دفترخارجہ کی مربوط، مضبوط حکمت عملی، بھارت برطانیہ میں کانفرنس رکوانے میں ناکام رہا

دفترخارجہ کی مربوط، مضبوط حکمت عملی، بھارت برطانیہ میں کانفرنس رکوانے میں ...

  



یوم یک جہتی کشمیر اس بار انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ منایا گیا ملک بھر میں اس حوالے سے تقاریب تو منعقد ہوتی ہیں لیکن اس بار پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں کشمیر ڈے کو غیر معمولی جذبے سے منایا گیا۔ پورے ملک میں جلوس نکلے ریلیاں منعقد ہوئیں۔ سیمینار کا انعقاد ہوا۔ لیکن مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جس انداز میں ایک انسانی المیہ برپا کر رکھا ہے بربریت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں کشمیری نوجوانوں پر اندھا دھند پیلٹ بندوقوں سے گولیوں کی بارش کی جاری ہے اس نے پوری دنیا کے مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں میں اضطراب برپا کر دیا ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے خلاف پوری دنیا میں پاکستانی 5 فروری کو سراپا احتجاج بن گئے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر کے دورہ کے موقع پر وہاں کشمیریوں کی جانب سے تاریخی ہڑتال اور احتجاج نے بھی 5 فروری کی تقاریب میں ایک نئی روح پھونک دی دفتر خارجہ نے 5 فروری کو منانے کے حوالے سے اس بار غیر معمولی انتظامات کئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں سینٹ کی خارجہ کمیٹی کا ایک وفد برطانیہ گیا جہاں برطانوی پارلیمینٹ میں مقبوضہ کشمیر کی حالت زار کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کی خاطر عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے ایک غیر معمولی دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں برطانوی اراکین پارلیمینٹ بشمول حکومتی و اپوزیشن ارکان نے شرکت کی اسے پاکستان کی بھارت کے خلاف ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ جانے سے قبل آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کلیدی رہنما میر واعظ عمر فاروق سے رابطہ کرکے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا اور بعد میں دورہ برطانیہ کے موقع پر حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی سے بھی مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی پاکستان کے کشمیر پر حالیہ جارحانہ سفارتی اقدامات سے بھارت اس اہم ترین ایشو پر پسپا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے اس کانفرنس کے انعقاد اور اس کی تشہیر کے لئے جامع حکمت عملی کے ساتھ مربوط اقدامات کئے۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کو افغانستان کے مسئلہ کے پائیدار حل کے لئے مذاکرات کی میز پر لانے سے دنیا بھر میں اس کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ افغان طالبان کے امریکہ سے مذاکرات کے آغاز کے بعد پاکستان عالمی منظر نامے پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے اس لحاظ سے مسئلہ کشمیر کے حل طلب ایشو پر آواز اٹھانے کا یہ بہترین وقت سمجھا جا رہا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں قیام امن کے لئے غیر معملوی اقدامات کئے اس کا اعتراف افغان سفیر نے بھی آرمی چیف سے ملاقات میں کیا جبکہ حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی افغان مفاہمتی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کیا ،آرمی چیف نے کور کمانڈر کانفرنس میں کہا کہ پاکستان میں قائم ہونے والے امن کے ثمرات اب عام لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے عام آدمی تک یہ ثمرات تب ہی پہنچیں گے جب عوام کو اچھی طرز حکمرانی میسر آئے گی کیونکہ عوام تو ایک طرف سانحہ ساہیوال کو ابھی تک بھلا نہیں پائے تو دوسری جانب ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے کوئی ہوم ورک کر رکھا تھا اور نہ ہی اقتدار میں آنے کے بعد اس ضمن میں کوئی مربوط حکمت اپنائی کہ عوام کو کس طرح ریلیف دیا جائے سٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافے کا تو اعلان کیا ہے لیکن معاشی دباؤ برقرار ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک سے قرضوں میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے افراط زر مسلسل بڑھ رہا ہے عوام منتظر ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان گرداب میں گھری معیشت کو باہر نکالنے کے لئے کوئی حل دیں گے لیکن وزیر اعظم عمران خان چھ ماہ اقتدار میں گزارنے کے بعد بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سوچا نہ تھا کہ اداروں کی حالت اتنی بری ہو گی۔ حکومت ابھی تک آئی ایم ایف جانے کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہیں کر سکی تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے مابین 10 فروری کو ملاقات متوقع ہے مذاکرات کے اس راؤنڈ میں حتمی نتیجہ سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے عوام گیس بلوں سے پریشان ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فارمولا مڈل کلاس پر بم بن کر گرا ہے وفاقی حکومت نے گیس بلوں میں اضافے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے لیکن اووربلنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فارمولا کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سفید پوش لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ بالخصوص شمالی علاقہ جات میں موسم سرما میں گیس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ مری اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کے بعد گیس کے بغیر زندگی کے معمولات ممکن نہیں ان علاقوں میں گیس کا استعمال عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔

مری اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں اس بار غیر معمولی برف باری ہو رہی ہے جبکہ پورے ملک سے سیاح بھی ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں حکومت سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اقدمات کریں لیکن ملک بھر میں سیاحتی مقامات پر سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے تا حال کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے حتی کہ مری جیسی جگہ پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے بھی خاص انتظام نہیں برتا سیاح گھنٹوں پھنسے رہے ہیں۔

ملک بھر میں سردی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن سیاست کی گرما گرمی ویسے کی ویسے ہی ہے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی بیماری کے حوالے سے دارلحکومت میں مختلف قیاس آرائیاں زیر گردش ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا اس ضمن میں بیان بھی اہم ہے حکومت میں ہوتے ہوئے وہ خود اس ایشو پر واضح طور پر لب کشائی نہیں کر رہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت سابق وزیر اعظم نوازشریف کی اسیری اور بیماری کے ایشو پرکنفیوژن رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس پر سیاسی بیان بازی جاری رہے۔ دوسری جانب حج اخراجات بڑھنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج ہے اپوزیشن نے سینٹ میں اس ایشو پر خوب احتجاج کیا حتیٰ کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو بھی کہنا پڑا کہ حکومت کو حج پر سبسڈی دینی چاہئے تحریک انصاف کی پہلی حج پالیسی پر عوام مایوس ہیں حتی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی حج پر سبسڈی کو جائز قرار دے دیا ہے حکومت کا موقف ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت لوگوں پر فرض ہے لیکن لگتا ہے کہ عوام اس حکومتی موقف کو تسلیم نہیں کریں گے۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی پاکستان کی ٹاپ بیورو کریسی سے ملاقات بھی دارالحکومت کے حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں انہوں نے نیب کے اقدامات کے تناظر میں بیورو کریسی کا اعتماد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی۔ آنے والے دن اس لحاظ سے اہم ہوں گے، حکومت کے لئے بھی دن بدن چیلنجز میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...