امریکہ نے عراق میں مداخلت کر کے غلطی کی ،70کھرب ڈالر کا نقصان ہو چکا : ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ نے عراق میں مداخلت کر کے غلطی کی ،70کھرب ڈالر کا نقصان ہو چکا : ڈونلڈ ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ نے عراق میں فوجی مداخلت کرکے سخت غلطی ہے امریکی انٹیلی جنس نے اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش کو عراقی صدر صدام حسین کے بارے میں غلط انٹیلی جنس فراہم کی کہ اس کے پاس اٹیم بم اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیانی ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا جو تمام کا تمام غلط ثابت ہوگیا صدر ٹرمپ نے سی پی ایس ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو کے دوران یہ سنسنی خیز انکشافات کئے جس کی جزوی رپورٹنگ پہلے کی جاچکی ہے صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس کے افراد پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو ذرا فکر اور پرواہ نہیں ہے کہ ان کی غیر معتبراطلاعات کے ذریعے امریکہ کو کتنا نقصان پہنچ سکتاہے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ غلط اطلاعات پر انحصار کرکے امریکہ نے اس خطے میں فوجی مداخلت کی جس کی وجہ سے امریکہ کو اب تک ستر کھر ب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور ہزاروں امریکی فوجی اور سویلین جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اب وہ عراق میں اپنی فوج کو اس لئے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایران پر حملہ کیاجاسکے؟ اس پر صدرٹرمپ نے جواب دیا کہ ان کا ایسا ارادہ ہرگز نہیں ہے وہ صرف اس مہنگے فوجی اڈے کو ایران پر گہری نظر رکھنے کیلئے استعمال کرناچاہتے ہیں صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس کے شعبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف ان افسروں پر اعتماد کروں گا جو میں خود اس کام کیلئے متعین کروں گا۔ انہوں نے انٹیلی جنس افسروں کی ان اطلاعات کو تسلیم نہیں کیا کہ ایران اس اٹیمی معاہدے پر پوری طرح عمل کررہا ہے جس سے امریکہ باہر نکل چکاہے ان کا موقف یہ تھا کہ ایرانی حکمران بہت ہشیار ہیں جو کچھ شرائط پر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ خفیہ طورپر اٹیمی ہتھیار تیار کرنے کی تیاری بھی کررہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ

مزید : صفحہ اول