کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شہر شہر ریلیاں ، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں، ایک منٹ کی خاموشی،بھارت کیخلاف نعرے بازی ، کشمیریوں کی سیاسی سفارتی حمایت جاری رکھیں گے پوری قوم کا اعلان ، سپین ، اٹلی بیلجیئم میں بھی احتجاجی مظاہرے

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شہر شہر ریلیاں ، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں، ...

  



لاہور ، اسلام آباد کراچی ، پشاور، کوئٹہ (نمائندہ خصوصی ، سٹاف رپورٹر ، نمائندگان ،بیورو رپورٹ ، نیوز ایجنسیاں) پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا ،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تمام چھوٹے بڑے شہرون میں ریلیاں نکالی گئیں،کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے صبح 10 بجے سائرن بجائے گئے جس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، پاکستان اور کشمیر کو ملانے والے کوہالہ پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، اسپین کے شہر بارسلونا اور اٹلی کے شہر میلان میں بھی احتجاج ہوا، بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے شمعیں روشن کی گئیں، ہاتھوں کی زنجیر بنا کر مقبوضہ مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا، ۔ تحریک آزادی جموں کشمیر کے زیر اہتمام لاہور اسلام آباد فیصل آباد پشاور کراچی خانیوال ، مظفر گڑھ، ڈی جی خاں، بہاولپور، لودھراں، بھکر، بہاولنگر، ڈیرہ اسمعٰیل خاں و دیگر علاقوں میں بھی کشمیر ریلیاں نکالی گئیں۔اسی طرح شیخوپورہ،چکوال،وہاڑی،گجرات،مریدکے، قصور،،تلہ گنگ ،ڈسکہ، کامونکی، وزیرآباد،کھڈیاں خاص، گوجرخان، میر پور، کوٹلی، ہری پور، مانسہرہ، ایبٹ آباد و دیگر شہروں میں علاقوں میں بھی کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اورریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔ منگل کو پاکستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا ، ملک بھر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل تھی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں ۔کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے صبح 10 بجے سائرن بجائے گئے جس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے علاوہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان اور کشمیر کو ملانے والے کہالہ پل پر منعقد ہو ہوئی جہاں ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی،بچوں نے سہیلی سرکار پل سے آزادی چوک تک مارچ کیا۔مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں جس میں مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے وحشیانہ مظالم، خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کو لاپتہ کر کے مارے جانے جیسے افسوس ناک واقعات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا گیا ۔ وفاقی وزیر امورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے ، ہاتھوں کی زنجیر میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا مظہر ہے ، انہوں نے کہا کشمیریوں کی قربانیوں اور پاکستان سے کشمیریوں کی وابستگی کو سلام پیش کرتے ہیں ، کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے ، مسلہ کشمیر کے حل سے متعلق عالمی برداری کی بے حسی افسوس ناک ہے ، مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام بھارتی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں ، علی امین گنڈاپور نے کہا بھارت اسرائیل طرز پر مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے ، ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں انکوائری کمیشن بھجا جائے ، مسلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف اسپین کے شہر بارسلونا میں احتجاج کیا گیا جب کہ اٹلی کے شہر میلان میں بھی احتجاج ہوا، بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے شمعیں روشن کی گئیں اور ہاتھوں کی زنجیر بنا کر مقبوضہ مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ لندن میں تاریخی ریلی بریڈ فورڈ، برمنگھم، مانچسٹر اور گلاسگو سمیت مختلف شہروں میں نکالی گئی۔دریں اثناسیاسی، مذہبی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، وکلاء، طلباء4 اور تاجر رہنما?ں نے تحریک آزادی جموں کشمیر کی مال روڈ پریکجہتی کشمیر ریلی اور جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چناب فارمولہ سمیت تقسیم کشمیر کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کی کوشش کی گئی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ یہ فیصلہ کن وقت ہے حکمران ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے‘ اسے ختم کیا جائے۔ حکمران لاکھوں شہداء4 کے خون کے امین ہیں‘ کسی نے بے وفائی کی کوشش کی تو سوائے ذلت کے کچھ نہیں ملے گا۔ انڈیا نے کشمیر سے فوج نہ نکالی تو کشمیری اور پاکستانی قوم میدان میں رہے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کابینہ کے ہمراہ اقوام متحدہ دفتر کے باہر دھرنا دیں اور صاف کہہ دیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملنے تک دھرنا جاری رہے گا۔آزادی کشمیر سے پاکستان کے پانیوں کا مسئلہ بھی حل ہو گا۔جلدیکجہتی کشمیر کارواں اظہار تشکر کارواں میں بدلے گا۔ استنبول چوک سے اسمبلی ہال تک کشمیر ریلی میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یکجہتی کشمیر ریلی اور جلسہ عام سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید ، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ،مولانا امجد خاں، مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ضیاء4 اللہ شاہ بخاری، محمد یعقوب شیخ، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، میاں راشد علی، رضیت باللہ، شیخ نعیم بادشاہ، ابوالہاشم ربانی، ایس ڈی ثاقب،عقیل چوہدری ایڈووکیٹ، محمد شفیق بٹ، قاری محمد داد،محمد سرفراز خان، چوہدری محمد احسان،چوہدری عنایت علی گجر،حافظ خالد ولید، سید عبدالوحید شاہ، مولانا ادریس فاروق، حافظ عثمان شفیق، محمد شفیق گجر ودیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر لاہور کے مختلف علاقوں سے ریلیاں ترتیب دی گئیں جن کے استنبول چوک پہنچنے پر ایک بہت بڑا جم غفیر دیکھنے میں آیا۔شرکاء4 کی جانب سے کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ، سید علی گیلانی،حافظ محمد سعید قدم بڑھاؤہم تمہارے ساتھ ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے۔امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ اس وقت فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ ٹرمپ مودی کو اکیلا چھوڑ کر جارہا ہے۔ بھارت خوفزدہ ہے کہ امریکہ کے نکلنے پر انڈیا کا کیا بنے گا؟۔کشمیر میں جتناظلم مودی کے دور میں ڈھایا گیا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ قاتلوں کے بھاگنے اور مظلوموں کی آزادی کا وقت ہے۔اس کا آغاز ہو چکا ہے۔

شہر شہر ریلیاں

مظفرآباد(آئی این پی ) صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس سے خطاب کے دوران بھارت سے 8 مطالبات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، آزادی اظہار کی اجازت دے، نہتے کشمیریوں پر آتشیں اسلحے کا استعمال بند کیا جائے، بھارت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال بند کرے، جارحانہ کالے قوانین واپس لیے جائیں، بھارت کشمیری قیادت کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے بیرون ملک جانے دے، انسانی حقوق کے مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کے راستے کھولے جائیں،بھارت عالمی و سوشل میڈیا کے لیے کشمیر کے رابطے کھولے، گرداس پور پاکستان کے پاس آتاتو بھارت کا کشمیر سے رابطہ نہ ہو سکتا،بھارت جتنی کوشش کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا،ظلم کا شکار کشمیری تاریخ رقم کرتے جا رہے ہیں،بھارت میں ووٹ لینے کے لیے سیاستدان مسئلہ کشمیر کو فٹ بال بناتے ہیں، خود ساختہ مقابلے بنا کر بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ منگل کو صدر عارف علوی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سامنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، بھارت آزادی اظہار کی اجازت دے تاکہ کشمیری اپنی بات کہہ سکیں۔صدر عارف علوی نے کہا نہتے کشمیریوں پر آتشیں اسلحے کا استعمال بند کیا جائے، بھارت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال بند کرے، جارحانہ کالے قوانین واپس لیے جائیں، بھارت کشمیری قیادت کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے بیرون ملک جانے دے۔صدر مملکت نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کے راستے کھولے جائیں تاکہ وہ خود جاکر کشمیر میں دیکھ سکیں اور بھارت عالمی و سوشل میڈیا کے لیے کشمیر کے رابطے کھولے۔خطاب کے دوران صدر عارف علوی نے کہا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہے، کشمیری عوام کسی قوت کا تسلط تسلیم نہیں کرتے اپنا فیصلہ خود کریں گے، کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیریوں کو کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدیوں سے کشمیری بھائی ظلم سہتے آئے ہیں، بھارت جتنی کوشش کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، ظلم کا شکار کشمیری تاریخ رقم کرتے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کارروائی کی جاتی ہے تو انٹرنیٹ سروس بند کردی جاتی ہے، وہاں ہونے والے ایک ایک ظلم کی تصویر دنیا کے سامنے لانا ہوگی۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گرداس پور پاکستان کے پاس آتاتو بھارت کا کشمیر سے رابطہ نہ ہو سکتا، با ؤ نڈری کمیشن نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازش کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بلاتفریق حمایت کرتے ہیں، بھارت میں ووٹ لینے کے لیے سیاستدان مسئلہ کشمیر کو فٹ بال بناتے ہیں، خود ساختہ مقابلے بنا کر بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت آئی تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت نے اسے رد کیا جس پر افسوس ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی صدر سے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حقائق جاننے کے لیے کمیشن کو وہاں بھیجا جائے، بھارت نے کمیشن کی مخالفت کی کیونکہ اس کے پاس دلائل نہیں جب کہ پر امن جدوجہد کو ہتھیاروں سے دبایا جا رہا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے کہا ہے کہ کشمیری عرصہ دراز سے اپنی شناخت کے لیے لڑرہے ہیں،مقبوضہ کشمیرمیں شہید کو پاکستانی پرچم میں سپرد خاک کیا جاتا ہے، پاکستان نے مسئلہ کشمیر کوپوری دنیا میں اجاگررکھا ہے، ہمارا رشتہ وطن عزیز پاکستان کے ساتھ ہے، کشمیرکی قربانیوں کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ مظفرآباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیرقانون سازاسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ایل اوسی، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بربریت جاری ہے۔فاروق حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکی حریت قیادت کی استقامت کوسلام پیش کرتے ہیں، کشمیری عرصہ درازسے اپنی شناخت کے لیے لڑرہے ہیں، آج تک کشمیریوں نے اپنی شناخت زند ہ رکھی ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں شہید کو پاکستانی پرچم میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کوپوری دنیا میں اجاگررکھا ہے، ہمارا رشتہ وطن عزیز پاکستان کے ساتھ ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی قربانیوں کی مثال کہیں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اورپاکستانیوں کا رشتہ قائداعظم نے قائم کیا، مفکرپاکستان علامہ اقبال پاکستان وکشمیرکی یکجہتی کے علمبردارتھے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدر پاکستان کی آزاد کشمیر آمد اور قانون ساز اسمبلی میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم پاکستان بھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ آتے۔

مزید : صفحہ اول


loading...