ماسکو مذاکرات ،اافغانستان کے مفاد اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں ،افغان حکام

ماسکو مذاکرات ،اافغانستان کے مفاد اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں ،افغان حکام

  



کابل(آئی این پی) سینئرافغان حکام نے خبردار کیا ہے کہ طالبان عسکریت پسند اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت اپوزیشن سیاست دانوں کے درمیان مذاکرات افغانستان کے بہترین مفاد اور جمہوری اصولوں سے دھوکا دہی ہے،بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان وفد اور افغان اپوزیشن رہنماں کے درمیان مذاکرات کا آغاز منگل سے ماسکو میں ہو ا، یہ مذاکرات قطر میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والی بات چیت کے 10روز بعد ہورہے ہیں، ذرائع کا کہنا تھا ماسکو نے طالبان کی نمائندگی یقینی بنانے کیلئے افغان حکومتی حکام کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ طالبان پہلے ہی مغربی حمایت یافتہ صدر اشرف غنی کو امریکا کا کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں، اشرف غنی کے چیف ایڈوائزر فاضل فضلی نے 'افسوس' کا اظہار کیا کہ وہ سیاستدان جو پہلے افغانستان کی جمہوری تبدیلی کی قیادت کرتے تھے وہ طالبان سے ملاقات کر رہے ہیں، ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا یہ ان اصولوں کو بائی پاس کرنے کیلئے تیار ہیں اور اختلافات اور طاقت سے دور ہونے کی وجہ سے ان اصولوں کی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں،حکومتی چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا غیر ملکی افواج کے انخلا ء سے طالبان اپنے مقاصد کو حاصل کرلیں گی، اس لیے مذاکرات کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

افغان حکام

مزید : صفحہ آخر


loading...