ایک سال بیت گیا، مقتول انتظار کے قتل میں انصاف نہیں ملا، والد کے شکوے

ایک سال بیت گیا، مقتول انتظار کے قتل میں انصاف نہیں ملا، والد کے شکوے

  



کراچی ۔مبشرمیر

ایک سال پہلے 28جنوری 2018ء کا دن تھا جب عمران خان چیئرمین تحریک انصاف ،ڈاکٹر عارف علوی اور عمران اسماعیل کے ہمراہ ہمارے گھر تشریف لائے تھے ۔انہوں نے برملا کہا تھا کہ یہ واضح ٹارگٹ کلنگ ہے ،پھر کیا تھا کہ سیاستدانوں کا ہمارے گھر میں تانتا بندھ گیا ۔ہر کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے آرہا تھا ۔سید مراد علی شاہ بھی تشریف لائے ،مشاہد اللہ خان مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کرنے پہنچ گئے ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عمران خان نے عمران اسماعیل کو مخاطب کرتے ہوئے تھا کہ مجھے واقعہ کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے رہنا ۔اس واقعہ کو آج ایک برس گذر گیاہے کچھ دن پہلے ہم نے اپنے بیٹے کی برسی کا ختم کیا اور دعا کروائی لیکن ابھی تک ہم انصاف کے منتظر ہیں ۔

یہ وہ باتیں جو ’’مقتول انتظار‘‘ کے والد اشتیاق نے گذشتہ دنوں ایک مختصر مگر جامع ملاقات میں بتائیں ۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک برس پہلے تمام سیاستدانوں اور خاص طور پر تحریک انصاف کے راہنماؤں کی دلچسپی ’’انتظار قتل کیس ‘‘ میں کس قدر تھی ۔آج عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں ،ڈاکٹر عارف علوی صدر مملکت اور عمران اسماعیل گورنر سندھ کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں لیکن اپنے منصب سنبھالنے کے بعد اس کیس کے بارے کبھی بات بھی کرنا گوارا نہیں کیا ۔لیکن انتظار کے والد اشتیاق نے برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سب کو باور کروادیا کہ میں اب اپنے بیٹے کا مقدمہ تن تنہا ہی لڑرہا ہوں ساتھ کھڑے ہونے کے دعویدار تو چند دنوں کے بعد ہی منظر سے غائب ہوگئے تھے ۔

مقتول انتظار کے والد گرامی اشتیاق احمد سے رابطہ کے بعد جب ان کے گھر پہنچا تو میں ان کا تحمل اور بردبار شخصیت دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ زندگی کا اثاثہ لٹ جانے کے بعد بیٹے کے قتل کا انصاف لینے کے لیے کس قدر ہمت اور صبر کے ساتھ وہ جدوجہد کررہے ہیں ۔انتظار کی پھوپھو نے بھی حقائق سے پردہ اٹھایا اور انتظار پر حملہ کی وجوہات کھل کر بیان کیں۔میرے متعدد سوالات پر ان کے جواب چونکا دینے والے تھے ۔قتل کی واردات سے لے کر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی پولیس نے انتظار کو نشانہ بنایا اور پولیس ہی کو جے آئی ٹی سونپ دی گئی کہ حقائق سے پردہ اٹھائے ،یہ کیسے ممکن تھا کہ پولیس کی کوتاہیوں ،غلطیوں اور جرم کو پولیس کے اعلیٰ افسران بے نقاب کرتے ۔فقط اتنا لکھا گیا کہ یہ منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا ہے اور ایس پی مقدس حیدر سے تحقیقات کی جائیں ،ہم جو کچھ جانتے تھے ہم نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا لیکن بہت سی باتیں جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل ہی نہیں کی گئیں ۔مقتول انتظار کے والد نے بتایا کہ آج بھی کئی سوال ہیں جن کے جواب ملنا باقی ہیں ۔انتظار کی دوست ماہ رخ کے والد مقیم امریکہ سہیل حمید نے بتایا کہ پولیس میں ان کا کوئی بھائی نہیں لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ عامر حمید سینئر پولیس آفیسر ان کے بھائی ہیں آخر سہیل حمید نے پولیس سے غلط بیانی کیوں کی ۔

جے آئی ٹی کے سربراہ ثناء اللہ عباسی جو اب آئی جی گلگت بلتستان ہیں نے ایس پی مقدس حیدر سے تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن تاحال ان سے تحقیقات نہیں کی گئیں ۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ سی ٹی ڈی نے نے انتظار سے اگر گاڑی برآمد کرنی تھی یا ان کو شک تھا کہ مطلوبہ گاڑی انتظار کے پاس ہے تو وہ گاڑی لینے کی بجائے گولیاں مارنے پر کیوں آمادہ تھے جبکہ انتظار نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت بھی نہیں کی تھی ۔صرف ایک دو نہیں پوری اٹھارہ گولیاں اس نوجوان پر چلائی گئیں ۔سوال یہ بھی ہے کہ ایس پی مقدس حیدر کا گارڈ بلال گولیاں مارنے والوں میں کیوں شامل تھا جبکہ کارروائی سی ٹی ڈی کے اہلکار کررہے تھے ۔انتظار کے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی مدیحہ کیانی جائے وقوعہ سے غائب ہوئی ۔اس کے بیانات منظر عام پر کیوں نہیں لائے گئے، اسے شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، آخر وہ کہاں غائب ہوگئی ۔مقتول کے والد کے سوال تھے کہ ختم نہیں ہورہے تھے چونکہ انہیں رنج تھا کہ ان کے بیان کو بھی من و عن جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا ،ان کے خیال میں یہ رپورٹ ادھوری ہے ،قاتلوں کی واضح نشاندہی کرنے سے گریز کیا گیا ہے ۔جب سب کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح تھا تو مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرنا ،انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ مقتول انتظار کا والد صبر اور آزمائش کی اس گھڑی میں گذشتہ ایک سال سے پل صراط پر چل رہا ہے ۔اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات اور انصاف کا حصول اسے اس لیے بھی چاہیے کہ مزید کئی اور ’’انتظار‘‘ قتل نہ کیے جائیں اور کسی اور ’’اشتیاق‘‘ کو اپنے نوجوان بیٹے کا دکھ نہ دیکھنا پڑے ۔وہ آئندہ نسلوں کی جنگ لڑرہا ہے ۔میں سوچ رہا تھا کہ جان ،مال اور عزت کا تحفظ تو ریاست کی ذمہ داری ہے تو پھر جب کسی کی جان ناحق لی جاتی ہے ،مال لوٹا جاتا ہے یا کسی کی عزت تار تار کی جاتی ہے تو پھر ریاست مدعی بن کر انصاف کے حصول کو ممکن بنانے میں قاصر کیوں ہے؟۔اگر مقدمات ریاست کی مدعیت میں درج ہوتے بھی ہیں تو ان کا انجام انصاف ملنے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ مقدمات پیروی سے ہی محروم ہوجاتے ہیں ۔ریاست اس قدر بے بس اور لاچار کیوں نظر آرہی ہے ۔سانحہ ساہیوال بھی اس حادثے سے ملتا جلتا دکھائی دے رہا ہے ۔جہاں الزام ریاست پر آچکا ہے ،ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے ذمہ داران شہریوں کے ناحق قتل میں گرفتار ہورہے ہیں ،یہ وہ شرم ناک حقیقت ہے جس پر پوری قوم نادم ہے ۔مقتول انتظار ہو یا نقیب کا قتل ہو ،ریاست کے ہاتھ بھی دستانوں میں چھپے نظر آرہے ہیں ۔ایسے واقعات ریاست اور شہری کے رشتے کو کمزور سے کمزور تر کرتے جائیں گے جو ملکی سلامتی کے لیے زہر قاتل ہے ۔وزیراعظم عمران خان ،صدر مملکت ڈاکٹر علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ جس کام کو الیکشن سے قبل انہوں نے غلط قرار دیا تھا اور مقتول کے ورثاء کو انصاف کی فراہمی میں معاونت پیش کی تھی ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے گھر آتے، آج ان کی داد رسی کرنے کے لیے آپ بہت بہتر اور مضبوط بااختیار پوزیشن میں ہیں ۔لہذا نہ صرف اپنا کردار ادا کریں بلکہ پولیس ریفارمز کی طرف تیزی سے پیش رفت کریں ۔اگر آپ نے بھی ریاست کو پولیس کے ذریعہ چلانا ہے تو گزشتہ ادوار سے آپ کا دور حکومت مختلف نہیں ہوپائے گا ،پولیس ریاست کی معاون ضرور ہے لیکن حکمران نہیں ۔آج بھی پولیس ایکٹ 2002ء گزشتہ کئی سالوں کی ریسرچ کے نتیجے میں تیار ہونے والا قانون تھا جسے صدر جنرل پرویز مشرف نے سیاسی مصلحت کا شکار ہو کر خود ہی بگاڑ دیا تھا ۔اس میں اگر مزید اصلاحات کی گنجائش ہو تو کرکے نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔سٹیزن سیفٹی کمیشن ،ایف آئی آر کے حوالے سے اصلاحات اور عدالتی اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم عام آدمی کو اپ لفٹ کرنا چاہتے ہیں تو پھر کسی شہری کی جان ،مال اور عزت کے تحفظ کے بغیر عام آدمی کا پراعتماد ہونا ممکن نہیں ۔عام آدمی کا مورال اسی صورت حال بحال ہوگا جب ریاست اس کی حفاظت کا عملی مظاہرہ کرے ۔ایک منفی تاثر کا واقعہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کردیتا ہے ۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں انٹیلی جنس کا مربوط نظام لانے کی بات بھی ہوئی تھی ۔ایک وقت میں جوائنٹ ڈائریکٹوریٹ برائے انٹیلی جنس کے قیام پر بھی غور ہوا اگر اسے صحیح معنوں میں فعال کرلیا جائے تو انٹیلی جنس معلومات میں ابہام دور کرنے میں معاونت ملے گی ۔ایک ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا لیکن بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ معلومات درست نہیں تھیں ۔آپریشن درست انداز میں نہیں کیا گیا لیکن اصل وجہ انٹیلی جنس معلومات کی پرکھ یا جائزہ لینے کے معاملات ہیں جو درست نہیں ہوتے جس کی وجہ سے بے گناہ شہری نشانے پر رکھ لیے جاتے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان کو مقتول انتظار ،نقیب قتل کیس یا پھر سانحہ ساہیوال کو مثال بناتے ہوئے اصلاحات کے عمل کو کم از کم مدت میں یقینی بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ریاست کی مضبوطی ،استحکام اور بقاء صرف معیشت کی بحالی یا جمہوریت کے تسلسل سے وابستہ نہیں بلکہ ریاست اور شہری کا رشتہ اگر انصاف پر مبنی ہوگا تو پھر بھی ممکن ہے کہ ریاست میں سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کی طرف سفر تیزی سے طے ہوسکے ورنہ خطرات تیزی سے بڑھتے رہیں گے ۔

مزید : ایڈیشن 1