افغانستان ، حملے اور جھڑپوں میں خاتون سمیت 39سیکیورٹی اہلکار ہلاک ، 22طالبان مارے گئے

افغانستان ، حملے اور جھڑپوں میں خاتون سمیت 39سیکیورٹی اہلکار ہلاک ، 22طالبان ...

  



کابل (آن لائن) افغانستان طالبان کے حملے ، افغان فورسز سے شدید جھڑپوں میں خاتون سمیت 39سیکیورٹی اہلکار ہلاک،25 دیگر زخمی،22طالبان بھی مارے گئے، طالبان اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ، طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائی ایسے وقت پر کی گئی جب روس میں طالبان اور افغان رہنماؤں کے مابین امن مذاکرات کا عمل جاری ہے،اس حوالے سے صوبائی کونسل کے سربراہ صفدر محسنی نے بتایا کہ بغلانی مرکزی ضلع میں طالبان نے مقامی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور ان کے درمیان 2 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، طالبان کے حملے میں 5 افغان پولیس ہلکار بھی زخمی ہوئے تاہم حملہ آوار اپنے ہمراہ اہلکاروں کا اسلحہ اور بارود ساتھ لے گئے۔دوسری جانب طالبان نے صوبہ سمنگان میں حکومت حامی ملشیا پر حملہ کیا جس میں خاتون سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان صدیق عزیزی نے بتایا ضلع ڈیڑہ ون صف میں طالبان کے حملے میں 4 افراد بھی زخمی ہوئے، طالبان نے مقامی کسانوں کو نشانہ بنایا جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔طالبان نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔صوبائی کونسل کے نائب سربراہ سیف اللہ امیر ی کے حوالے سے افغان میڈیا نے بتایا ہے صوبائی صدرمقام قندوز کے مضافات خواجہ پاک اور تلواکہ میں طالبان شدت پسندوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر شدید حملے کیے جس میں افغان سیکیورٹی کے 28 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔امیری کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 25 افغان آرمی اور 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ ادھر افغان وزارت دفاع نے جاری بیان میں صوبہ قندوز میں حملے اور جھڑپ میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات نہیں دی ہیں جبکہ دعویٰ کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں 22 طالبان ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے ہیں۔

افغانستان /حملے

مزید : علاقائی


loading...