نواز شریف کے طبی ٹیسٹ مکمل، دل کے سپشلائز ڈ علاج کی تجویز، سفارشات محکمہ داخلہ کو ارسال

نواز شریف کے طبی ٹیسٹ مکمل، دل کے سپشلائز ڈ علاج کی تجویز، سفارشات محکمہ ...

  



لاہور (جنرل رپورٹر،نیوزایجنسیاں)سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے سروسز ہسپتال میں چھ رکنی میڈیکل بورڈ کی زیر نگرانی تمام ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے جسکی رپورٹ محکمہ داخلہ کو موصول ہو گئی ، میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا ہے کہ نواز شریف کو بلڈ پریشر، شوگر، گردوں اور خون کی شریانوں کا بھی مسئلہ ہے،عارضہ قلب کیلئے سپیشلائزڈ طبی معائنہ ہونا چاہیے، انکا علاج پاکستان میں ہی ممکن ہے،پی آئی سی شفٹ کرنے کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ کریگا۔ پرویز ملک اور خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر لیگی رہنماؤں نے ہسپتال میں نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کی عیادت کی۔تفصیلات کے مطابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں چھ رکنی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت سے متعلق گزشتہ روز بھی ٹیسٹوں کی رپورٹس پر مشاورت کی اور اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھجوا دی ۔ سابق وزیر اعظم کے زیر علاج ہونے کی وجہ سے سروسز ہسپتال میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات بر قرار ہیں۔ میڈیکل بورڈکے سربراہ و پرنسپل سروسز ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس تین ٹرمز آف ریفرنس تھے، پہلے دن ہم نے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، تمام ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز میڈیکل بورڈ میں شامل تھے،ہم نے نواز شریف کے طبی معائنے کے علاوہ انکے خون، ہارمون، دل، سٹی سکین کیے ،ہم نے نواز شریف کے گردے کے ٹیسٹ کیے،ٹانگوں، آنکھوں، دماغ کے خون کے شریانوں کے ٹیسٹ کیے،ہم نے آج فائنل طبی تفصیلی معائنہ کیا ہے ،محکمہ داخلہ کو تمام سفارشات بھجوا دی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کسی مریض کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے ہم آئینی طور پر ٹیسٹ کی رپورٹ کسی کو نہیں بتا سکتے سب سے پہلے مریض اور اس کے بعد لواحقین کو رپورٹ سے متعلق بتایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بلڈ پریشر، شوگر، گردوں کا مسئلہ، خون کی شریانوں کا مسئلہ ہے اور انکی دوائیوں میں بھی معمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارش کی ہے کہ انکا عارضہ قلب کیلئے سپیشلائزڈ طبی معائنہ کیا جائے، انہیں پی آئی سی شفٹ کرنے کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے۔محکمہ داخلہ کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق نواز شریف کو میڈیکل کیئر کی ضرورت ہے ، انہیں واپس جیل منتقل کرنے بارے فیصلہ آج (جمعرات کو ) کیا جائے گا ۔ دوسری جانب پرویز ملک ، خواجہ عمران نذیر ، لارڈ میئر کرنل (ر) مبشر جاوید ، رکن قومی اسمبلی علی پرویز ملک سمیت دیگر نے بھی سروسز ہسپتال میں نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کی عیادت کی ۔ اس موقع پر نوازشریف نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معیشت کا برا حال ہوگیا ۔ صحت کارڈ ہمارے دور کا منصوبہ ہے جس پر حکومت اپنا لیبل لگا رہی ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں ٹینشن نہ لیں جبکہ ٹینشن والی بات توڈاکٹرز کو انہیں بتانی چاہیے جو مجھے ٹینشن دے رہے ہیں۔ادھر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے نواز شریف سے اظہار یکجہتی کیلئے سروسز ہسپتال میں کیمپ جاری ہے جہاں کارکن وقفے وقفے سے نواز شریف کے حق میں نعرے لگاتے رہے ۔

نوازشریف

لاہور(جنرل رپورٹر)ترجمان وزیر اعلی پنجاب شہباز گل نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہسپتال سے جیل منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے نئی رپورٹس کا معائنہ کرنا ہے، پنجاب حکومت نے نواز شریف کو جیل منتقل کرنے کے احکامات بھی جاری نہیں کئے۔شہباز گل کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے رپورٹس کا جائزہ لیکر جو بھی ہدایات دی جائیں گی ان پر عمل ہوگا۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں نوازشریف کو واپس جیل منتقل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

مزید : صفحہ اول