وزیراعظم میری تعریف کرتے ہیں تو لوگ کیوں جلتے ہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار

وزیراعظم میری تعریف کرتے ہیں تو لوگ کیوں جلتے ہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار

  



ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک مرتبہ پھر گلہ کیا ہے کہ میرا لیڈر یعنی وزیراعظم عمران خان میری تعریف کرتا ہے تو لوگوں خصوصاً اپوزیشن کو معلوم نہیں کیوں تکلیف ہوتی ہے حالانکہ میں اپنے لیڈر کے ویژن کے مطابق کام کررہا ہوں اور پنجاب کیلئے جو کچھ ہو سکا وہ کرونگا ۔ انہوں نے سانحہ ساہیوال پر تین دن کے اندر ایکشن لینے کا دعویٰ کیا اور اس کو مثال قرار دیتے ہوئے جے آئی ٹی کے کام کی تعریف کی اور بتایا کہ اس حوالے سے کئے گئے تمام اقدامات کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انصاف کی فراہمی تک ہر حدتک جائیں گے متاثرہ خاندان کی اشک شوئی اور انصاف ہوگا تاہم انھوں نے پولیس کی طرف سے عوام دوست رویے کی توقع کی اور کہا کہ کرپشن اور غیر قانونی کاموں کا نوٹس لیا جارہا ہے ۔ ملتان میں پولیس ٹریننگ سکول کی 57ویں ریکروٹ کلاس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں مزید کہا کہ انسانی جان سے قیمتی کوئی چیز نہیں ہے اور عوام کے مال وجان کا تحفظ اولین ترجیح ہے اس لیے پولیس کے رویوں میں تبدیلی لائے بغیر کلچر بدلنا مشکل بلکہ ناممکن ہے تقریب میں صوبائی وزراء فیاض الحسن چوہان ، ڈاکٹر اختر ملک ، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر ، آئی جی امجد سلیمی سمیت دیگر افسران موجود تھے مگر دوسری طرف سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان نے بورے والا میں ایک مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وقوعہ کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے کیونکہ انہیں جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں ہے اب اس پر وزیراعلیٰ پنجاب کیا موقف اختیار کریں گے اس کا تو علم نہیں لیکن وزیراعظم عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا اشارہ دیا ہے اب اس پر عمل درآمد کیسے اور کب ہوتا ہے اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا حالانکہ سانحہ کو گزرے کئی دن ہوگئے لیکن ابھی تک اس کے ذمہ داران کا تعین نہیں ہوسکا اس پر عملدرآمد کرکے ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں چونکہ موجودہ حکومت تبدیلی کے نعرہ پر اقتدار میں آئی ہے اس لیے اس قسم کی تبدیلی بھی بہت ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد خراب نہ ہو ۔

دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تحریک انصاف کی حکومت کے معاشی اور سیاسی معاملات کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے صرف چھ ماہ کے اندر جتنے قرضے لئے ہیں اتنے قرضے تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں لئے اور اب تو حکمران کرنسی نوٹ چھاپ کر گذارہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں افراط زر بڑھ چکا ہے اور ملکی کرنسی گراوٹ کا شکار ہے قذافی چوک ملتان میں مقامی لیگی رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے مشورہ دیا کہ افغانستان کے مسئلہ کے حل کیلئے مذاکرات ہی واحد حل ہے کیونکہ امریکہ اور اتحادیوں کی اڑھائی لاکھ فوج بھی یہ مسئلہ حل نہیں کرسکی سابق وزیراعظم نے ن لیگ کی طرف سے اسمبلی میں جنوبی پنجاب میں دو صوبوں کے بل کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے دوصوبوں کا بل اسمبلی میں بحث کیلئے پیش کیا ہے اگر یہاں کے عوام ایک صوبہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں اور تمام پارلیمانی جماعتیں مل کر آئینی ترمیم کرسکتی ہیں تاہم اب تو جنوبی پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کا مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے احتساب کے معیار پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ میاں نواز شریف کے ساتھ احتساب کے نام پر جو سلوک کیا گیا ہے موجودہ حکومت اگر یہی معیار متعین کرے تو حکومت کے 70%سے زیادہ وزراء جیلوں میں ہوں گے ۔انہوں نے حکومت سے این آر او مانگنے کی بھی تردید کی اور بتایا کہ ن لیگ کے دور میں جاری ترقیاتی کاموں روک دیا گیا ہے اب کوئی ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آرہا گیس کو 63فیصد مہنگا کردیا گیا ہے کاروبار زندگی رک گیا ہے بے روزگاری میں اضافہ اور پرائیویٹ اداروں سے ورکروں کو فارغ کیا جارہا ہے ہم نے اپنے دور میں ترقی کی رفتار کو 5.8فیصد تک بڑھا دیا تھا مگر اب یہ پھر واپس آچکی ہے ۔ یہ ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس کے وزیراعظم اور وزراء سمیت ارکان اسمبلی فلور آف دی ہاؤس پر جھوٹ بولتے ہیں اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرے اب تحریک انصاف کی حکومت سابق وزیراعظم کی بات کو کتنی اہمیت دیتی ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ بھی غلط نہیں ہے۔

ادھر پیپلز پارتی کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سانحہ ساہیوال کی پر زور الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ اس میں ملوث کرداروں کو قرار واقعی سزا دی جائے انھوں نے اعادہ کیا کہ حکومت غیر آئینی طریقے سے گرانے کی بھی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ ہم جمہوری عمل کو تسلسل کے ساتھ چلتے رہنے کے حمایتی ہیں حکومت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطہ کرکے مشاورت کرے تاکہ حکومتی عمل اور بلوں کو متفقہ طو رپر منظور کیا جاسکے انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام کیلئے زور دیا اور حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آئے گا انہوں نے وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کو مخاطب کرکے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ وزیر ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کس نے قائم کئے ہیں اب یہ ان کی بات کس طرح سے حکومتی ایوان والے لیتے ہیں اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ اس قسم کی بات جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بھی کی ہے کہ حکومت کے پاس ایک سال ہے اگر انھوں نے رویہ تبدیل نہ کیا تو وقت کا ڈاؤن شروع ہوجائے گا جو لوگ انہیں اقتدار میں لائے ہیں وہ بھی ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے اس وقت ملک میں مہنگائی کے ساتھ لاقانونیت بڑھ چکی ہے وزراء کا رویہ مخالفین کے ساتھ بدزبانی کے علاوہ کچھ نہیں جو جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہے انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے اور کشمیری عوام کے ساتھ پاکستانیوں کی تاریخی اظہار یکجہتی کو سراہا اور اسے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک مثبت قدم قر ار دیا ہے ۔

ملتان کے بے تاج بادشاہ پیر طریقت رہبر شرعیت مولانا حامد علی خان کے جانشین ، سجادہ نشین خانقاہ حامدیہ مہتمم جامعہ اسلامیہ خیر المعاد صاحبزادہ قاری احمد میاں احمد خان نقشبندی شدید علالت کے بعد باعث اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، ان کی وفات کی خبر سن کر ملتان بھر میں سوگ کی کیفیت طاری ہوگئی تاجران نے دکانیںٰ بند کردیں ۔ خانقاہ حامدیہ اور آپ کی رہائش گاہ پر عقیدت مندوں اور مریدیں کا جم غفیر جمع ہوگیا اس موقع پر رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے ، لوگ دھاڑ یں مار مار کر روتے رہے ہیں ۔ سیاسی ، سماجی شخصیات اور علماء مشائخ کی بڑی تعداد نے صاحبزادہ قاری ناصر میاں خان نقشبندی سے ملاقات کرکے ان کے بھائی قاری احمد میاں خان نقشبندی کی وفات پر اظہار تعزیت بھی کیا ۔ قاری احمد میاں خان نقشبندی چند مہینوں سے شدید علیل تھے جبکہ گزشتہ چند روز سے نشتر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج تھے جہاں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، آپ نے تحریک ناموس رسالتؐ میں ہمیشہ متحرک کردار ادا کیا ۔ آپ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر اور متحدہ مجلس عمل ملتان کے سرپرست بھی تھے ۔آپ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کے انتہائی بااعتماد ساتھیوں میں سے تھے آپ نے اپنی پوری زندگی نفاذ مصطفی ؐ اور تحفظ ناموس رسالتؐ کی جدوجہد کرتے ہوئے گزاری ۔ آپ کی نمازجنازہ میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی آپ کی عمر 66برس تھی ۔

مزید : ایڈیشن 1