سابق وزیراعظم محمد نوازشریف علاج کے لئے سروسز ہسپتال منتقل

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف علاج کے لئے سروسز ہسپتال منتقل

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر کوٹ لکھپت سنٹرل جیل سے سروسز ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کے علاج کے لئے مختلف ٹیسٹ ہو رہے ہیں ، ابتدائی رپورٹوں کے مطابق دیگر امراض کے علاوہ ان کے بائیں گردے میں پتھری پائی گئی ہے جبکہ دل کے سخت اور بڑا ہو جانے کے بارے میں پہلے ہی علم ہو چکا تھا۔ ان کے مزید ٹیسٹ ہونے کے بعد ہی مکمل علاج کے بارے میں فیصلہ ہو سکے گا۔ نوازشریف کو جیل سے ہسپتال سخت حفاظتی انتظامات کے تحت لایا گیا یہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکن جمع ہو گئے۔اور نعرہ بازی بھی کی جبکہ اسی روز سروسز ہسپتال کی دیوار کے ساتھ دعائیہ کیمپ بھی لگا دیا گیا جہاں تلاوت قرآن کے ساتھ ان کی صحت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔ ہسپتال میں ان کے لئے خصوصی انتظامات کے تحت وی آئی پی روم کو تیار کیا گیا اور اب اسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ حفاظتی انتظامات کے لئے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو نگران مقرر کرکے پولیس اور ایلیٹ فورس کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ ہسپتال میں داخل کرائے جانے کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز، دوسرے اہل خانہ اور اپنے شوہر اور صاحبزادے کے ساتھ والد کو دیکھنے کے لئے آئیں اور گھر سے کھانا بھی لے کر آئیں وہ اگلے روز بھی اسی اہتمام کے ساتھ آئی تھیں، حتمی علاج کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا ابھی رپورٹ نہیں دی گئی۔ امکان ہے کہ یہ رپورٹ سابق وزیراعظم کی درخواست ضمانت کی سماعت والی تاریخ سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوائی جائے گی۔

سابق وزیراعظم کی بیماری کی اطلاع اور خبر نے سیاسی ہلچل بھی پیدا کی، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہبازشریف نے احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ علاج پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔

محمد نوازشریف کی علالت اور ان کی ہسپتال منتقلی اور علاج کے حوالے سے افواہوں نے بھی زور پکڑا اور سیاسی ہلچل رہی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تمام تر سہولت اور توجہ ’’خاص وجہ ‘‘ سے ہے اور ضمانت مل جانے کی صورت میں ان کو علاج کے لئے لندن جانے کی اجازت مل جائے گی کہ ان کے پہلے آپریشن بھی وہیں ہوئے تھے، ان کو وہاں دل کی تکلیف ہوئی جس کی وجہ سے آپریشن ہوا اور وہ خاصی پیچیدگی کے بعد صحت مند ہو کر آئے تھے، عام تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ یہ سب حالات کسی ڈیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس پر سوشل میڈیا میں بہت بحث ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور خود شریف فیملی کی طرف سے مسلسل تردید کی جا رہی ہے۔ اسی ہفتے کے دوران حمزہ شہباز شریف بھی لندن گئے اور ان کو جانے کی اجازت وزارت داخلہ نے دی۔ فی الحال پروگرام کے مطابق وہ 13فروری کو واپس آ جائیں گے۔

ادھر وزیراعظم عمران خان بھی لاہور آئے اور سات گھنٹے کے قیام کے دوران متعدد اجلاسوں کی صدارت کی اور کئی اہم فیصلے کئے گئے پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ان کو کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تو انہوں نے خصوصی طور پر سانحہ ساہیوال کے حوالے سے واقعات معلوم کئے ان کو تفصیل بتائی گئی تو انہوں نے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار سے کہا کہ وہ متاثرین سے خود جا کر ملیں ان کی شکائت سن کر ازالہ کریں، اگر وہ عدالتی کمیشن پر مصر ہیں تو اس پر بھی غور کیا جائے۔ لاہور ہی میں ان کو سوئی گیس کے بلوں میں کئی گنا اضافے کی رپورٹ بھی دی گئی انہوں نے وزیر متعلقہ کو ہدایت کی کہ تحقیقات کی جائے اور لوگوں کو اتنے زیادہ بل کیسے آ گئے ۔سوئی گیس حکام کا موقف ہے کہ بل درست بھیجے گئے کہ گیس کے نرخوں کے حوالے سے پانچ درجے مقرر ہیں۔ اگر کوئی صارف گیس زیادہ استعمال کرے گا تو اسے بل بھی زیادہ ہی دینا ہوگا، بہرحال وزیراعظم نے عوام کی شکایت کے ازالے کے لئے ہدائت کر دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی میڈیا سے گفتگو سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سابق وزیراعظم کے حوالے سے کچھ تو ہو رہا ہے کہ خود انہوں نے بھی اب اعتراف کیا کہ وہ باہر جا سکتے ہیں۔فواد چودھری نے وزیراعظم کی مصروفیات کے بارے میں بریف کیا تھا کہ انہوں نے بہت ہی مصروف وقت گزارا تھا۔ یہاں ان کی صدارت میں جماعت کی میڈیا فورس سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی اور انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ حکومتی کامیابیوں کو اجاگر کیا جائے اور تنقید کا جواب بھی باقاعدہ اعداد و شمار اور حقائق کی بناء پر سختی سے دیا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ سوشل میڈیا گروپ کو پھر سے فعال کیا جائے۔ لاہور میں قیام کے دوران وزیراعظم نے حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے بھی کہا، یہاں فواد چودھری اور شیخ رشید نے بھی میڈیا سے بات کی اور دونوں حضرات نے حزب اختلاف پر سخت حملے کئے۔ شیخ رشید نے معمول کے مطابق اپنے طرز کلام کا مظاہرہ کیا اور مخالف سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر حملے کئے۔

ورلڈ پنجابی کانگرس کی طرف سے یہاں سہ روزہ عالمی کانفرنس برائے ’’پنجابی اور امن‘‘ منعقد کی گئی، اس میں بھارت، کینیڈا، امریکہ اور دوسرے ممالک سے بھی مندوبین نے شرکت کی۔ ورلڈ پنجابی کانگرس کے صدر فخر زمان کے مطابق یہ کامیاب ترین کانفرنس تھی جس میں دنیا بھر خصوصاً خطے (برصغیر سمیت) میں امن کی ضرورت اور پنجابی زبان کی ترقی پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کرتارپور کاریڈور کھولنے کے اقدام پر ان کی تحسین کی گئی اور کہا گیا کہ یہ بھی امن کی طرف ایک بڑا اقدام ثابت ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے سال ایک اور بڑی عالمی کانفرنس منعقد ہوگی اور وہ بھی لاہور ہی میں ہوگی۔

5فروری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے یکجہتی کا دن ہے جو گزشتہ روز پوری دنیا اور پاکستان بھر میں منایا گیا۔لاہور میں تحریک انصاف،متحدہ مجلس عمل،مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی مظاہرے کئے ،اجتماعات منعقد کئے اور بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...