خیبرپختونخواہ کے وزیر اطلاعات نے لاہور میں مصروف وقت گزارا، محظوظ ہوئے

خیبرپختونخواہ کے وزیر اطلاعات نے لاہور میں مصروف وقت گزارا، محظوظ ہوئے
 خیبرپختونخواہ کے وزیر اطلاعات نے لاہور میں مصروف وقت گزارا، محظوظ ہوئے

  



ہفتہ رفتہ کی ایک اہم خبر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا دورہ لاہور ہے جہاں انہیں صحافی و دانشور حلقوں میں خوب پذیرائی ملی اور صحافیوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ چونکہ برادرم شوکت کا تعلق بھی اسی مقدس پیشہ سے ہے اور وہ سیاست میں بعد میں آئے، اس لئے میڈیا والوں کے ساتھ ان کے مراسم دیرینہ اور دوستی کے ہیں۔ وہ آئے تو صرف ایک روز کے لئے تھے لیکن دوستوں کے اصرار پر لاہور میں دو روز تک قیام کیا پھر وفاقی دارالحکومت چلے گئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی تبدیلی واقعی آئی ہے یا نہیں لیکن ایک تبدیلی ضرور دیکھی اور وہ یہ کہ شوکت یوسفزئی سرکاری تام جھام اور پروٹوکول کے بغیر عام شہریوں کی طرح لاہور کی سڑکوں پر آزادانہ گھومتے رہے، وہ اپنی سرکاری گاڑی یا محافظوں کی فوج بھی ساتھ لے کر نہیں آئے تھے ایک عام سی کار میں وہ ڈرائیور کے ساتھ تھے، شاید پی ٹی آئی والے بھی ان کی دورہ لاہور سے بے خبر تھے تاہم پارٹی کے صوبائی صدر اعجاز چودھری لاہور پریس کلب پہنچ گئے جہاں صوبائی وزیراطلاعات کے اعزاز میں میٹ دی پریس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی طرف سے خیبر پی کے کے وزیر کو جو اہمیت اور کوریج دی گئی شاید ہی کسی وفاقی وزیر کو بھی ملی ہو، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سابق صدر اعظم چودھری، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری حافظ فیض احمد اور راقم الحروف سمیت کئی سینئر صحافی بھی اس موقع پر نثار عثمانی آڈیٹوریم میں موجود تھے۔ کلب کی جانب سے شوکت یوسفزئی کو یادگاری شیلڈ اور پھولوں کے تحائف بھی پیش کئے گئے جبکہ انہوں نے پنجاب کے صحافیوں کے تند و تیز سوالات کا بڑے حوصلے سے جواب دیا۔ اس موقع پر قابل ذکر بات پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کے بارے میں وہ تنقیدی جملے تھے جن کا شوکت یوسفزئی کو باربار سامنا کرنا پڑا شہر میں اپنے اعزاز میں ہونے والی ہر محفل میں یوسفزئی پنجاب میں اپنے ہم منصب کا دفاع کرتے رہے۔ ایک صحافی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم عمران خان صاحب کو تجویز دیں گے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزرائے اطلاعات کا باہمی تبادلہ کر دیا جائے اس پر دوسرے صحافی نے خوب جملہ کسا کہ آخر اہل خیبر کا کیا قصور ہے؟ لاہور کے صحافی فیاض چوہان سے اس بات پر نالاں دکھائی دے رہے ہیں کہ انہوں نے میڈیا ہاؤسز سے کارکنوں کی فراغت، تنخواہوں و سہولیات میں کمی اور بحرانی کیفیت میں ان کا ساتھ نہیں دیا ۔ میڈیا مالکان بھی صوبائی وزیراطلاعات کے حوالے سے اسی قسم کے تحفظات رکھتے ہیں۔

خیبر پختون خوا کے وزیراطلاعات نے روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات بھی کی جس میں اخبار کے ایڈیٹر عمر مجیب شامی، گروپ ایڈیٹر کوارڈینیشن ایثار رانا،ایگزیکٹو ایڈیٹر عثمان شامی، کیپٹل ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز نوشاد علی بھی موجود تھے۔ شوکت یوسفزئی نے اس موقع پر روزنامہ پاکستان اور پاکستان آن لائن کے لئے خصوصی انٹرویو بھی دیئے جس مین خیبر پی کے مجموعی حالات کے ساتھ ساتھ افغانستان کے پاکستان سے جڑے معاملات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں اس وقت بہت بڑی سازش ہورہی ہے، پی ٹی ایم کے نام سے جو کچھ ہورہا ہے وہ اس لئے ہورہا ہے کہ انڈیا وہاں انویسٹمنٹ کررہاہے اور افغانستان سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ پختون بہت خوار ہوگئے ان کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوگئیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اتنی بڑی جنگ خیبرپختونخوا میں لڑی گئی جہاں پنجاب کے لوگ جاکر بھی شہید ہوئے اور ہماری فوج کے جوان بھی جام شہادت نوش کرتے رہے وہ کس کے لئے شہید ہوئے، انہوں نے امن قائم کیا، وہاں امن ہوا تو پورے پاکستان میں امن آگیا۔ اب جب امن آیا ہے آپ کو مواقع مل رہے ہیں، ایک امید چل پڑی ہے کہ افغانستان کا ایشو حل ہوگا شاید ٹائم لگے۔ لیکن جب حل ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ غلام خان بارڈر اور طور خم بارڈر پر کتنی سرگرمی ہوگی، یہاں پر تجارت بڑھے گی۔ ہمارے پاس پورا سنٹرل ایشیا کھلا پڑا ہے۔ ہم 24/7 اپنا طورخم بارڈر کھول رہے ہیں اورطبی سہولیات کی فراہمی کے بعد جو بیمار ہیں یہاں علاج کروانے آرہے ہیں ان کو فوراً میڈیکل ویزا دیا جائے گا۔میرانشاہ میں بہت بڑے تجارتی مرکز بن رہے ہیں۔ اور آپ دیکھیں کہ وہاں پر ایسے بڑے پلازے اور مارکیٹیں ہیں لگتا ہے یورپ ہے۔

پنجاب میں خبیر پی کے بلدیاتی اور پولیس نظام کو ریپلی کیٹ کرنے کے حوالے سے شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ شروع میں ہماری پولیس ٹرینڈ نہیں تھی لیکن بعد میں اس نے جو تربیت حاصل کی اب وہ ایک فورس بن گئی ہے، دہشتگردی کا مقابلہ جس جرأت سے کیا اس کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔ جہاں تک ہمارے بلدیاتی نظام کا تعلق ہے تو آپ دیکھیں کہ ہم نے ایک ٹھوس نظام وضع کیا ہے اس کے مقابلے میں کراچی کے اندر جو بلدیاتی نظام ہے میئر کراچی آج تک اس پر رورہے ہیں ان کو پیسے نہیں مل رہے، ان کے پاس کوئی اختیار بھی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ بلدیاتی نظام 100 فیصد ٹھیک تھا لیکن ہم نے اس بار ان خامیوں کو دورکردیا، جہاں ہمیں خامیاں نظر آتی تھیں یونین کونسلز کی تعداد کم کردی گئی۔

قلم دوست تنظیم کی جانب سے بھی صوبائی وزیر کے اعزاز میں ایک خوبصورت محفل سجائی گئی۔ تنظیم کے سربراہ ایثار رانا اور جنرل سیکرٹری رابعہ رحمان نے مختلف قومی اخبارات کے معروف کالم نگاروں کو اس تقریب میں مدعو کر رکھا تھا۔ اگرچہ یہ تقریب عجلت میں بلائی گئی تھی لیکن شعوری اعتبار سے بڑی مفید ثابت ہوئی ۔یہاں بھی کالم نگاروں اور دانشوروں نے یوسفزئی صاحب کو خاصا ٹف ٹائم دیا اور پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی 100 روزہ پلان پر تابڑ توڑ سوالات پوچھے لیکن صوبائی وزیر اطلاعات کے جوابات بھی بڑے بھرپور تھے۔ اس موقع پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزاد حسین بٹ نے شوکت یوسفزئی سے کہا کہ وہ عمران خان تک ہمارے دو پیغامات پہنچا دیں اول یہ کہ آج کل پنجاب کے صحافی بڑی مشکل میں ہیں اور صوبائی وزیر فیاض چوہان ہماری کسی بات پر کان نہیں دھر رہے۔ دوسرا یہ کہ وزیراعظم ہم سے براہ راست ملاقات کرکے اس بحرانی کیفیت کا کوئی حل نکالیں، ہمارے صوبائی وزیر کو بھی معاملات میں سنجیدہ ہونے اور وعدے ایفا کرنے کی ہدایت کریں۔ شوکت یوسفزئی نے وعدہ کیا اور واضح اعلان بھی کیا کہ میں ایک دو روز میں وزیراعظم سے ملاقات کرکے آپ کے دونوں معاملات ان تک نہ صرف پہنچاؤں گا بلکہ ان کے حل کے لئے بھرپورکوشش بھی کروں گا۔پنجاب کے دارالحکومت میں آئے ہوئے خیبر کے مہمان وزیر اطلاعات نے سب سے زیادہ انجوائے لاہور میں کھابوں کے مرکز لکشمی چوک میں کیا، رات 12 بجے یہاں کی رونق دیکھ کر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ واقعی لاہورئیے بڑے زندہ دل ہیں ۔

دورہ لاہور کے دوران شوکت یوسف زئی سے ہر بیٹھک میں پشاور کی میٹرو بس سروس کے حوالے سے خاصے سوالات پوچھے گئے جن کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے بجٹ یا اخراجات میں اضافہ کے بارے میں تاثر غلط ہے ، اس کا پہلا پی سی ون 59 ارب کا تھا، بدقسمتی سے اس وقت (ن) لیگ کی حکومت تھی، انہوں نے 54 ارب کی منظوری دے دی، ہماری حکومت کے اس وقت چونکہ پانچ ساڑھے پانچ مہینے رہتے تھے ۔ ہم نے کوشش یہ کی کہ 59 ارب کا جو پی سی ون تھا اسی پی سی ون پرکام شروع کردیا۔ اس وقت جو اضافہ آپ کو نظر آرہا ہے 66 ارب کا ، اس کاابہام دور ہونا چاہئے دراصل بی آر ٹی کا ایک مین روٹ ہے جو 26 کلومیٹر ہے، اس کے ساتھ منسلک فیڈر روٹس ہیں وہ تقریباً 68 کلومیٹر بنتا ہے، ہم نے 68 کلومیٹر اس میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے بجٹ 59 ارب سے 66ارب پر پہنچتا۔ لیکن اگر ہم اس کو پانچ سال بعد کرتے تو یہ 100 ارب پر پہنچ جاتا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...