شکاری نے 18کروڑ 50لاکھ سال پرانا محجر دریافت کرلیا

شکاری نے 18کروڑ 50لاکھ سال پرانا محجر دریافت کرلیا

  



یارکشائر(این این آئی) محجرات کے ایک شکاری نے سنہرا ’’توپ کا گولہ‘‘ توڑ کر 18کروڑ 50لاکھ سال پرانا محجر دریافت کرلیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ یارکشائر کے ساحل پر پیش آیا جہاں 22سالہ آرون اسمتھ سیر و تفریح کر رہا تھا۔ اس نے اس چٹان کو دیکھا جو آئرن پائرائٹ نامی کیمیائی مرکب میں لتھڑی ہوئی تھی۔واضح رہے کہ پائرائٹ سے بنی یہ چٹانیں آھنی ساخت کے اعتبار سے کینن بال یعنی توپ کا گولہ کہلاتی ہیں۔ اسمتھ نے سینڈ سنڈ نامی ساحل پراس چٹان کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ اس میں پائی جانے والی چمک کسی نہ کسی محجر کا پتہ دے رہی ہے۔ اسمتھ نے یہ خیال کیا کہ شاید اس چٹان کے اندر کوئی محجر موجود ہو۔ماہرین کے مطابق ’’کلیویسیراز‘‘ کہلانے والی یہ گولڈن بالزنایاب قسم کی ’’سفیلوپوڈز‘‘در حقیقت ’’ہلڈوسیریٹیڈی‘‘نامی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جو جراسک دور میں پائی جاتی تھی۔آج کے دور میں کیکڑے اور اسکویڈز اس کی مثال ہیں تاہم یہ محجر کی شکل میں اس لئے نہیں پائے جاتے کیونکہ ان کے خول سخت نہیں ہوتے۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ کلیویسیراز اور ایمونائٹ جیسے محجرات عام طور پرکینن بال کے عونے کی کور کے اندر پائے جاتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر