زیر زمین پانی کے استعمال پر مجوزہ ٹیکس پر تشویش ہے،آپٹما

زیر زمین پانی کے استعمال پر مجوزہ ٹیکس پر تشویش ہے،آپٹما

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت ایک طرف برآمدات کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو دوسری طرف ایکسپورٹ انڈسٹری کی کاروباری لاگت بھی بڑھا رہی ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی میں چھ فیصد حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہے جبکہ برآمدات میں ٹیکسٹائل کا شیئر اٹھاون فیصد ہے۔ پانی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خام مال کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ حکومت زیر زمین پانی کے استعمال پر ٹیکس بڑھانے پر غور کر رہی ہے جس پر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رضوان اشرف کہتے ہیں کہ انڈسٹری پانی کے بل باقاعدگی سے ادا کر رہی ہے۔ اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری تیرہ ہزار روپے فی کیوسک پانی کی قیمت واسا کو دے رہی ہے۔ ایک چھوٹا انڈسٹریل یونٹ دو سے تین کیوسک پانی ماہانہ استعمال کر رہا ہے۔ بڑے پیداواری یونٹ بیس کیوسک تک پانی استعمال کر رہے ہیں۔ٹیکسٹائل صنعت میں پانی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر حکومت نے زیر زمین پانی کو مزید مہنگا کر دیا تو انڈسٹری عالمی منڈی میں دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقت کھو دے گی۔

آپٹما

مزید : صفحہ آخر


loading...