خود دیکھا تو اس تخیل کو الفاظ میں نہیں سمیٹ سکتا۔

صحرا اور سمندر دیکھنے کا اتفاق فوج نے پورا کیا۔ رحیم یارخان میں ہمارا بریگیڈ ہیڈکوارٹر واقع تھا جس کی ذمہ داری کا علاقہ بھارتی سرحد تک پھیلا ہوا تھا۔ ہم ریکی کے لئے جاتے تو راستے میں حدِ نظر تک ریتلا میدان اور میلوں کی مسافت کے بعد کوئی چھوٹا سا ذخیرۂ آب (ٹوبہ) نظر آتا تو وہاں ہرنوں کو پانی پیتے دیکھ کر اقبال یاد آتا:

اے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں

گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیل

ریت کے ٹیلے پر وہ آہو کا بے پروا خرام

وہ حضر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگِ میل

پھر سمندر دیکھنے کی آرزو بھی فوج ہی کے توسط سے پوری ہوئی۔۔۔ کراچی میں چھ ماہ کا ایک کورس آیا تو ہم دو دن پہلے ہی وہاں جا پہنچے اور آفیسرز میس (Mess) میں بوریا بستر پھینک کر سیدھے ساحلِ کراچی کی راہ لی۔ شام ہو رہی تھی۔ ٹیکسی والے نے پوچھا کہاں اتاروں؟۔۔۔ میں نے کہا: ’’جہاں سمندر کا پانی ساحل کو چھو رہا ہو‘‘۔۔۔ وہ سمجھ گیا کہ سواری ’’سمندر نا آشنا‘‘ ہے، دیر تک گھما پھرا کر اس نے اسی جگہ جا اتارا جسے کلفٹن کہتے ہیں۔

ازراہِ اتفاق اس رات چاند کی چودھویں تھی۔ لوگ جوار بھاٹا کا نظارا کرنے ساحل پر جمع تھے۔ تقریبا 9،10بجے دیکھا تو سمندر کی سطح سے کئی فٹ بلند ایک دیوارِ آب نظر آئی جو ساحل کی طرف بڑھتی چلی آ رہی تھی۔ میں خوفزدہ ہو گیا اور اٹھ کر پیچھے جانے لگا۔ اردگرد بیٹھے لوگوں نے کہا: ’’یہی منظر تو قابلِ دید ہے۔ فکر نہ کرو۔ یہ دیوار تم سے نہیں ٹکرائے گی‘‘۔

اس 6ماہ کے کورس میں کوئی اتوار ایسا نہ تھا کہ جس میں، میں اکیلا یا دوستوں کے ہمراہ ساحلِ بحر پر نہ گیا اور میلوں دور تک آبی حیات، آبی نباتات اور ان سب مناظر کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا جن میں ادیبوں اور شاعروں نے نثر و نظم میں قافیہ پیمانی کی تھی۔ خواجہ حافظ کا یہ شعر آیا:

کشتی ء شکست گا نیم اے بادِ شرط بر خیز

باشد کہ باز بینم آں یارِ آشنا را

اور پھر کچھ برسوں بعد فوج ہی نے کراچی سے جیونی تک کا نظارا کرنے کے مواقع فراہم کئے۔ پورٹ قاسم، اوڑمارا، پسنی اور گوادر کو دیکھا۔ پاک بحریہ کا شپ یارڈ دیکھا اور تمام بالائے آب بحری جنگی جہازوں (ڈسٹرائر، فریگیٹ، کروزر، کارویٹ، لٹورل شپ) اور زیر آب جہاز (چھوٹی اور بڑی آبدوزوں یعنی Midget سے لے کر جدید ترین PNS خالد اور سعد تک)کے اندر جا کر ایک ایک حصے اور پرزے کو دیکھا۔۔۔ بریفنگ دینے والوں میں جہاز کے کپتان تھے جن کو میں نے جی بھر کر تنگ کیا اور وہ یہ تبصرہ کرنے پر مجبور ہوئے کہ : ’’آپ نے شائد کبھی ایسی فلم بھی نہیں دیکھی جس میں یہ سب کچھ دکھایا جاتا ہے!‘‘۔۔۔میں انہیں کیا بتاتا کہ فلمیں تو ایک طرف رہیں، میں نے ان کو بار بار دیکھا اور خوابوں میں بھی ان کو بسایا ہوا تھا۔

یہ سن کر ایک دوست نے پوچھا آپ نے نیوی کیوں جوائن نہیں کی؟۔۔۔ میں نے جواب دیا: ’’کیا نیوی میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ایس پی (Self Propelledگنیں بھی ہوتی ہیں؟‘‘ انہوں نے نفی میں سر ہلایا تو میں نے پوچھا: ’’آپ نے آرمی کیوں جوائن نہیں کی؟‘‘۔۔۔ ان کو نہیں معلوم تھا کہ میرے اندر لوئر مڈل کلاس کا وہ ’’پینڈو‘‘ بچہ ہمیشہ موجود رہا جس نے اپنے شہر کی تنگ گلیوں سے بغاوت کرکے شہر سے باہر نکل کر راجباہوں، نہروں اور ہیڈورکس کی سیر کرکے اپنے شوقِ آوارگی کو تسکین دینے سے اس ایکسرسائز کا آغاز کیا تھا۔

میرے لئے یہ سفر ہمیشہ وسیلہ ء ظفر بنے رہے۔

فوج نے مجھے بہت کچھ دیا (بلکہ سب کچھ دیا) لیکن سب سے بڑھ کر یہ دیا کہ ملک کے چپے چپے سے آشنا کیا۔۔۔ خنجراب سے شروع کروں اور جنوب کی طرف آؤں تو ہنزہ، نگر، غذر، یاسین، گلگت، بونجی،داسو، سکردو اور چلاس دیکھا۔ ایبٹ آباد میں دوبار پوسٹنگ ہوئی اور اس دوران ایک طرف مانسہرہ ، شنکیاری اور بٹ گرام دیکھے تو دوسری طرف ٹھنڈیانی، باغ، نتھیا گلی اور ایوبیہ کے مناظر سے اَن گنت بار لطف اندوز ہوا۔ مری میں بھی دوبار پوسٹنگ ہوئی اور آس پاس کا کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جس کو پیدل واک کرکے نہ دیکھا۔ پھر بلوچستان میں بھی دوبار پوسٹنگ ہوئی۔ قلات ، مستونگ، سوراب، خضدار، وڈ، لس بیلا، حَب اور دوسری طرف چاغی، پنج پائی، احمد وال، والبندین، تفتان اور تیسری طرف لورالائی، باغ، فورٹ سنڈیمان، فاٹا کی ساتوں ایجنسیاں، خاران، مکران، تربت وغیرہ کس کس کا نام لوں۔۔۔ ہاں پنجاب میں بعض علاقے دیکھنے کی آرزو دل میں رہی۔ اگرچہ وسطی اور شمالی پنجاب (پوٹھوہار) کو جی بھر کر دیکھا لیکن پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کے کئی قابلِ دید سیاحتی مقامات جی بھر کر نہ دیکھ سکا۔

سندھ میں سکھر، حیدرآباد، نواب شاہ، شکارپور، جیکب آباد، سبی تک کے علاقے دیکھنے کے مواقع میسر آئے۔ آزادکشمیر کا ذکر کروں تو میرپور، جیری کس، بھمبر، جاتلی، باغ، اور لائن آف کنٹرول کا سارا علاقہ دیکھا۔ اگرچہ جہاں پانچ دریا آکر ملتے ہیں (پنجند) اس منظر کو نہ دیکھ سکا لیکن گلگت سے بونجی تک کے سفر میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے وہاں ایک بورڈ نصب ہے جس پر لکھا ہے: ’’ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمالہ، ہندوکش اور قراقرم کے تینوں سلسلے آکر ملتے ہیں‘‘۔۔۔ میں نے بھی بچوں کی طرح اس مقام پر کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں۔ سامنے دریائے سندھ کے پار نظر دوڑائیں تو تین الگ الگ ٹیلے نظر آتے ہیں۔

ایک ٹیلہ مشرق سے آتا ہے اور وہاں آکر ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ سلسلہ کوہ ہمالہ کا آخری حصہ ہے۔۔۔ مغرب سے ایک ایسا ہی اور اتنا ہی بڑا ٹیلہ آ رہا ہے جو یہاں آکر ختم ہو رہا ہے اور یہ ہندوکش کا حصہ ہے اور ان دونوں کے عین درمیان میں اور ان کے عقب میں ایک اور ٹیلہ جس کا سائز پہلے دوٹیلوں کے برابر ہے وہ بھی صاف نظر آتا ہے۔ یہ مقام اتنی دور نہیں کہ دھند وغیرہ میں چھپا رہے۔

اسے ہر موسم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مارخوروں کا ریوڑ جو میں نے ہنزہ اور نگر کے جنگلوں میں دیکھا ، یہاں بونجی میں نہیں ملتا۔ بونجی چونکہ ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ کا ٹریننگ سنٹر ہے اور میں جب اس رجمنٹ کی تاریخ لکھ رہا تھا تو وقفے وقفے سے کئی روز یہاں گزارنے پڑے۔

آدھا ٹریننگ سنٹر دریائے سندھ کے اِس طرف اور آدھا اُس طرف واقع ہے اور اس کے پل کے عین پہلو میں آفیسرز میس تعمیر کیا گیا ہے جو ایک قابلِ دید عمارت ہے۔ پہلی رات جب یہاں گزاری تو سندھ کے مہیب شور کے خوف نے سونے نہ دیا۔۔۔۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ عادت ہو گئی!

اپنی آپ بیتی کا یہ حصہ لکھتے ہوئے مجھے ایک عجیب طرح کا سرور اور لطف محسوس ہو رہا ہے۔ قارئین سے اس خودنوشت کو بیان کرنے کی ’حرکت سے‘ معذرت۔ لیکن غالب نے ’’سفر وسیلہ ء ظفر‘‘ کا جو مفہوم اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے، یہ شائد اسی کا سبب تھا کہ میں وطن کے ان مناظر کو والہانہ ذوق و شوق سے نظارا کرتا رہا اور یہ بار بار میرے دل میں آکر ’’خلشِ دل‘‘ کا باعث بنتے رہے:

اگر بہ دل نہ خَلد ہر چہ از نظر گزرد

خوشا روانیء عمرے کہ در سفر گزرد

[اگر ہر وہ ’’خوبصورت چیز‘‘ جو دورانِ سفر دل میں کھب جاتی ہے، نہ کھبتی تو ساری عمر سفر میں گزارنی کتنی اچھی ہوتی!۔۔۔دل میں کھبنے والی چیزوں میں فطری مناظر بھی شامل تھے۔ لیکن غالب کا اشارہ حسین و جمیل دوشیزاؤں کی طرف تھا جو دورانِ سفر خلشِ دل بن جاتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...